میاں بیوی کی بات چیت بھی معیوب، دیور بھابھی کا فحش مذاق بھی جائز؟

باسط شاید اپنے ہار اور شیروانی وغیرہ اتار رہا تھا۔ کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ نیچے کی باتوں کہ ہلکی ہلکی آوازیں اور باسط کے کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔

”بسمہ!“
باسط نے بیڈ کے پاس آکر ہلکے سے اسے پکارا

بسمہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آج باسط کی رنگت کافی کھلتی ہوئی لگ رہی تھی۔ نقوش اس کے ویسے بھی جاذب نظر تھے، وہ مجموعی طور پہ کافی اچھا لگ رہا تھا۔

باسط سامنے بیٹھ گیا
”اچھا لگ رہا ہوں ناں؟“
باسط کے لہجے میں کہیں بھی مہینہ پہلے ہونے والے واقعے کا کوئی اثر نہیں تھا۔
بسمہ نے ہلکے سے مسکرا کر سر جھکا لیا۔

”ارے کنجوس لڑکی نئے نویلے میاں کی تھوڑی سی تعریف کردو گی تو کیا ہو جائے گا۔ مانا آپ جتنے حسین نہیں مگر ہم پہ بھی لڑکیاں مرتی ہیں“

بسمہ کو ہنسی آ گئی۔
باسط نے ہاتھ تھاما

”آج اجازت ہے ناں محترمہ؟ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا میری اسنو وائٹ اتنی شرمیلی ہے۔“ بسمہ اپنی بدلتی کیفیت سے حیران تھی۔ اسے اب واقعی ٹھیک ٹھاک قسم کی شرم آ رہی تھی کسی بھی اور احساس کے بغیر۔

”اچھا جی پہلے اپنا گفٹ لیں گی یا میرا گفٹ دیں گی“

دلہن کو بھی کوئی گفٹ دینا ہوتا ہے؟ اف لعنت ہے۔ ۔ ۔ مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔ بسمہ نے ہکا بکا ہو کر باسط کی شکل دیکھی۔ باسط اس کے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھ کر ہنس پڑا۔

”یار تم اتنی ہی ہونق ہو یا آج کوئی خاص تیاری کی ہے؟“ پھر اٹھ کے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے ایک گفٹ باکس نکال کے لے آیا۔

”یہ تمہارا گفٹ وہ کیا کہتے ہیں اردو میں؟ منہ دکھائی، ہے ناں؟ اور میرا گفٹ میں خود لے لوں گا جو اس دن آپ نے پورا نہیں لینے دیا۔“

باسط کے لہجے میں شرارت تھی۔
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

بسمہ کی آنکھ کھلی تو کچھ دیر کے لیے اسے سمجھ ہی نہیں آیا وہ کہاں ہے غیر ارادی طور پہ اس نے سر گھمایا۔ روز کی عادت تھی ذرا دور دوسرے بستر پہ دادی کو دیکھنے کے مگر نظر اتنی دور جا ہی نہیں پائی بالکل برابر میں سوتے باسط پہ نظر پڑتے ہی وہ بوکھلا کے اٹھ گئی۔ چند لمحوں میں ہی رات ذہن میں گھوم گئی بالکل ایسے جیسے کوئی خواب دیکھا ہو۔ دھندلی دھندلی سی تصویریں ایسے یاد آ رہی تھیں جیسے وہ کسی سحر کے زیر اثر تھی۔ اوپر روشن دان سے آتی روشنی دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ دن کافی نکل آیا ہے باہر سے چہل پہل کی آوازیں بھی آ رہی تھیں

اس کے اٹھنے سے باسط کی نیند بھی ڈسٹرب ہوگئی۔
”کیاہوا سو جاؤ نا یار“ باسط نے اسے قریب کرنے کی کوشش کی۔ وہ جھجک کر دور ہو گئی۔
”سب اٹھ گئے ہوں گے“
”ہاں تو“
”عجیب لگے گا ناں ہم روم میں ہیں“

”ارے یار سب کو پتا ہے ہم ہی سب سے دیر سے سوئے ہوں گے۔ تمہیں اٹھنا ہے اٹھ جاؤ مجھے شدید نیند آ رہی ہے۔“ باسط نے بہت سیدھے سادے سے انداز میں کہا نہ اس میں کوئی شوخی تھی نہ ناراضگی۔

