کرونا وائرس عالمی سازش اور پاکستان

—تحریر:طارق جاوید
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بلا مبالغہ میڈیا ,WHO اور اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 3 لاکھ 40 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے لیکن میرا موجودہ حکمرانوں ، اقوام عالم اور عالمی اسٹیبلشمنٹ سے ایک سوال ہے کی جب یہ پروو ہو چکا ہے کہ مرنے والے شخص سے وائرس نہیں پھیلتا تو ابھی تک پوری دنیا میں کرونا وائرس سے مرنے والے کسی ایک بھی شخص کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کیا گیا ،کیوں کسی ایک بھی شخص کے cause of death کرونا وائرس نہیں آیا
نومبر کے وسط میں چین سے پھیلائے جانے والے وائرس نے اتنی تباہی نہ پھیلائی ہو جتنی عالمی میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں خوف و ہراس کے ساتھ کی گئی ہے

دینا بھر میں ترقیوں کے نام پر قابض مافیا پوری دنیا کو خوف میں مبتلا کر کے اپنے کنٹرول میں کرنے کیلئے جو سازش کر رہا ہے عالمی اسٹیبلشمنٹ کی چھتری کے نیچے دنیا بھر میں موجود حکمرانوں نے اس کا مقابلہ کرنے، خود تحقیق کرنے یا اصل حقائق تک پہنچنے کی رتی برابر بھی کو شش نہیں کی اسکی زندہ مثال ہمارے اپنے حکمران ہیں
چین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پرپاکستان سمیت پوری دنیا میں میں ایک تاثر یہ تھا کہ امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اے خائف ہے یہ اس کو روکنے کیلئے عالمگیر سازش ہے مگر امریکہ، برطانیہ، اٹلی، اسپین، فرانس، سمیت دیگر یورپی ممالک میں کرونا وائرس کے متاثرین میں اچانک اضافے نے ان خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ چینی معیشت پر ایک بہت ہی خطرناک اور کاری وار کیا جا چکا ہے
اب آتے ہیں سازشوں کے جنگل میں کرونا ہی کیوں کامیاب ہوا ،کرونا وائرس پوری دنیا میں پایا جاتا ہے تازہ ترین صورتحال کیا ہے اور تحقیق کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد اس وائرس سے متاثر ہوتے اور ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر اس دفعہ ” کرونا فیئر” کیوں پوری دنیا میں پھیلایا گیا عالمی سازشوں کے اس بازار میں جہاں انسانیت کا منجن بیچنے کے لئے عراق افغانستان کو انسانوں کے قبرستان میں تبدیل کردیا جاتا ہے وہاں ایجنڈا 2021 کے تحت پوری دنیا کو خوف میں مبتلا کر کے بل گیٹس اینڈ میلنڈا فانڈوش اپنے آبائی مشن کو کامیابی کی طرف گامزن کرنے میں مصروف عمل نظر اتے ہیں وہاں پوری دنیا میں پیسے کو ہی اپنا مائی باپ ماننے والوں کیلئے خوف بیچ کر کمائی کا موقع ہاتھ آ گیا ایسے میں دنیا بھر میں عام بیماریوں سے مرنے والوں کو بھی کرونا ڈیکلیئر کرانے کا باریک کام بھی ہوا حالانکہ پوری دنیا میں صرف جنوری اور فروری کے دومہینوں کینسر سے مرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ سے زائد ہے جبکہ حادثات میں لاکھوں افراد الگ ہلاک ہوئے ،
پاکستان کے حکمرانوں نے تو پہلے دن سے ہی کرونا وائرس کے نام پاکستانی قوم کے ساتھ مذاق کرنا شروع کر دیا تھا لاک ڈون ہو گا نہیں ہو گا ہمارے وزیراعظم کو کچھ پتا نہیں تھا بقول وزیراعظم اشرافیہ نے بغیر سوچے سمجھے “لاک ڈون” لگایا بغیر یہ سوچے کہ غریب اور دہاڑی دار تو کرونا وائرس سے نہیں بلکہ بھوک سے مر جائے گا عجیب تماشا بنا دیا ہے اس ملک کو ۔۔۔۔۔۔۔
اس عالمی سازش کو بےنقاب کرنے میں پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر اقبال عادل کا بہت ہاتھ ہے جو ورلڈ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین بھی ہیں بقول ان کے کہ کروناوایئرس”کی آڑ میں پوری دنیا اور خصوصا مسلم ممالک کے خلاف ایک خوفناک اور خطرناک سازش ہے جس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے مسلمانوں کو متحد بھی ہونا ہو گا دنیا بھر کی آبادی کمی کی اس عالمی سازش کو بےنقاب کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس سے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردارں کے چہرے بےنقاب ہو جائیں گے
اب پوری دنیا میں خوف و ہراس میں کمی بھی آئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں لوگ اس عالمی سازش کو بےنقاب کرنے کیلئے باہر بھی نکل آئے ہیں جس کے نتیجے میں Who نے اس عالمی وباء کی مختلف علامات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس وبا کو ہمیشہ کیلئے ختم نہ ہونے کا بھی بتا دیا یے
