میاں بیوی پروفیسر تھے اور حسب روایت دونوں غیر حاضر دماغ بھی

اک شاعر کی سنئیے۔
تنہائی کے دوزخ سے بھی گزرا ہوں میں لیکن
بے لطف رفاقت کی سزا اور ہی کچھ ہے
بے لطف رفاقت ان لوگوں کی محفل ہے جہاں آپ لطف اندوز ہونے کی بجائے الٹا بدمزہ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی علمی سطح ، ذہنی استعداداور مزاج آپ سے مختلف ہوتے ہیں ۔ انہیں لطیفہ سنانے کے ساتھ سمجھانا بھی پڑتا ہے ۔کیونکہ ہر لطیفہ اپنے ماحول کی نمائندگی کرتا ہے ۔ لطائف سننے سنانے کے کچھ اپنے ہی مزے ہیں۔ ایک صاحب سنارہے تھے۔ میاں بیوی پروفیسر تھے اور حسب روایت دونوں غیر حاضر دماغ بھی ۔اک شام وہ گھر میں بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔ دروازے پر دستک ہوئی ۔ بیوی اک دم گھبرا کر یہ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اوہ !میرے شوہر آگئے ۔ ادھر شوہر نے جھٹ آئو دیکھا نہ تائو ۔ کھڑکی کھولی ،چھلانگ لگائی اور بھاگ دوڑا۔ سننے والوں کو لطیفے کی اتنی ہی سمجھ آئی کہ پوچھنے لگے ۔ کہیں چھلانگ لگاتے کوئی چوٹ تو نہیں آگئی ؟اب کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ لطیفہ سنانے والے پرکیا بیتی۔ اتنے ثقیل اور دیر ہضم لطیفے سننے سنانے کیلئے آپ موبائل فون سے دنیابھر میں اپنے من پسند بندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ کال ملایئے۔ جی بھر کے باتیں کیجئے ۔ ویسے بھی اب مصافحوں ، معانقوں ، بغلگیر ہونے اورہاتھ پر زور سے ہاتھ مارنے کے زمانے لد گئے ۔ اب ایسے ہی دوستیاں فاصلوں سے نبھا کریں گی۔ ان دنوں کالم نگار گھر میں ہے اور بہت مزے میں ہے ۔ فیس بک فرینڈز کی لسٹ بہت بڑھ گئی ہے ۔ بہت سے لوگ میری ہاں کے منتظر ہیں۔ بہت سوں کو ہم نے خود دوستی کی ریکوئسٹ بھیجی ہے ۔اجنبی لوگوں سے ، بوڑھوں سے ، جوانوں سے ، شاعروں سے ، ادیبوں سے گپ شپ کا کچھ اپنا ہی مزہ ہے ۔ آپ کسی کی وال پر لکھ سکتے ہیں۔ جواب پڑھ سکتے ہیں۔ بڑے بڑے مزے کے لوگ ہیں،کرونا سے خائف اپنے اپنے گھروں میں دبکے پڑ ے ہوئے ۔

ایک شریف آدمی نے اپنی وال پر کچھ سبزیوں کی تصویریں لگائیں۔کچھ اور سبزیوں اور پھلوں کے جلد آنے کی خبر بھی دی ۔ کالم نگار منظر سے زیادہ پس منظر پر نظر رکھتا ہے ۔تصویر میں پلستر کے بغیر دیوار اس کی نظر سے اوجھل نہ رہ سکی ۔ جھٹ سے لکھ دیا۔کچھ سبزی مہنگے داموں بیچ کر دیوار کو پلستر کروالیں۔انہوں نے برامنایا اور لکھا کہ دیواریں بغیر پلسترہی اچھی لگتی ہیں۔ میں اس پینڈو سوچ کا کیا کر سکتا ہوں کہ ہر چیز پلستر کروا لی جائے ۔ ایک شہری جم پل کو پینڈو ہونے کا الزام خاص برا نہ لگا۔پھر انہوں نے اپنا فرمان نامکمل سمجھتے ہوئے اس میں یوں اضافہ کیا۔یہ ڈیرہ ہے گھر نہیں۔ یہاں بغیر پلستر اور کچی اینٹیں اچھی لگتی ہیں۔ کالم نگار نے عرض کی ۔ میں منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے کچھ مزید کڑوا جواب چاہتا تھا۔ ادھر سے فرمان جاری ہوا۔اتنا ہی کافی ہے ۔کالم نگار نے بھی اسے شافی جانا اور چپ سادھ لی ۔ پھر گوجرانوالہ کے گوشت خورکالم نگار کو تازہ سبزی سے روزہ افطار کرنے کی دعوت بھی دی گئی۔وہ نہیں جانتے تھے کہ گوجرانوالہ کے لوگ صرف حلال جانوروں سے محبت کرتے ہیںکہ ان کا گوشت لذیذ ہوتا ہے ۔ خیر ؛ کالم نگار انہیں عرض نہ کر سکا۔ آپ کو یونہی دیوار پلستر کروانے کا لکھ دیا۔ورنہ ہمیں کیا۔ القصہ !آخر کوئی بات تو کرنا ہوتی ہے ۔ ایسا ہی جواب ایک مرتبہ (سابق) گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے کالم نگار کو دیا تھا۔لاہور الحمرا ہال میں معروف کالم نگار توفیق بٹ کے ساتھ شام منائی جارہی تھی ۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اپنے صدارتی خطبہ میں گورنر پنجاب کہنے لگے ۔نوجوان توفیق بٹ نے صحافت کے مشکل میدان میں اپنے لئے ایک اہم مقام بنایا ہے ۔ سٹیج پر مجیب الرحمان شامی صاحب تشریف فرما تھے۔ یہ صحافتی دیو بھلا کسی نئے بندے کو کہاں ’’اُگنے ‘‘دیتے ہیں۔یہ سن کر پہلی قطار میں بیٹھا کالم نگار اٹھ کھڑا ہوا۔ بولا۔ حضور!آپ درست نہیں کہہ رہے ۔ شامی صاحب نئے لکھنے والوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

حتیٰ کہ ہم جیسے نو آموز بھی روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بڑے اہتمام سے جگہ پاتے ہیں۔ گورنر صاحب بولے ۔بھئی تشریف رکھیں۔ میں سب جانتا ہوں۔ آخر کوئی بات بھی تو کرنی ہوتی ہے ۔سو کالم نگار کو بھی کوئی بات کرنا تھی ، کر دی ۔ ورنہ انہیں کیا۔دیوار پلستر شدہ ہے یا نہیں۔ اچھی بات ہے ۔ ایک زراعت پیشہ آدمی نے ایک غیر زراعت پیشہ آدمی کو سمجھا دیاکہ گھر کی دیواروں پر پلستر ہوتا ہے اور ڈیروں کی دیواریں بغیر پلستر کے اچھی لگتی ہیں۔ تحریک انصاف تبدیلی نہ لا سکنے کی وجہ پچھلی حکومتوں کی بجائے جلد ہی کرونا کی طرف منتقل کرنے والی ہے ۔اب تو ہر الزام کرونا پر دھرا جائے گا۔ 1967ء میں اسرائیل کے ہاتھوں مصر کی مکمل شکست پر ایک عرب شاعر قبانی کا کہنا تھا۔’’ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری باتیں ہمارے اعمال سے بڑی ہیںاور ہماری تلواریں ہم سے اونچی ہیں‘‘۔ کالم نگار کی رائے میں حکومت کا بھی یہی المیہ ہے ۔ جوںجوں وقت آگے بڑھتا جا رہا ہے ، پاکستان توں توں پیچھے کی طرف لڑھکتا جا رہا ہے ۔ اپنی جماعت کے یوم تاسیس پر عمران خان نے ملکی وسائل کے منصفانہ تقسیم کی بات کی ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟ بلوچ رہنما سردار خیر بخش مری نے محترمہ فاطمہ بھٹو سے کہا تھا۔ پاکستان کوئی آزاد ملک نہیں بلکہ یہ ایک کالونی ہے ۔ ماضی میں یہ برطانیہ کی کالونی رہا ہے ۔اب یہ امریکہ کی کالونی ہے ۔پھر آپ کالونیوں سے آزاد رویے کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟ کالم نگار کی رائے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے سرمایہ داری اورسوشلزم کے درمیان کسی فارمولے پر رکنا پڑے گا۔ جو کسی خاص طبقے کی بجائے تمام لوگوں کے لئے ہو۔ آخر میں ایک کرونا آمیز لطیفہ ۔میراثی اپنی بے گناہی کی قسم کھا رہا تھا۔بولا۔چوہدری جی !میرے سارے بچے مر جائیں۔ اگر میں نے گائے چرائی ہو۔ اس سے گائے برآمد ہوگئی ۔لعن طعن کی گئی ۔ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا۔حجور!دراصل میں چاہتا تھا کہ بچے دودھ پی کر مریں۔ بھوکے نہ مریں-
Farooq Alam Ansari Nawaiwaqt