وہ بے چارگی سے بیڈ کے کونے میں ہو کر بیٹھ گئی۔ منہ ہاتھ دھونے کے لیے بھی کمرے سے باہر جانا پڑتا اور ابھی اسے بہت جھجک محسوس ہو رہی تھی۔ باسط نے بازو آنکھوں پہ رکھ کے دوبارہ سونے کی کوشش شروع کردی۔ ایک دو منٹ وہ ایسے ہی لیٹا رہا۔ پھر اٹھ کے بیٹھ گیا۔

”اچھا میں سنیہ کو بھیجتا ہوں۔“ باسط نے اپنی چھوٹی بہن کا نام لیا۔ اور روم سے نکل گیا۔ تھوڑی سی دیر بعد سنیہ اور بشریٰ آپی اندر آئیں۔ اور بشریٰ آپی کو دیکھ کے بسمہ کے ذہن میں سب سے پہلے یہی خیال آیا کہ اب آنے کا کیا فائدہ۔ ایک تو اسے ان کے چہرے کی معنی خیز مسکراہٹ سے ہی الجھن ہو رہی تھی۔ اسے پتا تھا کہ سنیہ ادھر ادھر ہوگی اور یہ کچھ نہ کچھ بے تکا پوچھیں گی۔ جس کے بارے میں بسمہ بالکل بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور کم از کم کسی ایسے شخص سے تو بالکل نہیں جس سے وہ بالکل بے تکلف نہیں تھی۔

”سنیہ نے پہلے سے الماری میں سجے اس کے جہیز کے کپڑوں میں سے ایک دو نسبتاً آرام دہ سوٹ نکالے۔
”بھابھی بتائیں ابھی کون سا سوٹ پہنیں گی؟“ بسمہ کے بولنے سے پہلے بشریٰ آپی بول پڑیں۔

”ارے یہ کیسے بتائے گی۔ ہماری بسمہ ان معاملات میں بہت سیدھی ہے۔ ویسے ہی پہلے دن اتنی شرم آ رہی ہوتی ہے اسی لیے تو میں ساتھ آئی تھی یہ تو کچھ بولے گی ہی نہیں۔ ایسا کریں سنیہ یہ تو بہت سادے سے سوٹ ہیں وہ سی گرین فراک نکال لیں جس پہ گوٹے کا کام ہے۔“

بشریٰ آپی نے پیچھے الماری میں ٹنگی ایک کافی بھاری سی فراک کی طرف اشارہ کیا۔ سنیہ نے سوالیہ نظروں سے بسمہ کی طرف دیکھا کیونکہ اس سے بسمہ کی کافی دوستی پہلے ہی ہوچکی تھی اور بسمہ اسے اپنی پسند کا سوٹ بتانے ہی والی تھی۔ مگر مجبوراً بسمہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

بسمہ تیار ہو کے نیچے آئی تو پتا چلا اسماء آپی اور ایک دو کزنز ناشتہ لے کر آئی ہوئی تھیں۔ باسط بھی تھوڑی دیر میں تیار ہو کے نیچے ہال میں آ گیا اور بسمہ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا جس پہ باسط کے کزنز اور بسمہ کے گھر والوں سب نے ہی ایک زور دار ”اووو“ کیا۔

”لو بھئی تم نے تو ایک ہی رات میں پلو سے باندھ لیا ہمارے دیور کو“ نازیہ بھابھی نے کہنے کو مذاق کیا مگر لہجے میں صرف مذاق نہیں تھا۔ بسمہ شرمندہ سی ہوگئی۔ ہنسی مذاق چلتا رہا جس کا ہدف بسمہ اور باسط دونوں تھے مگر جواب باسط ہی دے رہا تھا۔

ولیمہ ایک دن بعد تھا اسماء آپی چاہ رہی تھیں کہ بسمہ کو کل شام تک کے لیے لے جائیں مگر باسط نہیں مان رہا تھا۔ آخر کار یہی طے ہوا کہ باسط اپنے گھر والوں کے ساتھ آج شام ہی بسمہ کو لینے آ جائے گا۔

