بھوک غریب امیر نہیں دیکھتی

صدف رانا

” میں تم سے اور بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہوں، جانتا ہوں تم لوگ سخت حالات میں ہو، فاقے کاٹ رہے ہو، مگر میں یہاں بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتا. بس اتنا کر سکتا ہوں کہ کھانا پینا چھوڑ دوں تاکہ خود کو تمہارے ساتھ تو محسوس کروں ۔۔۔”
یہ وہ خط تھا جس نے سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا. خط لکھنے والا قیدی بھوک ہڑتال کر چکا تھا۔ انتظامیہ کوشش کے باوجود بھوک ہڑتال ختم نہ کرا سکی تو اعلیٰ حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد اس معاملے کی انکوائری ایک نوجوان پولیس افسر کے پاس آ گئی ۔۔۔
یہ قصہ پولیس افسر نے سنایا ۔۔۔ پولیس افسر کے مطابق ۔۔۔
میں نے خط پڑھا تو بے چین ہو گیا۔ فائل اپنے گھر لے گیا اور وہ خط اپنی اہلیہ کو دکھایا تو وہ رونے لگی۔
میں نے اس قیدی کی فائل پڑھی، وہ قیدی ڈکیتی کے الزام میں سزا بھگت رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جن کے گھر میں ڈکیتی ماری تھی انھوں نے مقدمہ کیا اور نہ تھانے آئے، سب کچھ سرکاری مدعیت میں ہوا اور ملزم کو سزا ہو گئی۔
میں اگلے ہی روز ملیر میں اس قیدی کے گھر چلا گیا۔ اس کی اہلیہ اور تین بچے ملیر کھوکھرا پار میں ایک کمرے کے ٹین کی چھت والے گھر میں رہتے تھے۔ صحن ایک کونے میں چولہا رکھ کے کچن اور دوسرے کونے میں چادر کے پیچھے بالٹی اور اینٹیں رکھ کے واش روم اور ٹوائلٹ بنایا گیا تھا۔
میں نے قیدی کی اہلیہ سے تفصیلات پوچھیں تو کہنے لگی کہ وہ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔ کراچی کے خراب حالات کے دوران فائرنگ سے اس کا گدھا مر گیا۔ وہ کئی دن تک مزدوری ڈھونڈتا رہا مگر اسے کام نہ ملا۔ ادھر بچے بھوک سے بلک رہے تھے، محلے والے مدد کر رہے تھے مگر کب تک ۔۔۔

جب زیادہ تنگ ہوئے تو میں نے اسے کہا کہ کہیں سے بھی راشن لے کر آؤ ورنہ میں بچوں کو مار دوں گی۔ وہ خاموشی سے چلا گیا اور پھر شام کو اطلاع آئی کہ ڈکیتی مارتے ہوئے اسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ڈکیت نہیں ہے، اسے میں نے ڈاکو بنا دیا۔ خاتون روتے ہوئے بتا رہی تھی۔
اس گھر کی حالت خاتون کے بیان کی گواہی دے رہی تھی، میں وہاں سے نکل کے اس گھر میں گیا جس میں ڈکیتی ماری گئی تھی۔ انھوں نے جب تفصیلات بتائیں تو میرے ہوش اڑ گئے۔
انھوں نے بتایا کہ دوپہر کے وقت گھر میں خواتین تھیں، وہ شخص پستول کے ساتھ گھر میں داخل ہوا، اور خواتین کو ایک جانب جمع ہونے کا کہا۔ بزرگ خاتون خانہ نے کہا کہ کسی کو کچھ مت کہنا، زیور اور رقم اس الماری میں ہے، وہ لے لو۔ مگر اس نے کہا مجھے رقم نہیں چاہئے، میں بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا، اس لئے شور مت مچانا اور مجھے صرف یہ بتائیں کہ کچن کس طرف ہے، خاتونِ خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے حیرانی اور پریشانی سے اسے کچن بتایا۔ وہ شخص کچن میں گیا، ہم سے ایک چادر لی اور کچن میں موجود راشن چادر میں جمع کر کے روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ہم سے معذرت بھی کر کے گیا۔


خاتونِ خانہ نے کہا کہ ہم تو حیران رہ گئے تھے، اور خاموش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک باہر شور ہوا۔ ہم نے پتا کیا تو معلوم ہوا کسی محلے والے نے مشکوک حالت میں چادر میں سامان سمیٹے اس گھر سے نکلتے دیکھا تو شور مچا دیا، جس پر محلے والوں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ خاتون خانہ اور اس گھر کے مردوں کا کہنا تھا کہ طریقہ واردات اور صرف راشن چوری کرنے سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شخص ضرورت مند ہے، اس لئے ہم نے اس شخص کے خلاف تھانے گئے اور نہ مقدمہ کرایا۔
میں نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا تو اس نے بتایا کہ محلے والے پکڑ کے لائے تھے، اس نے اعتراف بھی کیا کہ ڈاکہ مارا ہے اور اس کے پاس سے جو پستول برآمد ہوا وہ نقلی تھا۔ مقدمہ کرانے کوئی نہیں آیا تھا تو ہم نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے سزا دے دی۔
میں نے انکوائری رپورٹ تیار کی، ساتھ ہی اس گھرانے کے افراد کے بیان لگائے جن کے گھر ڈکیتی ہوئی تھی، اور تفصیل اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔ مقدمہ عدالت میں دوبارہ چلا، اس شخص کو چند دن میں ہی ضمانت اور کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی۔
وہ شخص رہا ہوا تو میں نے اسے کہا کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرنا، اور اسے کچھ رقم دینے کی کوشش کی تو اس نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ مجھے کہیں مزدوری دلوا دیں۔
اب وہ شخص اپنے گھر کی قریبی پولیس چیک پوسٹ پر سویلین ملازم ہے۔
یہ ہڑتالیں اور لاک ڈاؤن کتنے گھر اجاڑتے ہیں، کتنے گھروں میں فاقے کراتے ہیں اور کتنے ڈاکو پیدا کرتے ہیں؟ اس کا اندازہ بےحس حکمران لگا سکتے ہیں اور نہ ہمارا عدالتی نظام۔۔۔