مہاجر عورتیں

— تبسم فاطمه
میں نے انھیں چلتے ہوئے دیکھا ہے ، اپنے اس پاس . جب چھوٹی تھی ، گھر والوں سے تقسیم کی کہانیاں سنیں . پھر ان کہانیوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا . افف ..تقسیم کا حادثہ . دنگے ، دہشت . عصمت دری . حادثے در حادثے .

اور ان مناظر میں ایک حادثہ مجھے یاد رہ گیا .نہ ختم ہونے والا مہاجروں کا قافلہ .ان میں مرد بھی تھے .عورتیں بھی . سروں پر بوجھ اٹھاے . مجھے مردوں سے ہمدردی تھی . مگر شہر نا پرساں سے آنے والی یہ عورتیں جب بوجھ اٹھاے چلتی تھیں ، تو میرا دل غرور سے بھر جاتا تھا . مجھے یقین ہے ، ہجرت کی کہانیوں میں سب سے زیادہ محنت عورتوں کی ہوتی ہے . دبلی پتلی عورتیں .کمزور عورتیں . مگر ان کے اندر زبردست طاقت کی آگ بھر جاتی .. ان عورتوں کی کہانیاں سنیں تھیں . ویڈیو دیکھ تھے . سن ٢٠٢٠ . ان عورتوں کو دوبارہ دیکھا . مہاجر مزدور عورتیں . ایک شہر سےنکل کر دوسری ہجرت . .بچہ کبھی کندھے پر .. کبھی پشت پر ، کبھی گٹھری سے جھولتا . ہزاروں ہزار کیلو میٹر پیدل چلنے والی عورتیں ..راستہ میں فاقہ سے مرتی ہوئی عورتیں . بھوک پیاس بھول کر بچوں کے زندہ رہنے کی کوشش کرتی ہوئی عورتیں . وہ تھکی نہیں ہیں ، اس خیال کے باوجود کہ وہ مر رہی ہیں ..
”وہ ماری جا رہی ہےں /
ہر موڑ، ہر چوراہے پر /
افسوس کے ساتھ /
یہ وقت نہیں ہے، جشن منانے کا “
دنیا کے لئے یہ جدیدٹکنالوجی اور سائنسی چیلنجز کا دور ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ انسانی تہذیب کی تاریخ میں ہم سائنسی ایجادات کے سب سے خوبصورت دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف نئی ایجادات، نئی ٹکنالوجی اور ریس میں بھاگتی ہوئی اندھی دنیا ہے، دوسری طرف اسی دنیا میں امریکہ کے تانا شاہ رویوں سے لے کر خوفناک دہشت گردی کی کہانیاںبھی موجود ہےں۔ عالمی ترقی کی نہ ختم ہونے والی داستانوں کو سننے اور دیکھنے کے بعد اسی دور میں جب خواتین کی بات آتی ہے تو یہ پوری دنیا ایک ایسے بونے یا مذاق میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس پر دل کھول کر ہنسا بھی نہیں جا سکتا۔ ہندوستان، پاکستان ہی کیوں— یہ بہتر وقت ہے، خواتین کی بین الاقوامی حیثیت کو فوکس میں لانے کے لئے۔ کیونکہ یورپ سے امریکہ تک، کنزیومر ورلڈ سے سیاست تک— وہ موجود ہیں ، ہلاک ہونے کے لئے۔ عصمت دری سے لے کر مرد ذہنیت کے دوغلے رویے تک— وہ صرف استعمال ہو رہیہیں ، یا ان کا ہر سطح پر ذہنی اور جسمانی استحصال کیا جا رہا ہے۔ اور اب وہ ہجرت کر رہی ہیں . مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتی ہی .تیز رفتار ..
یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کیا واقعی آج کی خواتین ماضی کے خوفناک اور سیاہ صفحات سے نجات حاصل کرچکی ہےں؟ جب وہ داسی یا غلام ہوتی تھیں اور ایک بڑے بازار میں ان کی بولی لگائی جاتی تھی۔ شوہر کے مردہ جسم کے ساتھ وہ ستی ہو جاتی تھیں۔ یا دےوداسی یا اس طرح کے ہزاروں ناموں کے ساتھ ان کاجسمانی استحصال ہوتا تھا۔ وقت کے صفحات پر بازار بدلاہے اورکنزیومرورلڈ کا چہرہ— لیکن 2015 تک آتے آتے بھی حالات معمول پرنہیں ہیں۔ آج وہ زیادہ تعداد میں تعلیم یافتہ ہیں۔ لیکن فلم، ماڈلنگ، مذہب، معاشرہ اور سیاست کے بازار میں آج بھی وہ ایک ایسا برانڈ ہےں، مردوں کا سماج جسے ننگا کرنے اور ان کی مجبوریوں کو استعمال کرنے میں ہی اپنی مردانگی سمجھتا ہے۔ یہ ایک پھلو ہے . دوسری تصویر ہجرت کی ہے . ہزاروں تصویریں .. مزدور عورتیں شیرنی کی طرح سامانوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں . انکے ہونٹوں پر کوئی گلہ شکوہ نہیں .

اقتدار کے گلیاروں سے ہوائی جہاز.
فلم، میڈیا سے انتظامیہ کے سب سے اونچے عہدے پر
اب کی جا رہی ہے ہماری تاجپوشی/
آرام سے سنی جاسکتی ہے/
حیوانیت میں نہائے بھیڑیوں کی
کرخت، دل دہلا دینے والی آوازیں/
چمک محسوس کی جاسکتی ہے
گدھ آنکھوں کی/
صدیوں میں
کچھ بھی نہیں بدلا/
بدلتی ہوئی ہر تہذیب کے بعد بھی
ہمارے لیے
وہی ہڑپا اور موہن جداڑو کی
تہذیب ہی باقی رہ جاتی ہے/