کراچی صوبہ نواب مظفر نے سندھ میں اپنی زمینوں کو بچانے کے لیئے نہ بننے دیا

کراچی صوبہ نواب مظفر نے سندھ میں اپنی زمینوں کو بچانے کے لیئے نہ بننے دیا
ورنہ یحیی خان نے مغربی پاکستان کے پانچ صوبے بنائے تھے۔اس دن 1970 کا جنگ اخبار کی خبر اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ کراچی کو سندھ میں اور بہاولپور کو پنجاب میں شامل کر دیا گیا۔

Gen-Yahya Khan

آزاد بن حیدر کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے ان سے میری اکثر ملاقات ہوتی تھی وہ مجھے بتا رہے تھے یحیی خان نے مغربی پاکستان کے پانچ صوبے بنائے تھے۔میں اور مرزا جواد بیگ نوجوان تھے۔جبکہ نواب مظفر علی خان اور محمود الحق عثمانی سینئر سیاستدان تھے۔ دونوں نے کراچی صوبے کی مخالفت کی جبکہ ہم دونوں حمایت کر رہے تھے۔اس وقت یحیی خان نے کہا کہ تم لوگ نوجوان ہو میں سینئر کی بات مانوں گا۔
اس وقت تک جی ایم سید والوں نے حیدر آباد اور سکھر سمیت سندھ کے بیشتر جگہوں پر یہ نعرہ دیواروں پر لکھوا دیا تھا کہ کراچی نہ کھپن۔۔۔حیدرآباد و سکھر کھپن۔۔۔۔۔۔

آزاد بن حیدر بتاتے ہیں کہ دراصل نواب مظفر کی سندھ میں خاصی زرعی زمینیں تھیں جس کی وجہ سے انہیں خوف پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں سندھی ان کی زرعی زمینیں نہ ہڑپ کر جائیں انہوں نے اس مقصد کے لیئے محمود الحق عثمانی کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ ان کی باتوں میں آ گئے تھے۔۔۔۔۔
بعد میں انہیں اپنی اس کا غلطی کا احساس ہوا جس پر انہوں نے مرزا جواد بیگ کی کراچی صوبے تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔اب پشتاوئے کیا ہووت جب چڑیا چگ گئیں کھیت۔
آخری دنوں میری ان سے ان کے بیٹے اور شہزادہ غضنفر کے توسط سے ملاقات ہوئی تھی، بلکہ ان کی زندگی کی آخری پریس کانفرنس جو فش ہاربر ہر واقع ان کی ایک فیکٹری کے حوالے سے تھی جس پر صالح محمد بھوتانی نے اسلحہ کے زور پر قبضہ کر لیا تھا اور ان کے پارٹنر کو خاصی دیر یرغمال بنائے رکھا تھا لیکن کیونکہ وہ امریکن نیشنل تھا اس لیئے اسے رہا کرنا پڑا تھا۔پریس کانفرنس سے ایک دن قبل امن اخبار میں اس کا اشتہار ان کے پارٹنر کے کہنے پر میں نے ہی لگوایا تھا۔
پریس کلب میں پریس کانفرنس کا بھی اہتمام میں نے ہی کرایا تھا۔اس دوران میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی اور میں نے کراچی صوبے کے حوالے سے ان سے سوال بھی کیا تھا جس پر انہوں نے اپنے آپ کو بری الزماں قرار دیتے ہوئے تمام الزامات و قصور نواب مظفر پر ڈال دیا تھا۔آزاد بن حیدر اور مرزا جواد بیگ کی کتاب میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔
آج اہل کراچی صوبہ نہ بننے پر خون کے آنسو رو رہی ہے لیکن اس کا پہلا قصور وار نواب مظفر علی خان اور دوسرا الطاف حسین اور ان کے حواری ہیں جنہوں نے 18ویں ترمیم بغیر کسی اختلافی نوٹ کے بلا چوں و چراں(رحمان ملک کا بھرا ہوا بریف کیس پکڑ کر )تسلیم کر لی جس پر پوری قوم کی طرف سے الطاف حسین اور ان کے حواری قصور وار ہیں جن میں ان کے حواری حیدر امام رضوی۔فاروق ستار۔بابر غوری۔ڈپٹی اقبال محمد علی۔کنور نوید جمیل اور دیگر لوگ جنہوں نے قوم کا سودا بھرے ہوئے بریف کیس کے عوض کیا۔آج پورا کراچی بوجھل دل اور خون کے آنسو روتے ہوئے انہیں بد دعائیں دے رہا ہے۔
M-Ali-Karachi