اپوزیشن ارکان کا گو مراد گو مراد کی نعرے بازی

اپوزیشن ارکان کا گو مراد گو مراد کی نعرے بازی

ایم کیوایم رکن خواجہ اظہار الحسن کا سندھ اسمبلی کے علامتی اجلاس سے خطاب

اسپیکر آغا سراج درانی کے فیصلے کی مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے اپنے منصب سے انصاف نہیں کیا۔
پیپلز پارٹی کا اسپیکر پر بڑا دباؤ ہے۔
کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر دباوہ ہے۔


اسپیکر اسمبلی نے اجلاس ملتوی کر کے پیپلز پارٹی کو رائے فرارا اختیار کرنے میں مدد دی۔
اگر حکومت اپوزیشن کی بات کو برداشت نہیں کرسکتی تو یہ حکومت نہیں ڈیکٹیٹرشپ ہے۔
کورونا میں پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں سنبھال سکتی ہے۔


خصوصی طور پر پاکستان کے معاشی حب کو لاوارث چھوڑ دیا۔
پورے صوبے میں بسنے والا کوئی ایک مکتبہ فکر حکومت سے مطمئن نہیں ہے۔
اسپتال میں ہونے والی ہر موت کورونا کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔
حکومت اعدادوشمار بتا کر خوف وہراس پھیل رہی ہے۔

چار چار وزراء روزانہ کہتے ہیں کراچی بند کر دیں۔
اگر کراچی بند کر دیں گے تو کراچی کو پالے گئے کیسے۔
چھوٹے دکاندار، علماء ، سیاست دان مطمئن نہیں ہیں۔
حکومت سے کون مطمئن ہے؟
تاجروں کے قرضے وفاق کیوں فراہم کرے۔
سندھ بینک کسی کے باپ کی جاگیر ہے۔
جب سندھ بینک بنا تھا اور سندھ بینک کو اپنی جاگیر بنا لیا۔
سندھ بینک اگر تاجروں اور اساتذہ کو قرضے نہیں دے سکتا ہے تو اس بینک کو بند کر دیں۔
وفاق سے پیسا آنا تھا تو این ایف سی کا خط لکھ دیا۔
شرم آنی چاہیے پی ایف سی نہیں دیابگیا۔
لاڑکانہ سے کتے میں کاٹنے والا کراچی میں آکر دم توڑ دیتا ہے۔