پاکستانی ڈاکٹرز جو میڈیسن کمپنیوں کی ادویات صرف پیسوں کیلئے لکھتے ہوں جو صرف پیسوں کیلئے غریب عوام کے مہنگے میڈیکل ٹیسٹ کراکےکمیشن لیتے ہوں وہ اپنی جیب بھرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتےہیں
باقی پاکستان میں مرنے والوں میں سے واقعی کسی کی کرونا وائرس سے موت واقع ہو ئی ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے دوسری طرف سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز ملک بھر لاک ڈون ختم کرنے اور مارکیٹس کھولنے کا حکم دیا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے کے چار دنوں میں جب حکومت نے صبح 8 سے شام 5 بجے تک لاک ڈون کی پابندی میں نرمی کو تو صرف چار شہروں میں 32 ارب روپے سے زائد کی خریداری ہوئی ہے سپریم کورٹ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ لوگ کورونا وائرس سے بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں، شاپنگ سینٹر ہفتہ اور اتوار کو کھولنے کا حکم عید کے تناظر میں تھا، عید کے بعد صورتِ حال کا جائزہ لے کر سماعت کریں گے۔
عدالت عظمیٰ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں، سروسز کے معیار پر ہے، کورونا کے مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
انہوں نے کہاکہ ملازمین کا کورونا ٹیسٹ سرکاری لیب سے مثبت اور نجی لیب سے منفی آیا، لوگوں کو سہولتیں دینے کیلئے ہیومن ریسورس ہے مگر وہ بہتر کام نہیں کر رہی، جب مریض ان کے پاس پہنچتا ہے تو وہ پھنس جاتا ہے، نیشنل اسپتال لاہور سے ایک آدمی کی ویڈیو دیکھی، وہ رو رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سلام پیش کرتے ہیں، لیکن اس عملے میں جو خراب لوگ ہیں وہ تشویش کی وجہ ہیں، لاہور ایکسپو سینٹر اور اسلام آباد میں قرنطینہ سینٹرز سے لوگوں کی ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں، لوگ غصے میں کہہ رہے ہیں کہ باہر مرجاؤ لیکن پاکستان نہ آؤ، دس دس لوگ قرنطینہ سینٹر میں ایک ساتھ بیٹھے ہیں، یہ کیسا قرنطینہ ہے؟ ان قرنطینہ سینٹرز میں کوئی صفائی کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر چیز پیسہ نہیں ہوتی، پیسوں کیلئے کھیل نہ کھیلیں، پیسہ اہم نہیں ہے بلکہ انسان اہم ہیں، پاکستان کی معیشت کا موازنہ افغانستان، صومالیہ، یمن کے ساتھ کیا جاتا ہے، پاکستان غریب سے غریب ترین قوم ہے، اس طرف کسی کو دھیان نہیں، عمومی تاثر ہے کہ وسائل غیر متعلقہ افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا وائرس کا شکار مریض غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہوتا ہے، مریض کو بھی حتمی طور پر یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہے یا نہیں، لاہور میں 4 افراد کا سرکاری کورونا ٹیسٹ مثبت آیا، پرائیویٹ لیب سے منفی آیا، لواحقین چلاتے رہتے ہیں ان کے مریض کو کورونا کا مرض لاحق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسپتال والے کورونا مریضوں سے لاکھوں روپے لیتے ہیں، کورونا وائرس کے شکار مریض کو دنیا جہان کی دوائیاں دے دی جاتی ہیں، ایک کلپ دیکھا ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کورونا نہیں لیکن ڈاکٹر چھوڑ نہیں رہے تھے، ایسی صورتِ حال کا کیا کریں؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ قرنطینہ سینٹرز میں واش رومز صاف نہیں ہوتے، پانی نہیں ہوتا، سوشل میڈیا پر قرنطینہ سینٹرز کی حالتِ زار کی ویڈیوز چل رہی ہیں، قرنطینہ سینٹرز کے مشتبہ مریض ویڈیوز میں تارکینِ وطن کو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نہ آئیں، ہمارے لوگوں کو جانوروں سے بدتر رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکار کے تمام وسائل کو لوگوں پر خرچ ہونا چاہیے، صرف 2 فیصد مخصوص کلاس کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں ہونے چاہئیں، این ڈی ایم اے شہروں میں کام کر رہا ہے، دیہاتوں تک تو گیا ہی نہیں، جتنے قرنطینہ سینٹرز قائم ہوئے ہیں وہ صرف شہروں میں ہیں، دیہات میں لوگ پیروں کے پاس جاکر دم کروا رہے ہیں، حاجی کیمپ قرنطینہ سینٹر کے حالات آپ کے سامنے ہیں، ایک دفعہ جو بندہ قرنطینہ سینٹر پہنچ گیا وہ پیسے دیے بغیر باہر واپس نہیں آسکتا، قرنطینہ سے بندہ باہر نہیں آسکتا چاہے وہ نیگیٹو ہی کیوں نہ ہو۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے عدالت کو بتایاکہ این ڈی ایم اے کی وجہ سے 10 پی پی ای کٹس تیار ہو رہی ہیں، 1 ہزار 187 وینٹی لیٹرز کا آرڈر دیا تھا، جس میں سے 300 پاکستان پہنچ چکے ہیں، 20 اپریل کے بعد اب تک کوئی پی پی ای کٹ پاکستان نہیں منگوائی۔