ولیمہ بھی خوش اسلوبی سے نمٹ گیا۔ مگر یہ صرف بسمہ کا خیال تھا کیونکہ دونوں اطراف میں کئی ایسی چھوٹی چھوٹی تکراریں رسموں پہ ہوئیں جن کی وجہ سے کچھ رشتہ دار کافی ناراض ہوگئے تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی کیٹرنگ اور کھانا بھی زیادہ نہیں بھایا تھا۔ جس پہ بسمہ اور باسط کی غیر موجودگی میں طنزیہ باتیں ہو ہی جاتیں مگر ان دونوں کی لیے فی الحال سب سیٹ تھا۔ باسط کی ساری توجہ بسمہ پہ تھی جہاں بسمہ ہوتی کچھ دیر بعد باسط بھی وہیں ہوتا۔ صوفے پہ تو تقریباً جڑ کے بیٹھ جاتا۔ آخر دو تین دن بعد ایک دن نازیہ بھابھی اوپر آئیں تو بسمہ کمرے میں اکیلی تھی باسط کچھ دیر کے لیے دوستوں کے پاس گیا تھا۔ نازیہ بھابھی اندر آ گئیں

”بسمہ میں ایک بات کرنا چاہ رہی تھی مگر دیکھو برا مت ماننا۔ میں بھی بہو ہوں یہاں کی میں نہیں چاہتی کہ تم اپنی سادگی میں یا کم عمری میں کسی ناخوشگوار مسئلے سے گزرو“

”نہیں بھابھی آپ کہیں، آپ بڑی ہیں میرے بھلے کے لیے ہی کہیں گی۔“ ان کے لہجے نے بسمہ کو ڈرا دیا مگر اس نے کوشش کر کے اپنا لہجہ عمومی ہی رکھا۔

”دیکھو یار الگ گھر ہو یا گھر میں غیر شادی شدہ لڑکیاں نہ ہوں تو یہ لپٹنا چپٹنا چل جاتا ہے مگر ساس سسر کے سامنے اچھا نہیں لگتا ناں۔ باسط تو مرد ہے وہ نہیں کرے گا ان چیزوں کا خیال تم تو لڑکی ہو سمجھا کرو۔ کسی دن ساس نے ٹوک دیا تو نئی سسرال میں کیا عزت رہ جائے گی؟ لوگوں کے سامنے باسط سے تھوڑا فاصلہ رکھا کرو۔ مناسب نہیں لگتا یہ سب“

بسمہ کو اول تو ان کی بات ہی عجیب لگی پھر جس قسم کے الفاظ انہوں نے استعمال کیے وہ کافی قابل اعتراض تھے کیونکہ بسمہ خود بھی کوشش کرتی تھی کہ باسط پاس آکر بیٹھا ہے تو تھوڑا فاصلہ کر لے۔ سب کے سامنے باسط کا اتنا قریب بیٹھنا اسے عجیب لگتا تھا۔ اور تب زیادہ لگتا جب کوئی بلکہ عموماً نازیہ بھابھی ہی کوئی نامہ کوئی شوخ جملہ کہہ دیتی تھیں۔

”جی بھابھی میں خیال کروں گی“

بسمہ کو اتنی شرمندگی ہوئی کہ وہ زیادہ بول ہی نہیں پائی۔ اور پھر بسمہ نے اور زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا کہ باسط اور وہ سب کے سامنے زیادہ قریب نہ ہوں۔ اسے نازیہ بھابھی کے اعتراض کے طریقے نے بہت دھچکہ سا پہنچایا تھا۔ اور وہ دوبارہ ایسا کوئی اعتراض سننا نہیں چاہتی تھی۔ اور ظاہر ہے یہ بات باسط نے بھی محسوس کرلی۔ وہ ایک دن کچن میں کھڑی سلاد کاٹ رہی تھی باسط برابر میں آکر فریج سے پانی نکالنے لگا۔ وہ تھوڑا اور دور ہوگئی۔

”ارے بیگم صاحبہ کیوں مجھ سے بھاگتی پھرتی ہیں“

”اففو باسط سمجھا کرو نئی دلہن ہے۔ لڑکیاں تم لڑکوں کی طرح بے شرم نہیں ہوتیں“ ساتھ ہی کھڑی نازیہ بھابھی نے بسمہ کے بولنے سے پہلے جواب دیا۔

باسط نے ایک نظر نازیہ پہ ڈالی اور ایک بسمہ پہ۔ خاموشی سے پانی پی کر گلاس رکھا جاتے جاتے کچھ سوچ کے رکا۔

