دفاع پاکستان کیلئے جنگ گروپ کی خدمات

-سیّد ضیاء عباس

مجھے اس بات پر سخت حیرت ہے کہ جس میڈیا گروپ نے قیامِ پاکستان سے استحکامِ پاکستان تک اس کے علاوہ پاک بھارت جنگوں میں دفاع پاکستان کے حوالے سے مثالی کردار ادا کیا اس کا مالک میر شکیل آج سلاخوں کے پیچھے ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ اس گروپ کی خدمات کا اعتراف بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور ملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے بھی کیا تھا۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ خان عبدالقیوم خان جو بانیٔ پاکستان کے دستِ راست تھے اور ان کی ہدایت پر انہوں نے صوبہ سرحد (کے پی) کو پاکستان میں شامل کرانے کے لئے ہونے والے ریفرنڈم میں اہم کردار ادا کیا اور فاتح ریفرنڈم کا اعزاز حاصل کیا، کے بقول بانیٔ پاکستان قائداعظم قیامِ پاکستان کی تحریک میں جنگ گروپ اور اس کے بانی میر خلیل الرحمٰن کے کردار کو مثالی اور ناقابلِ فراموش قرار دیتے تھے۔ اسی طرح ملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی کابینہ کے وزیر مہاجرین ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا کہنا تھا کہ لیاقت علی خان شہید اس بات کا برملا اعتراف کرتے تھے کہ جنگ گروپ کی طاقت اور قوت نے پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ راقم الحروف 1965کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر انٹر یونیورسٹیز آف اسٹوڈنٹس یونین پاکستان کا صدر تھا،1963سے 1965تک مسلسل دو سال کراچی یونیورسٹی کا صدر بھی رہا، اس موقع پر جب پاک بھارت جنگ جاری تھی تو ہالینڈ کے شہر ہیگ میں ایک طلبہ کانفرنس تھی جس کے لئے مجھے بطور صدر ایک قرارداد بھارت کے خلاف بھیجنا تھی، جو میں نے بانی جنگ گروپ میر خلیل الرحمٰن سے درخواست کرکے ان کے دفتر جنگ کے ٹیلکس کی مدد سے بھیجی، یہ اس گروپ کے سر براہ کی حب الوطنی تھی اور یہ قرارداد بھارت کے خلاف منظور ہوئی۔

13مئی 1998کو جب بی جے پی کی حکومت نے ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان نے 28مئی کو چاغی کے مقام پر جواب دیا تو اس سے قبل اس سلسلے میں تین اہم کانفرنسیں پاکستان بھر میں منعقد ہوئیں۔ ان کے نتیجے میں ایٹمی دھماکہ ہوا اور دشمن جو میلی آنکھ سے پاکستان کو دیکھ رہا تھا، وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔ یاد دلاتا چلوں کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب جنگ کے خطرات بڑھ گئے تھے اور بھارتی فوج راجستھان پر آگے آنے کی تیاری کر رہی تھی تو صورتحال کو نارمل کرنے کے لیے جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارا لیا اور میچ دیکھنے کے لئے بھارت چلے گئے، تب بھی جنگ اخبار نے مثالی انداز سے رپورٹنگ کرکے اپنی قومی ذمہ داری نبھائی۔ملک کے خارجہ محاذ پر انتہائی مشکل اور نازک مواقع پر ہمیشہ جنگ اخبار نے قومی ذمہ داری اور حب الوطنی کا بےمثال مظاہرہ کیا۔ اس طرح اندرونِ ملک مختلف ناگہانی آفات، واقعات، سیلاب و زلزلہ اور دیگر بحرانی حالات میں قومی یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینے میں جنگ گروپ نے تاریخی کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان سے لے کر 2001تک اس ملک میں صرف پرنٹ میڈیا تھا اور جنگ سب سے بڑا میڈیا ہاؤس تھا، 2002

سے پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور الیکٹرونک میڈیا کا دور شروع ہوا تو اس میں بھی جنگ گروپ کا جیو چینل نمبر ون رہا۔دفاع پاکستان اور ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو قائم رکھنے اور اسے فروغ دینے کے حوالے سے جنگ گروپ کی قومی خدمات کا تقاضا ہے کہ اس کے ساتھ حکومت اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔ اس گروپ کے ساتھ اشتہارات کی کٹوتی، اخبارات کی تقسیم میں مسائل، ٹی وی چینل کی نشریات میں بندش سمیت مختلف مسائل، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمین کے بیروزگار ہو جانے اور ان کے گھروں کے چولہے بجھ جانے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے، کا تدارک کیا جائے۔ میں چیف جسٹس سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے میں سوموٹو ایکشن لیں۔ جس مقدمے میں میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا ہے اس کی قانونی حیثیت کو ملک کے نامور قانون دان، آئینی ماہرین، ملکی و بین الاقوامی صحافتی تنظیمیں اور نامور شخصیات بوگس اور بے جان قرار دے رہی ہیں۔ میری حکومت سے اپیل ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کے حوالے سے رویے پر نظر ثانی کی جائے۔ امید ہے کہ شبلی فراز کو وزیر اطلاعات و نشریات بنانے اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم کا معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات تعینات کئے جانے سے میڈیا اور حکومت کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔ حکومت میڈیا گروپ کے مالی مسائل کو بھی حل کرے گی اور خاص کر جنگ اور جیو کے ساتھ ہونے والی طویل ناانصافی کا ازالہ بھی ممکن ہو گا۔

Syed-Zia-Abbas-Jang