چیف جسٹس گزار احمد نے کہا کہ امریکا میں ہر چیز کا معیار دیکھا جاتا ہے، ہمارے یہاں جو سامان منگوایا جاتا ہے اس میں معیار نہیں دیکھا جاتا، ہمیں معیاری سامان چاہیے، این ڈی ایم اے سارا سامان چین سے ایک ہی پارٹی سے منگوا رہا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ پرائیویٹ لوگ بھی مشینیں اور سامان منگوا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے انہیں ہدایت کی کہ آپ کو ہر چیز اپنے ملک میں بنانی چاہیے، باہر سے نہ کوئی آپ کو دے گا اور نہ آپ سے لے گا، کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور دیگر سامان اپنے ملک میں تیار کریں، میں بہت سی کمپنیوں کا لیگل ایڈوائزر رہا ہوں، وہ سب غلط پالیسیوں کی وجہ سے بند ہوگئیں، آپ پبلک یا پرائیویٹ سطح پر کام کریں، لوگوں کو نوکریاں ملنی چاہئیں، ہر چیز چین سے منگوائی جا رہی ہے، پاکستان میں چین سے گھٹیا مال منگوایا جاتا ہے جو 10 روپے کا لےکر ہزار کا یہاں بیچتے ہیں، امریکا میں کھلونے کے رنگ کو بھی چیک کیا جاتا ہے کہ اس سے بچے کو الرجی تو نہیں ہوگی، یہاں سب کچھ بارڈر سے بغیر چیکنگ آجاتا ہے، مسئلہ ملکی پیداوار کا ہے تاکہ ریونیو بڑھے اور نوکریاں ملیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ صومالیہ سے بھی نیچے چلے جائیں گے، آپ غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں، ملک کے وسائل تمام عوام کے لیے ہیں، صرف 2 فیصد لوگوں کے لیے نہیں، آپ صرف شہروں میں کام کر رہے ہیں دیہاتوں میں کیا ہو رہا ہے آپ کو کچھ پتہ نہیں، دیہاتوں میں لوگ اب بھی دم کروا رہے ہیں، آپ نے کروڑوں روپے لگادیے لیکن کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا، حاجی کیمپ پر آپ نے پیسے لگا دیے، اس سے اب صرف حاجیوں کا کچھ فائدہ ہو جائے گا، ورنہ تو حاجی بھی بدترین حالات میں وہاں گزارا کرتے تھے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ این ڈی ایم اے دیگر اداروں کو بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آپ رقم کے حساب کتاب کو چھوڑیں۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ ہمارے تعاون سے ملک میں 10 لاکھ پی پی ایز بن رہی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حاجی سینٹر قرنطینہ پر 56 کروڑ خرچ کر دیے گئے، حاجی سینٹر خرچے کے باوجود قرنطینہ سینٹر تو نہ بن سکا، چلو حاجیوں کی بہتری ہوجائے گی، قرنطینہ میں جانے والا بغیر پیسے دیے باہر نہیں نکل سکتا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ 20 اپریل کے بعد سے ہم نے ملکی پیداوار میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی، ملک میں اس وقت ماہانہ ایک ملین کٹس تیار کی جا رہی ہیں، ضرورت سے زائد کٹس کو ایکسپورٹ کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے ریمارکس سے عوام سمجھ رہے ہیں کورونا سیریس مسئلہ نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے ٹی وی پر سنا کہ ایک شخص کہہ رہا تھا کہ صبح کے وقت طارق روڈ پر پارکنگ نہیں مل رہی تھی، اس وقت تک ہم نے نہ کوئی آرڈر دیا تھا اور نہ کوئی ریمارکس دیے تھے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بازاروں میں رش چیف جسٹس کی وجہ سے لگ گیا ہے، عوام سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، عدالت کے کل کے حکم سے لوگ سمجھ رہے ہیں کورونا سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے، عدالت کے حکم کے باعث انتظامیہ کو اقدامات کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ریمارکس اور فیصلے دیتے ہوئے معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھا جائے۔عدالتِ عظمیٰ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی۔
آئندہ چند دنوں پورے ملک میں کرونا پازیٹیو مریضوں میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا جس کے بعد ایک بار پھر پورے ملک میں سخت ترین لاک ڈون لگ جائے گا جسکے بارےمیں ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ہونے والا سخت ترین لاک ڈون ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے