بلوچستان میں وائرس سے اموات کی تعداد 37، پبلک ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ۔ کورونا وائرس سے متعلق امور اور اسپتالوں کی کورونا وائرس کے طبی آلات کی ضروریات کا جائزہ، بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اجلاس کو مجموعی صورتحال پر بریفنگ ، صوبے میں کورناوائرس کا مقامی پھیلاؤ 94 فیصد اور باہر سے آنے والوں کی وجہ سے 6 فیصد ہے ۔ وائرس سے اموات کی تعداد 37 ہے ۔ 454 افراد صحتیاب ہوۓ شیخ زید اسپتال میں 20 فاطمہ جناح اسپتال میں 18 جبکہ سیلف آئیسولیشن میں 2163 افراد ہیں ، صوبے میں 149ڈاکٹرز اور 47 پیر ا میڈکز کورونا وائرس سے متاثر ہوۓ ، اجلاس میں غیر ضروری ٹیسٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ
عید کے بعد مزید 4 ٹیسٹنگ مشین اور 60 ہزار کٹس دستیاب ہونگی ۔ ادویات کی خریداری کا جاری عمل عید کے فوری بعد مکمل ہو جاۓ گا ۔

کنٹریکٹ پر مائکرو بیالوجسٹ کی بھرتی کا عمل جاری ہے ۔ اس وقت کوئیٹہ کے تین اسپتالوں میں 25 وینٹیلٹر اور آئ سی یو بیڈز موجود ہیں مزید 75 خریدے جارہے ہیں جس سے کل تعداد 100 ہو جاۓ گی ۔ اجلاس میں روڈ ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہار ۔ ایس او پیز کے بغیر ٹرانسپورٹ کھلنے سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ دیہاتوں تک پھیل سکتا ہے ۔ اجلاس کی عوام سے سفر نہ کرنے کی اپیل ۔ کوئیٹہ کے لو گ شہر سے باہر نہ جائیں اور باہر والے کوئیٹہ نہ آئیں کیونکہ وائرس کے اثرات کوئیٹہ میں زیادہ ہیں ۔ عوام عید سادگی سے منائیں عید میلوں پر مکمل پابندی ہو گی ۔ عید گاہوں کی تعداد میں اضافہ کر کے رش کو کم کیا جاۓ گا۔اجلاس میں فیصلہ ۔ اجلاس میں گندم کی خریداری کے عمل کا بھی جائزہ ۔
گندم زخیرہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کاروائ کا فیصلہ ۔ محکمہ اطلاعات کو مقامی زبانوں میں سفر نہ کرنے کی آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت۔ اجلاس میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ۔