”بسمہ فارغ ہوجاؤ تو اوپر آنا ذرا۔“

”اوہو اب تو دن میں بھی دیور جی کو یاد ستانے لگی“ نازیہ بھابھی نے حسب عادت جملہ چست کر ہی دیا اور اتنا بلند آواز میں کیا کہ باسط نے ضرور سنا ہوگا۔ بسمہ نے پہلے سوچا کہ اوپر نہ جائے مگر باسط کے لہجے کی سنجیدگی کا خیال آیا تو وہ سلاد اتنی ہی چھوڑ کر اوپر آ گئی۔

”جی آپ نے بلایا تھا“ بسمہ کی کیفیت ایسی تھی جیسے شرارت کرنے کے بعد پرنسپل کے آفس میں اسٹوڈنٹ کی ہوتی ہے

”آؤ بیٹھ جاؤ پھر بات کرتے ہیں“
بسمہ بیڈ کے ایک سائیڈ پہ بیٹھ گئی
باسط اس کے سامنے بیٹھ گیا
”بسمہ جانو کوئی مسئلہ ہے کیا؟ شادی سے پہلے تم کتراتی تھیں وہ سمجھ آتا ہے اب کیا ہوا؟“
”باسط سب نوٹ کرتے ہیں“
” تو کرنے دو کیا فرق پڑتا ہے“
”اچھا نہیں لگتا ناں نازیہ بھابھی بھی ٹوک چکیں ہیں کہ امی ناراض ہوں گی“
” یہ نازیہ بھابھی نے کہا تم سے؟ لو بھلا کہہ بھی کون رہا ہے“
”کیا مطلب“

”کچھ نہیں۔ ٹھیک ہے تم گھبراؤ نہیں میں خیال کروں گا آئندہ۔ مگر پلیز تم بھی سب کے سامنے ایسے پیچھے نہ ہوا کرو شوہر ہوں تمہارا، عجیب لگتا ہے۔“

بسمہ نے سر ہلا دیا۔ اس نے سکون کا سانس لیا چلو ایک مسئلہ تو خیریت سے حل ہوگیا اور شکر بھی کیا کہ باسط کو اوپریٹ کرتا ہے۔ مگر یہ پہلا اور چھوٹا مسئلہ تھا۔

اگلے کچھ دنوں میں کھیر پکوا کر اسے ایک طرح سے باقاعدہ گھر کے کاموں میں حصہ دے دیا گیا۔ مگر پتا نہیں نازیہ بھابھی کے ساتھ کیامسئلہ تھا وہ اسے کوئی کام خود سے نہیں کرنے دیتیں تھیں ہر کام میں خود ہی ساتھ کھڑی ہو جاتیں کئی بار بسمہ کی ترکیب بدل دی اور کھانے کا مزہ خراب ہوگیا اور جب کھانا لگتا تو کسی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بول پڑتیں

”بھئی آپ لوگ کچھ کہیے گا نہیں نئی نئی دلہن ہے کم عمر بھی ہے اونچ نیچ ہوجاتی ہے یہ بھی میں نے تھوڑا مدد کروا دی۔ اسے ابھی ٹھیک سے پکانا نہیں آتا نا۔“ بسمہ کو سمجھ نہیں آتا کہ انہیں کیوں لگا کہ اسے پکانا نہیں آتا کچھ چیزیں تو وہ پہلے ہی جانتی تھی پھر منگنی سے شادی کے بیچ دس گیارہ مہینوں میں اس نے کافی کچھ سیکھ لیا تھا۔ وہ صرف جھنجھلا کے رہ جاتی۔ باسط کی چھٹیاں بھی ختم ہو گئی تھیں وہ تھک کے آتا تو بسمہ کو مناسب نہیں لگتا کہ وہ اتنی جلدی سسرال کی شکایتیں کرنے لگے۔

باسط آفس سے آتا تو نازیہ بھابھی اسے پانی لینے دوڑا دیتیں اور باسط کے سامنے ٹوکنا نہیں بھولتیں کہ شوہر کے آتے ہی ان چیزوں کا خیال رکھا کرو۔ کئی بار پیچھے سے آکر اسے دوپٹہ سر پہ اڑھانے لگتیں کہ جیٹھ یا سسر آرہے ہیں ایسے اچھا نہیں لگتا۔ وہ خود بھی سر پہ دوپٹا اوڑھے رکھتیں مگر وہ عموماً اتنا مختصر ہوتا کہ صرف سر کے گرد ہی ہوتا۔

