ہمیں ٹائیگرفورس کےنام پر اعتراض ہے اور اس پر تحفظات ہیں لیکن اس کے باوجود چیف سیکریٹری سندھ نے ڈپٹی کمشنرز کو ٹائیگر فورس کے ساتھ تعاون کے لیے لیےخط لکھ دیاتھا۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی اوت وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی عبادات کے سلسلے میں وفاقی حکومت کےبیس نکات پر عمل کیاجائےگا اور ان ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے شب قدر کی عبادات بھی کریں گے اور جمعہ کی نماز اور عید کی نماز کے اجتماعات بھی ہونگے.

ہمیں ٹائیگرفورس کےنام پر اعتراض ہے اور اس پر تحفظات ہیں لیکن اس کے باوجود چیف سیکریٹری سندھ نے ڈپٹی کمشنرز کو ٹائیگر فورس کے ساتھ تعاون کے لیے لیےخط لکھ دیاتھا۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور میئر کراچی کو ہٹانے یا معطل کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں. ۔ صوبائی وزیر تعلیم و محنت نے کہا کہ سندھ میں کورونا کیسزباعث تشویش ہیں۔ ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی بات کرتی تھی لیکن جب سے یہ اقتدار میں آ ئے ہیں ان کا ایک ایک قدم اس بات کی نفی کرتا ہے. ان خیالات کا اظہار ان وزراء نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر وزیر اطلاعات ، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات و مذہبی امور سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ٹائیگر فورس نے کرناکچھ نہیں ہے یہ صرف باتیں بناتے ہیں لیکن ہم خیر وبھلائی کا کام کرنے والی فورس کا خیر مقدم کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج انکی قدیمی خواہش ہے اور ان کوساری چیزیں سندھ میں ہی نظر آتی ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ دیگر صوبوں میں جہاں انکی حکومت ہے وہاں کیوں بات نہیں کرتے ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت کےاقدامات ان کو ہضم نہیں ہورہے انہوں نے کہا کہ یہ خود لاک ڈاون کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں اوراب لاک ڈاون کی مخالفت کررہےہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سب رجسٹرار دفاتر پنجاب میں بھی کھولےگئے ہیں لیکن سندھ کی اچھائی بہتری پر کبھی بات نہیں کی جا تی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور میئر کراچی کو ہٹانے یا معطل کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ میئر اسلام آباد کو ہٹانے پر تشویش ہے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جس کو مینڈیٹ ملا ہے اسکو پورا کرناچاہیے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کےفیصلے بدنیتی پر مبنی ہیں دریں اثنا صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہا کہ بیس نکاتی ایس او پیز کےتحت عید نماز ہونگی اور نماز عید کےلیے کھلے میدان پارکس کی نشاندہی کی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوگی تو ایک ہی جگہ ایک سے زائد مرتبہ نماز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جلوس کی اجازت نہیں تھی اور ہم نے جو بھی فیصلے کیےماہرین کےمشورے پرکیے اورعلما کرام نے ہمارے فیصلوں پر عمل بھی کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ بازاروں میں لاپرواہی کی جارہی ہے اور بڑے پیمانے پر مجمع لگانے کی اجازت مل گئی ہے اس لئے اب درست نہیں ہوگا کہ عید اور مساجد میں نماز پر پابندی لگائی جائے۔انہوں نے کہا کہ کسی صوبے میں کانٹیکٹ کو ٹریس نہیں کیاجارہا۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں عالمی ادارہ صحت کےاصولوں کےمطابق ٹیسٹ کیےجارہے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم و محنت نے کہا کہ سندھ میں کورونا کیسزباعث تشویش ہیں۔ ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی بات کرتی تھی لیکن جب سے یہ اقتدار میں آ ئے ہیں ان کا ایک ایک قدم اس بات کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نیا مسئلہ جو کہ سندھ کے لئے بڑا اہم ہے اس میں بھی انہوں نے قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہیں وہ مسئلہ ارسا میں صوبوں کے نمائندوں کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا فیصلہ سب کے سامنے ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم صوبوں کے نمائندوں کو ہٹا رہے ہیں اور وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ مکمل طور پر قانون و آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا کا قانون اس معاملے میں واضح ہے کہ اگر وفاقی حکومت کسی نمائندہ کو بدلنا چاہے تو صوبہ سے مشاورت لازمی ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام ارسا ایکٹ 1992 کی کھلی خلاف ورزی ہے اور سندھ حکومت اس معاملے میں وفاقی حکومت کو خط لکھے گی اور اگر اس معاملے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