‘فیلڈ آئسولیشن سینٹر -کراچی’ کے عنوان سے ہینڈ بک کی رونمائی تقریب

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ‘فیلڈ آئسولیشن سینٹر -کراچی’ کے عنوان سے ہینڈ بک کی رونمائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستانی عوام اور پاک فوج کے عزم پر فخر ہے


جو اس گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اور اس اہم منصوبے کو کاغذ سے حقیقت کے روپ میں تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو سینٹر کراچی میں فیلڈ آئسولیشن سینٹر (ایف آئی سی) سندھ حکومت اور پاک فوج نے مشترکہ طور پر کراچی کے باعزم لوگوں کی مدد سے قائم کیا ہے۔ یہ کتابچہ ان کی کوششوں کا ایک بہترین نتیجہ ہے۔ اس سے کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے نہ صرف مدد ملے گی بلکہ دیگر قومی کوششوں میں بھی مدد ملے گی اور ساتھ ساتھ وہ ترقی پذیر ممالک جو ہمارے جیسے حالات کا شکار ہیں وہ بھی اسے اپنے علاقوں میں آئسولیشن سینٹرز کی تعمیر کے لئے ایک رہنما نقشہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں


۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ آئسولیشن سینٹر کے ڈاکٹروں کے ایک پینل نے کوویڈ 19 کے خلاف جنگ میں اپنے تجربے کو درج کرنے اور کتاب کی شکل میں اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر / پروٹوکول وضع کرنے کے لئے ایک مستحکم کوشش کی ہے جو مستقبل میں بھی رہنما اصول ثابت ہوں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ان تمام لوگوں کو مبارکباد پیش کی جو ایف آئی سی کے قیام اور آپریٹنگ میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ہم وطن شہریوں کا خدمت کے لئے لگن اور عزم بے مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ساری نیک خواہشات فرنٹ لائن کارکنان کے لیے ہیں جو دن رات کوویڈ 19 کے مریضوں کا علاج کرنے کے لئے نہ صرف کوشش کر رہے ہیں بلکہ ہمارے صوبے میں اس کے پھیلائو کو کم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ عناصر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم کورونا وائرس پر سیاست کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہاں ، میں لوگوں کو وائرس سے بچانے کے لئے سیاست کر رہا ہوں اور میں یہ اس لئے کروں گا کیونکہ ہمارے لوگ بے گناہ ، سادہ لوح ہیں، لہذا ان کی حقیقی خدمت کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ میں لوگوں کی بقا کے لئے لڑ رہا ہوں انہوں نے اپنے مخالفین کو بتایا کہ میں سندھ کی اور آپ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہو۔ یہی ہماری اور آپ کی سیاست کا فرق ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے لوگوں کو وائرس سے بچانے پر فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر کردار ادا کرنے والے ڈاکٹروں ، نرسوں ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور رضاکاروں کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی سی 6 اپریل کو قائم کی گئی تھی۔ فروری میں جب کورونا وائرس کے پہلے واقعہ کی اطلاع ملی تھی تو میں نے شہر میں ایک فیلڈ آئسولیشن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے وفاقی وزیر رزاق داؤد سے ایکسپو سینٹر کو انہیں ( وزیراعلیٰ سندھ ) کے حوالے کرنے کی بات کی تاکہ میں یہاں آئسولیشن سینٹر قائم کرسکوں ۔ انہوں نے رزاق داؤد کا شکریہ ادا کیا کہ حکومت نے ایکسپو سنٹر کو ایف آئی سی بنانے کی اجازت دی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ گلشنِ اقبال میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مرکز قائم کر رہے ہیں اور اسی طرح کی سہولیات ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بھی مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس ایک حقیقت ہے۔

اس کا علاج اب تک دریافت نہیں ہوا ہے ، لہذا ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہے لیکن مناسب تیاریوں اور ایس او پیز کے ساتھ اور اسی وجہ سے وہ کوویڈ -19 کے مریضوں کے لئے الگ الگ اسپتال قائم کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایف آئی سی میں اب تک 550 مریض داخل کیے جاچکے ہیں ، ان میں سے 250 کو علاج کے بعد گھروں کوروانہ کر دیا گیا ہے۔قبل ازیں پروگرام کے منتظمین نے کتاب کی پہلی کاپی وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی تاکہ کتاب کی رونمائی کی جاسکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے ایف آئی سی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا اور ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور رضاکاروں سے ملاقات کی اور ان کی بے لوث خدمات پر انہیں سراہا۔کتاب کی رونمائی کی تقریب میں پاک فوج کے سینئر افسران ، معروف ڈاکٹرز ، ڈاکٹر نزہت فاروقی ، ڈاکٹر وارث احمد ، ڈاکٹر منیر امان اللہ ، ڈاکٹر اریش حیدر ، فیصل ایدھی ، ڈاکٹر مشتاق چھاپڑا ، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی اور دیگر نے شرکت کی۔