اس دن بھی باسط کے آنے کے ٹائم پہ دروازہ بجا بسمہ دروازہ کھلونے کے لیے بڑھی تو فوراً نازیہ بھابھی نے روک دیا۔

”تم پانی لے آؤ میں کھول آتی ہوں۔“

بسمہ پانی لے کر آئی تو باسط ہال کے صوفے پہ بیٹھا جوتے اتار رہا تھا۔ نازیہ بھابھی ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔

”ارے یار آج تو بہت تھک گیا“
”لیٹ جاؤ یہیں تھوڑی دیر“

باسط نے بسمہ سے پانی کا گلاس لے کے پیا اور واقعی وہیں لیٹ گیا نازیہ بھابھی کے گھٹنے پہ سر رکھ کر۔ اس کا انداز اتنا عام سا تھا جیسے یہ کوئی روز کی بات ہو۔ بسمہ حیران سی کھڑی رہ گئی۔

نازیہ بھابھی کا ایک ہاتھ باسط کے بالوں پہ تھا۔
”دیور جی بیوی کے آتے ہی آپ ہمیں تو بھول ہی گئے۔“
”ارے نہیں نازی ایسی بات نہیں ہے، بس مصروفیت ایسی ہو گئی۔“
بسمہ ان دونوں کی گفتگو اور انداز گفتگو پہ گنگ سی ہوگئی تھی۔ غیر ارادی طور پہ ہی وہ بول پڑی۔
”باسط آپ کشن لے لیں نازیہ بھابھی ان ایزی ہو رہی ہوں گی۔ آپ کی وجہ سے بندھ گئیں ہیں۔“

”لو اس میں بندھنے کی کیا بات ہے تم لوگوں کی شادی سے پہلے تو عموماً شام میں ہم لوگ ایسے ہی باتیں کرتے تھے وقت کا پتا ہی نہیں چلتا تھا اصل میں میری اور باسط کی سوچ بہت ملتی ہے نا۔ میرے لیے تو یہ بالکل بھائیوں جیسا ہے۔ مگر لوگ ان جذباتی رشتوں کو نہیں سمجھتے دماغ میں ہی گند ہوتا ہے۔“ اسے اندازہ ہو گیا کہ نازیہ بھابھی اسے ہی کہہ رہی ہیں۔ جب کہ اس کے ذہن میں یہ پہلو تو آیا ہی نہیں وہ تو صرف اس پہ حیران تھی کہ یہی نازیہ بھابھی تھیں جنہوں نے کچھ دن پہلے اسے ٹوکا تھا۔

وہ خاموشی سے کچن میں آ گئی۔ ہاں مگر جو سوچ پہلے تھی اس کے ساتھ ساتھ اس کے دماغ میں اب وہ سمت بھی تھی جس کی نازیہ بھابھی نے تردید کی تھی۔ نوٹ تو وہ پہلے بھی کرچکی تھی کہ نازیہ بھابھی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہی رہتیں تھیں کہ باسط کی پسند ناپسند کا انہیں بسمہ سے زیادہ پتا ہے اور اس کی ہر ذمہ داری وہ بسمہ سے زیادہ بہتر طور پوری کر سکتی ہیں بسمہ کے خیال میں یہ کوئی جتانے والی بات تھی نہیں ویسے، کیونکہ یہ عام فہم بات ہے کہ نئی آنے والی دلہن کو کچھ وقت تو لگے گا شوہر کی پسند نا پسند سمجھنے میں اور روز ملنے والے وہ چاہے آفس میں ساتھ کام کرنے والا چوکیدار ہی کیوں نہ ہو وہ اس شخص کے بارے میں زیادہ جانتا ہو گا۔

اسے بار بار جتانے کی کوئی وجہ بنتی نہیں تھی۔ سوائے اس کے کہ ان کا آپس میں تعلق ہی الگ نوعیت کا ہو۔ ورنہ وہ باسط کی کتنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہیں وہ تو وہ ایک دفعہ دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی شادی سے پہلے۔ ان کا طریقہ ہی یہ تھا کہ کوئی بھی کام ہوتا وہ پہلے سے کرنا ہے کرنا ہے کا شور مچا دیتیں پھر ساتھ میں یہ بھی سنایا جاتا کہ گھر کی ساری ذمہ داری ہی ان پہ ہے وہ کام کرتی ہیں تو ہوتا ہے ورنہ تو اس گھر میں کچھ بھی نہ ہو۔

