اینٹی کرپشن حکام کی رپورٹ، حلیم عادل شیخ پر سرکاری زمینوں پر قبضہ کا الزام

تحریر : یاسمین طہٰ
اندرون سندھ سے مزید192پولیس انسپکٹرزکراچی میں تعینات
گورنر عمران اسماعیل نے سندھ میں کرونا متاثرین کو ریلیف دینے کیلئے Covid-19 The Sindh ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020 پر دستخط کرکے اس کی منظوری دیدی ہے جو فوری طورپرنافذالعمل ہوگیا ہے۔اس کے تحت صوبے میں شہریوں کے پانی کے بل معاف،ملازمین کی برطرفی ممنوع قرار اوراسکولز فیس20فیصد کم وصول کی جائے گی جبکہ لاک ڈاؤن توڑنے پربھاری جرمانہ عائد ہوگا۔آرڈیننس کے تحت دکان، مکان، دفتر کے کرایوں کی ادائیگی موخر ہوگی۔ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔اس کے تحت کرونا وائرس سے متاثرہ طبقات کو معاشی ریلیف ملے گا۔ قبل ازیں سندھ کابینہ نے 27اپریل کوکرونا ریلیف آرڈیننس منظوری کے لئے گورنر کو بھیجا تھا،گورنر سندھ نے ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کے تحت گیس اور بجلی کی رعایت پر یہ اعتراض عائد کیا تھا کہ یہ وفاقی معاملہ ہے، جس کے بعد سندھ حکومت نے اعتراضات دور کرکے آرڈیننس دوبارہ منظوری کے لیے گورنر سندھ کو بھیجا تھا جس پرانہوں نے دستخط کردیے ہیں۔تحریک انصاف کے رہنما اورسندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کے بارے میں طویل عرصہ سے یہ بات سننے میں آرہی تھی کہ وہ مبینہ طور پر کراچی میں لینڈ مافیا کے سرپرست ہیں۔زرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن نے ان کے خلاف جعلی کاغذات پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کی فائنل رپورٹ تیار کرلی۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق سپرہائی وے پر جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی گالف سٹی پراپرٹیز نامی گروپ نے جعلی کاغذات پر سرکاری زمینوں کو پرائیویٹ کر کے دکھایا گیا ہے۔ ریونیو اور سیہون اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا گیا اور 6 ہاؤسنگ اسکیمز لانچ کی گئیں۔

جاری کردہ تمام ا سکمیں پام گروپ آف کمپنیز کی ملکیت ہیں جبکہ گالف سٹی پراپرٹیز بھی پام گروپ آف کمپنیز کا ذیلی ادارہ ہے جس کے چیئرمین حلیم عادل شیخ ہیں۔ اینٹی کرپشن رپورٹ کے مطابق حلیم عادل شیخ اربوں روپے مالیت کی سینکڑوں ایکڑ سرکاری زمینوں پر قابض ہیں۔ پاکستان میں وفاق اور سندھ کی لڑائی ایک نئے موڑ پر آگئی ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کو کہا کہ وہ سندھ کی ٹھیکیدار نہ بنے ، پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہوا کرتی تھی آج اس میں صوبائیت کی بو آتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ملک میں کرونا وائرس سے متعلق صورتحال پر بلائے گئے سینیٹ کے اجلاس میں کیا ،اس بیان کے ردعمل پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے الفاظ واپس لینے یا استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم عالمی وبا کے دوران تعمیراتی شعبے اور ریئل اسٹیٹ کو ریلیف پہنچا سکتے ہیں تو وفاقی حکومت ذمے داری اٹھاتے ہوئے طبی عملے اور نظام صحت کو بھی ریلیف فراہم کرے۔ وفاق کے لاک ڈاؤن ۹ مئی سے ختم کرنے کے فیصلے پر باالآخر سندھ حکومت نے ۱۱ مئی سے وفاق کی طرز پر لاک ڈاؤن ختم کردیا ہے ۔اگر سندھ حکومت وفاق کے اس فیصلے مین شریک نہ ہوتی تب بھی کراچی کے تاجروں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ وہ ہر صورت ۱۱ مئی سے کاروبار دوبارہ شروع کردیں گے۔ہوسکتا ہے کہ سندھ حکومت نے تاجروں سے محازآرائی سے بچنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہو۔ کیوں کہ ”آل کراچی تاجر کنونشن“میں کراچی کے تاجروں نے متفقہ طور پر اعلان کیا تھا کہ ۱۱مئی سے کراچی کی مارکیٹیں اور کاروبار کھلے گا،سندھ حکومت نے رکاوٹ ڈالی تو حالات کی ذمہ دار وہ خود ہوگی۔ سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کی مخلفت میں تحریک انصاف بھی سرگرم رہی ہے،اور اس کا سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کوسیاسی لاک ڈاؤن قرار دیتے ہوئے گزشتہ ہفتے کاروبار کھولنے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔عوام کے خدشات درست ثابت ہورہے ہیں کہ کرونا پر سیاست کی جارہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پی پی پی اور پی ٹی آئی کی اس حوالے سے پریس کانفرنس جاری ہے۔ادھر صوبہ سندھ میں کرونا کیسزکی تعداد کے حوالے سے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ کے دعوے محکمہ صحت سندھ کی رپورٹ نے غلط ثابت کردئے ہیں۔جس کے مطابق اسپتالوں میں کرونا کے زیرعلاج مریضوں کی تعداد 8189 نہیں بلکہ 1231 ہے اوراسپتال خالی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق جناح اسپتال میں 19،سول اسپتال میں 49، آغا خان اسپتال میں 77،ضیاالدین اسپتال میں 2، اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی ٹرانسپلانٹ میں 36مریض داخل ہیں، صوبہ سندھ میں کرونا سے متاثرہ 95فیصد مریض گھروں پر آئسولیشن میں ہیں۔انڈس اسپتال کے15وینٹی لیٹرز پر7،سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی ٹرانسپلانٹ کے 20وینٹی لیٹرزپر 12مریض ہیں،اسی طرح کراچی کے ایکسپوسینٹر میں بنائے گئے.

