سندھ پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام کامیاب پانے والے 151 افسران کی فہرست جاری

آج 18 مئی 2020 سندھ پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام کامیاب پانے والے 151 افسران کی فہرست جاری کر دی گئی۔

جن بچوں نے کامیابی حاصل کی ہے وہ یقینا مبارکباد کے حقدار ہیں اور اللہ کرے کہ وہ آنے والے دنوں میں ملک کا نام روشن کریں

اگر ان نتائج پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ سندھ میں بسنے والے اردو اسپیکنگ خاندانوں کے بچے کہاں غائب ہوگئے ہیں کیا ان کی پڑھائی اور قابلیت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور اب وہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں جگہ حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں یا اس کے پیچھے کچھ اور کہانی ہے۔



سندھ پبلک سروس کمیشن کے مرتب کردہ نتائج کے حوالے سے سندھ میں رہنے والے اردو اسپیکنگ حلقوں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور انہیں اس بات کا شک ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جان بوجھ کر اور ایک سوچے سمجھے انداز سے سندھ میں رہنے والے اردو بولنے والوں کے بچوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے یا آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے ۔
سوشل میڈیا پر نتائج کے حوالے سے مختلف تبصرے جاری ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ
میں لسٹ میں بہت دیر سے کسی اردو اسپیکنگ کا نام تلاش کر رہا ہوں۔ آپ کو مل جائے تو نیچے کمنٹ کریں۔
سندھ میں بھلے نظام دو ہوں پر سندھ ایک ہے۔
یہ کوئی واحد رزلٹ نہیں آپ گزشتہ دس سالوں کے رزلٹ اٹھا کر دیکھ لیں یاد رکھیں اس طرح کے فیصلوں سے ہم سندھ کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ۔

۔کیا کراچی پولیس مقامی نہیں ہونی چاہیئے۔۔۔۔۔کیا ٹیچر مقامی نہیں ہونے چاہئیں۔۔۔۔۔۔۔کیا ایک گریڈ سے سولہ تک سروسز رولز آف پاکستان کے تحت مقامی نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔کیا کل سندھ پبلک کمیشن کا رزلٹ آیا ہے جس میں 151 لوگ پاس ہوئے ہیں جن میں ایک بھی کراچی کا مہاجر۔۔۔۔پنجابی۔۔۔پٹھان۔۔۔سندھی اور بلوچ نہیں ہے۔۔۔۔کیا تین کروڑ کی آبادی بانجھ ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حق و سچ کی بات کرنے والے سندھیوں اس بے انصافی پر بھی کچھ بولو۔۔۔۔۔۔ ورنہ انقلاب آئے گا جو کچھ نہیں دیکھتا۔۔۔۔۔اس وقت تو بہت خون خرابہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔
یاد کرو کہ کبھی کراچی میں ٹرانسپورٹ صرف پٹھانوں کے پاس تھی۔۔۔۔۔۔۔۔جو مقامی لوگوں کو بات بات پر ننگا کر کے مارتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔1986 میں بشری زیدی کا واقعہ ہوا تو پٹھانوں کی بسوں کو جلا دیا گیا اب کہاں ہیں پٹھان کی ٹرانسپورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔انقلاب ایسے ہی آتا ہے اور جب آئے گا تو بہت خون خرابہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اور تم بھی مارے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی سر پھرا ہمارا پیٹ پھاڑ دے گا۔۔۔۔۔۔کیونکہ جب بھوکا ننگا ہو گا تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔یاد رکھو انصاف بنا ریاست نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے کامیاب طلبہ کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دینی چاہیئے اور کسی بھی بنیاد پر ان کی مخالفت کرنے والوں کو یہ انداز زیب نہیں دیتا ۔