اور آخر یہ ہوتا کہ وہ ہر کام کسی نہ کسی کے سپرد کر کے کروالیا کرتیں اور کہنا یہی ہوتا کہ ”میں“ نے کیا ہے۔ بڑی بھابھی جن کا نام رافیعہ تھا وہ زیادہ بحث میں پڑنے والی خاتون نہیں تھیں بات چیت میں کچھ سخت مزاج خاتون لگتی تھیں مگر کسی کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑاتی تھیں۔ اور نازیہ بھابھی کبھی غلطی سے انہیں کچھ بول جاتیں تو وہ اچھا خاصا کرارا جواب ہاتھ میں تھما دیتی تھیں۔ بسمہ نے نوٹ کیا کہ گھر کا یہی ایک کردار تھیں جس سے نازیہ بھابھی پنگا لینے میں کتراتی تھیں۔

سنیہ سے تو نازیہ بھابھی کی تکرار تقریباً روز کا معمول تھی۔ دونوں کا رشتہ روایتی نند بھاوج جیسا تھا۔ نہ سنیہ انہیں بخشتی نہ یہ سنیہ کو۔ ساس سسر کی خدمت اور احترام کی جتنی لمبی لمبی تقریریں نازیہ بھابھی کیا کرتیں ان کے اعمال اس سے بالکل ہی الگ تھے۔ ساس تو ان کے لیے کسی گنتی شمار میں ہی نہیں تھیں۔ بسمہ کو کبھی کبھی نہ چاہتے ہوئے بھی نازیہ بھابھی اور اس کی ساس کا رشتہ امی اور دادی جیسا لگتا۔ اسے اپنے ان احساسات پہ حیرت ہوتی تھی کہ وہ نازیہ بھابھی کو امی سے ملا رہی ہے مگر یہ احساس بہت شدید ہوتا جسے وہ جھٹلا نہیں پاتی تھی۔

ان کی عموماً باتیں ماں کی عظمت پہ مبنی ہوتیں مگر نہ بسمہ نے انہیں ساس کا احترام کرتے دیکھا نہ اپنے بچوں کی ٹھیک سے دیکھ بھال کرتے ”بالکل امی کی طرح۔“ یہ سوچ اسے ایک دم اداس کر دیتی۔ گھریلو معاملات کے علاوہ نازیہ بھابھی کا ایک اور پسندید مشغلہ تھا حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی خواتین کے کردار کی دھجیاں اڑانا۔ ان کے کردار کے بارے میں وہ ایسے ایسے ”حقائق“ بتاتیں جو بسمہ کے چودہ طبق روشن کر دیتے۔ کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے ناشتے کے بعد سب خواتین ہال میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ سسر اخبار پڑھتے پڑھتے وہیں چھوڑ گئے تھے انہوں نے سامنے پڑا وہ اخبار اٹھا لیا اور سامنے ہی چھپی خبر زور سے پڑھنے لگیں۔

”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے“

معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاء سے خطاب
انہوں نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار سائیڈ میں رکھ دیا۔

”کاش کوئی ان عورتوں کو سمجھا سکتا کہ عورت کی اصل بادشاہت تو اس کا گھر اور بچے ہوتے ہیں۔ نہ اپنا گھر سنبھلتا ہے نہ دوسروں کا بسنے دیتی ہیں“

بقول ان کے انہیں اس قسم کی مرد مار جنگجو ٹائپ عورتوں سے سخت چڑ تھی۔

”یہ صرف مردوں کے ساتھ نین مٹکا کرنے کے بہانے ہیں کہ باہر نکل کر اپنا آپ مردوں کو دکھایا جا سکے اور کچھ نہیں“ ان کے لہجے میں ایسی خواتین کے لیے بہت نفرت تھی۔ بسمہ کو اس وقت لگا وہ دادی کی جوانی دیکھ رہی ہے۔ اسے حیرت یہ ہوئی کہ اتنی دور دور رہنے والی دو خواتین جو ایک ہی نسل سے تعلق بھی نہیں رکھتی کہنے کو دو بالکل الگ ادوار کی خواتین ہیں ان کی سوچ اس قدر ایک جیسی کیسے ہو سکتی ہے۔
Absaar-Fatima-from -humsub-pages