تم لوگ کراچی لوٹ مار اور ہمیں تنگ کرنے کے لیئے آتے ہو لیکن اب ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے

آج 20مئی 2020 کو میں 12 بجے کے قریب خالد بن ولید روڈ سے گذر رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ سڑک کی دوسری جانب تین ٹریفک پولیس کے اہل کار سے شوروم پر کام کرنے والا ایک پٹھان الجھ رہا ہے۔میں کیا دیکھتا ہوں

کہ وہ اکیلا پٹھان ان تینوں ٹریفک اہل کاروں کو برا بھلا کہتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ تم سندھی کراچی میں لوٹ مار کے لیئے آئے ہو۔تم لوگ یہاں خدمت کے لیئے تو آئے نہیں ہو۔ابھی میں ایک آواز دوں گا تو یہاں پورا محلہ(کراچی والے)اکھٹا ہو جائے گا اور تمہاری وردی اتار کر تمہیں ننگا کر کے سندھ بھیج دے گا۔تم لوگ کراچی لوٹ مار اور ہمیں تنگ کرنے کے لیئے آتے ہو لیکن اب ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ایک پولیس والے کو میں نے کچھ زور دکھاتے ہوئے بھی دیکھا لیکن ان کے ساتھی اسے پکڑ کر بھاگ گئے۔وہاں کراچی والے اکھٹے ہونا شروع ہو گئے تھے اور ٹریفک پولیس کے خلاف ان کے دل میں جو نفرت کی آگ بھڑک رہی ہے اس کا عملی مظاہرہ میں نے آج خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک پٹھان کی آواز پر لوگ قومیت کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں اکھٹے ہو گئے تھے۔میں سڑک کے دوسری جانب کھڑا یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔میرے کانوں میں انقلاب کے اٹھتے ہوئے شعلوں کی دھمک گونج رہی تھی اور میں عنقریب کراچی کو آگ کے شعلوں میں جلتا ہوا دوبارہ دیکھ رہا تھا۔
ذرا سوچئے جو پولیس والے سندھ سے دھڑا دھڑ مال بنانے کے چکر میں غیر قانونی ٹرانسفر کراکے آرہے ہیں کہیں ان کی وجہ سے کراچی میں ایک بار پھر بلوے اور فسادات نہ پھوٹ پڑیں۔۔۔؟اگر تو ابھی سے ہی ان لوگوں کا تعین کر لیجیئے۔
اگر وزیر اعلی سندھ۔۔۔۔ان کے وزراء اور ان کے مربی اس آگ کو بھڑکانے میں ملوث پائے گئے تو ان کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیئے جو ایک قاتل کے ساتھ ہوتا ہے۔؟
M-Ali-karachi