عالمی ادارہ صحت چین کی کٹھ پتلی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے غیرتسلی بخش کام کیا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی امداد کم کرنے پر غور کر رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت کو فنڈنگ کے حوالے سے جلد فیصلہ کریں گے۔

خیال رہے کہ ایک ماہ قبل امریکہ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے فنڈز روک دیے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او پر چین نواز ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ڈبلیو ایچ او کو سالانہ 4 سو سے 5 سو ملین ڈالر فراہم کرتا ہے جبکہ چین عالمی ادارہ صحت کو صرف 40 ملین ڈالر دے رہا ہے۔

امریکی صدر نے اپنی انتظامیہ کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے فنڈز روک دیے جائیں۔

قبل ازیں امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس پر تاخیر سے ایکشن لیا جبکہ امریکہ ڈبلیو ایچ او کو بھاری فنڈز دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او چین کے زیادہ قریب ہے جس نے چین کے لیے بارڈر کھلے رکھنے کا غلط مشورہ دیا۔

اس سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ کوئی بھی ملک کورونا وائرس کے حوالے سے پابندیاں ہٹانے میں جلدی نہ کرے۔

ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ اوٹیڈروس ایڈانام کا کہنا تھا کہ پابندیاں جلد اٹھانے سےکورونا دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے اور اس کے معاشی اثرات بھی مزید طویل ہو سکتے ہیں

Courtesy Hum News Urdu