فضائیہ ہاؤسنگ اسکینڈل: 6 ماہ میں متاثرین کی رقم واپس کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی اسکینڈل میں گرفتار ملزمان تنویر احمد اور بلال تنویر کی مشروط ضمانت منظور کرلی جبکہ چھ ماہ میں متاثرین کی رقوم واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت عالیہ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں گرفتار ملزمان تنویر احمد اور بلال تنویر کی مشروت ضمانت منظور کرلی جبکہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کو متاثرین کی رقم چھ ماہ میں واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) سے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ کے حصول تک ملزمان کا نام ای سی ایل میں رکھا جاۓ۔

ہائیکورٹ نے متاثرین کی رقوم کی واپسی کے عمل کی نگرانی کی ذمہ داری چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے سپرد کردی۔

عدلت نے حکم دیا کہ اگر 6 ماہ میں متاثرین کو رقم واپس نہ کی گئی تو نیب دوبارہ انکوائری شروع کرسکتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو فوری رہا کیا جائے تاکہ متاثرین کی رقم واپسی کے معاہدے پر عمل ہوسکے۔

سماعت کے دوران وکیل ملزمان بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا تھا کہ ہم متاثرین کو 80 فیصد رقم واپس کرنا چاہتے ہیں۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں 5 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تھی۔