آئسولیشن سینٹر میں 736مریض رکھے گئے ہیں،اندرون سندھ کے علاقوں گھوٹکی، دادو،ٹنڈو محمد خان میں کوئی مریض نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق کراچی میں دو روزقبل وینٹی لیٹر نہ ملنے پرڈاکٹر فرقان کی موت نے ساری صورتحال واضع کردی ہے اور سوال کیا جا رہاہے کہ کرونا کیلئے مختص اربوں روپے کہاں استعمال ہوئے اور قرنطینہ مراکز میڈیا کیلیے نو گو ایریا کیوں ہیں۔ واضع رہے کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں کورونا وائرس کے 307 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد11ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرونا کے کیسز کا بڑھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔سندھ میں اب تک 68873 کورونا کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں جبکہ کل کیسز کی تعداد 8189 ہوگئی ہے۔حکومت کی جانب سے اچانک اتنی بڑی تعداد میں اندرون سندھ سے کراچی رینج میں پولیس افسران وملازمان کی تعیناتی پر کراچی رینج میں منتظرشہر کے پولیس افسران واہلکاروں میں مایوسی پھیل گئی ہے،یک نہ شد دو شد، سندھ حکومت پہلے ہی کرونا کے حوالے سے وفاق سے نالاں تھی کہ ٹڈی دل کے حملے نے نئی مصیبت کھڑی کردی ہے ۔اور سندھ حکومت نے وفاق کی مدد سے مایوس ہوکر صوبائی سطح پر ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے زرعی ایمرجنسی ادارہ بنانے پر غور کرنا شروع کردیا. وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے سندھ چیمبرآف ایگریکلچر کے عہدیدارا ن سے ملاقات میں کہا ہے کہ سندھ حکومت اس مشکل گھڑی میں سندھ کے کاشتکاروں کو تنہا نہیں چھوڑے گی,اس وقت سندھ کے 15 اضلاع ٹڈی دل کی وجہ سے سخت متاثر ہوئے ہیں, ٹڈی دل نے سبزیوں کی کاشت کو تباہ کردیا ہے, جس سے کپاس اور چاول کی آنے والی فصل بھی سخت متاثر ہوسکتی ہے.کرونا میں عوام کو مصروف کرکے ایک بار پھر اندرون سندھ سے مزید192پولیس انسپکٹرزکو کراچی رینج میں تعینات کردیا گیا،یادرہے کہ اسے قبل بھی لاڑکانہ سے72انسپکٹرز کو شہر قائد کے تھانوں میں تعینات کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق سابق ڈاکٹر سیدکلیم امام کو آئی جی سندھ کے عہدے سے ہٹانے میں کامیابی کے بعد سندھ حکومت کی من مانیاں عروج پر ہیں گزشتہ روز اندرون سندھ سے مزیدانسپکٹر،سب انسپکٹر سمیت192 افسران واہلکاروں کو کراچی رینج میں تعیناتی کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