1940 میں گم ہونے والی شادی کی انگوٹھی 80 سال بعد مل گئی

برلن : خاتون کی عوامی بیت الخلا میں گھم والی انگوٹھی 80 سال بعد ڈرامائی انداز میں مل گئی، جسے اس کے اصل مالک تک پہنچا دیاگیا۔

منگنی اور شادی کی انگوٹھی زندگی کی یادگاروں میں سے ایک اہم شے ہے لیکن اگر یہ کھو جائے تو انسان کو ساری عمر دکھ رہتا ہے، ایسا ہی ایک واقعہ جرمنی کے علاقے بیلیٹز کی رہائشی خاتون مارگریٹ ہزروک کے ساتھ پیش آیا۔

جب 1940 میں گرمس کی شادی انگوٹھی اس وقت گم ہوگئی تھی جب وہ عوامی بیت الخلا میں ہاتھ دھو رہی تھیں۔

مارگریٹ ہرزوک کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میری والدہ نے انگوٹھی کو بہت تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملی تھی، جو 80 سال بعد اب انھیں دوبارہ مل گئی ہے تاہم اسے پہننے کےلیے اب اس کی والدہ زندہ نہیں ہیں تاہم وہ بہت خوش ہیں کہ انہیں اپنی والدہ کی نشانی مل گئی۔

انہوں نے بتایا کہ والدہ انگوٹھی کھونے کے بعد ساری زندگی انتہائی رنجیدہ رہیں اور انہیں عمر کے آخری حصّے میں اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ اب انگوٹھی دوبارہ نہیں ملے گی اور وہ انتظار کرتے کرتے 1996 میں موت کے منہ میں چلی گئیں۔

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق دھاتیں جمع کرنے والے ایک شوقین کو یہ انگوٹھی بیلیٹز میں واقع پھلوں کے ایک باغ میں قائم واٹر مل کے نیچے سے گزرنے والی پانی کی گزرگاہ میں سے ملی۔

اس پر خاتون کے نام کے دو ابتدائی حروف ایچ ایچ کندہ تھے اور تاریخ 30 مارچ 1940ء ہندسوں میں 30.03.1940 درج تھی۔ انگوٹھی کو ملنے کے بعد شادی دفتر لے جایا گیا جہاں سے اصل خاتون کا پتہ ملا۔

شادی کے دفتر سے معلوم ہوا کہ ہانس ہرزوگ اور مارگریٹ فیخنر کی شادی انگشتری پر درج تاریخ کو طے پائی تھی، اور اس دن بس انہی دونوں کی شادی کا اندارج ہوا تھا