کراچی قیام پاکستان سے پہلے کیسا تھا؟

جیسے کئی مہربانوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ سندھ کے باشندوں کو پاکستان بننے سے پہلے اسلام کا پتا نہیں تھا ویسے ہی کئی محترم دوستوں کہ یہ غلط فہمی بھی ہوتی ہے کہ پاکستان بننے سے قبل کراچی کوئی ویران سی جگہ تھی جس کو باہر سے آنے والے لوگوں نے رہنے کے قابل بنایا۔ یا سندھی درختون پہ رھتے تھے۔ نیک مردون نے کرنال سے آکر انہین درختون سے اتارا۔ان کی دم کاٹی۔ انہین پجامہ پہنایا ۔زبان سکھائی۔اور مہذب بنایا۔
کراچی 1947 سے قبل کیسا تھا، اس کے بارے میں ویسے تو بہت مواد موجود ہے لیکن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے تین قابلِ احترام محققین کی تصنیفات کا حوالہ دوں گا۔
شہری ترقی کے نامور ماہرِ جناب عارف حسن کی کتاب “انڈراسٹینڈنگ کراچی” سٹی پریس نے شایع کی ہے۔ مصنف 1947 سے قبل کے کراچی کا تذکرہ کرتے ہوئے صفحہ 18-20 پر مندرجہ ذیل حقائق بیان کرتے ہیں۔
1856 سے 1872 کے دوراں کراچی کا کاروباری حجم 855,103 پائونڈ سے بڑھ کر 50 لاکھ پائونڈ ہو چکا تھا۔
ان ہی برسوں میں کراچی چیمبر آف کامرس قائم ہو چکا تھا
1861 میں سندھ ریلوی کی بنیاد ڈالی جا چکی تھی جس سے کراچی کو کوٹڑی سے ملایا گیا اور یوں کراچی، پنجاب اور شمالی بھارت تک کپاس اور گندم پیدا کرنے والے علائقوں سے منسلک ہو گیا۔
اس ترقی کے نتیجے میں 1872 اور 1901 کے درمیاں کراچی کی آبادی دوگنی ہوگئی
1885 میں کراچی میں ٹرام متعارف کروائی گئی
1885 میں سندھ مدرسہ، 1887 میں ڈی جے سندھ کالج، اور 1889 میں ایمپریس مارکیٹ قائم کئے گئے
کراچی پورٹ اس حد تک ترقی کر چکا تھا کہ جنگِ عظیم دوئم میں انگریز نے اسے فوجی اڈے اور رشیہ کے محاذ کی رسد کے لئے استعمال کیا گیا
کراچی سے تعلق رکھنے والے جناب بہرام سہراب رستمجی اور جناب سہراب کے ایچ کترک نے اپنی مشترکہ تصنیف “کراچی ڈیورنگ برٹش ایرا” جو کہ آکسفورڈ نے شایع کی ہے کراچی کے حوالے سے مندرجہ ذیل حقائق قلمبند کئے ہیں۔

1799 میں جناب جوناتھن کرو نے کراچی سے کسٹمز کی آمدنی کا تخمینہ 80 ہزار روپے لگایا تھا
چارلس میسن نے 1830 میں سندھ رزرو فورس کے برگیڈئر ویلینٹ کے حوالے سے لکھا کہ کراچی کا ہاربر شاندار ہے جس میں پورا سال بیڑے محفوظ طریقے سے چلائے جا سکتے ہیں۔
1850 کی دہائی میں بارٹل فیریئر کے دور مین نارائن جگن ناتھ ہائی اسکول، چرچ مشن ہائی اسکول اور کراچی گرامر اسکول قائم ہو چکے تھے
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے قیام کا بل یکم اپریل1887 سے نافذ ہو چکا تھا
کارلیس کے مطابق 1837 میں کسٹمز سے آمدنی 17 لاکھ روپے سے زائد تھی
1851 میں کراچی میونسپل کائونسل کے پہلے کمشنرز کا تقرر ہوا
1931 میں کراچی میں آل انڈیا انڈسٹریل اینڈ کمرشل نمائش منعقد ہوئی تھی
13 اپریل 1853 میں کراچی میونسپالٹی وجود میں آ چکی تھی
جب انگریزوں نے 1843 میں سندھ پر قبضہ کیا اس وقت کراچی پورٹ پر سالانہ تجارت کا حجم 12 لاکھ 21 ہزار روپے تھا جو 1940 میں بڑھ کر 55 کروڑ روپے کا ہو چکا تھا
فروری 1936 میں انڈین مرچنٹس ایسوسیئیشن کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا جا چکا تھا
1866 میں کراچی میونسپل کی روینیو آمدنی 240,914 روپے ہو چکی تھی
1862 میں اسٹیمپ آفیس اور سمال کازز کورٹ کا قیام عمل میں آ چکا تھا
1882 میں کراچی کو پانی فراہم کرنے کے لئے ملیر ندی پر دو بڑے کنویں اور 20 لاکھ گیلن کی گنجائش کا تالاب تعمیر ہو چکا تھا
ان مختصر حوالاہ جات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 1947 میں کراچی اس خطے کا ایک ترقی یافتہ شہر تھا۔ 1941 کی آدم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 713,900 نفوس پر مشتمل تھی جن میں406,050 یعنی 57 فیصد کی مادری زبان سندھی تھی۔ ہندستاں سے کراچی منتقل ہونے والے افراد خوشنصیب تھے کہ ان کو سندھ میں ملک کا سب سے ترقی یافتہ شہر رہنے کو ملا اور مقامی آبادی نے دہائیوں کی محنت سے بنایا ہوا اپنا سب سے خوبصورت شہر ان کے حوالے کیا۔ اس شہر اور صوبے کی ترقی ہم سب کے اتحاد اور یگانگت سے ہی ممکن ہوگی۔ امید ہے کہ یہ حقائق کراچی کے پس منظر کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
آفتاب میمن، کراچی