خالصتان تحریک … ایک نئے دور میں !

سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی امن اومان اور مساوی برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کا ہمیشہ منفی انداز میں جواب دیا گیااور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت نے اپنے تمام ہمسایوں سمیت دنیا کے ہر نمایاں ملک میں اپنی ریشہ دوانیوں کے سلسلے کو دراز کر رکھا ہے مگر ہر مرتبہ بھارت کو منہ کی ہی کھانی پڑی۔ بھارتی جاسوس’کلبھوشن یادیو‘ کی پاکستان میں تخریب کاری کی وارداتوں سے بھلا کون آگاہ نہیں، اب کینڈا میں کینڈین سیکورٹی فورسنز کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور انڈین آئی بی کا ایک اور نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ کینیڈا میں مقیم بھارتی نژاد کینیڈین شہری سکھوں اورکشمیریوں کی جاسوسی کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے جنہیں خاصی تگ و دو کے بعد قابو کیا گیا اوربھارتی خفیہ ایجنٹوں کو بطور مجرم کینڈا فیڈرل کورٹ میں پیش کیا۔ یاد رہے کہ کینڈا میں بھارت کا یہ مکروہ سازشی چہرہ پہلی مرتبہ بے نقاب نہیں ہوا بلکہ گزشتہ برس چھ مارچ کو’’را‘‘ کے پے رول پر جرمنی میں بھارت کیلئے جاسوسی کرنے والے ایک بھارتی جوڑے کو جرمن انٹیلی جنس نے پکڑ کر برلن کی عدالت میں پیش کیا تھا۔ اعترافی بیان میں بھارتی جوڑے نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ جرمنی میں کشمیریوں اورسکھوں کی جاسوسی پرمامورتھے اور’را‘ کو تمام تفصیلات فراہم کرتے تھے۔ قابلِ ذکر امر ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے کینیڈا کے بعض سیاستدانوں تک اپنے ایجنٹوں کی رسائی ممکن بنائی جنہیں بلیک میل یا ہراساں کر کے اور اْن پر اثرانداز ہونے کیلئے دبائو ڈالا گیا۔اس بھارتی ایجنٹ کو کینڈین میڈیا نے ’اے بی‘ کا نام دیا ہے اور یہ شخص کسی نامعلوم بھارتی اخبار کا ایڈیٹران چیف بتایا جاتا ہے۔ گرفتار ایجنٹ نے تفتیش کے دوران بتایاکہ وہ کینڈین سیاسی ایوانوں میں ایسے مہروں کی تلاش پر مامور تھا جو ایوانوں میں کشمیریوں اور خالصتانی سکھوں کے خلاف زہر اگلیں اور ان پر خالصتان اور کشمیر تحریک کیلئے فنڈنگ کا الزام عائدکریں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی اس ضمن میں ایک عرصے سے دو رخی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ نہتے کشمیریوں ، مظلوم سکھوں، بے قصور بھارتی مسلمانوں و دیگر اقلیتوں پر جنونی ہندوئوں کیجانب سے جب تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں تو بجا طور پر ان طبقات کی جانب سے ردعمل کی لہر سامنے آتی ہے مگر بھارت سرکار اپنی تمام تر ناکامیوں اور زیادتیوں کا ملبہ دوسرے ممالک کے سر مڑھنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے۔

مبصرین کے مطابق حالیہ دنوں میں خالصتان تحریک ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یوں تو ہندوستان کے بالا دست طبقات کی عرصہ دراز سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے خلاف ہر سطح پر ایسی کوششیں جاری رکھی جائیں جن کے نتیجے میں اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے قیام کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے اور اسی تناظر میں 1925 میں ڈاکٹر ہیگواڑ کی زیر قیادت RSS کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں یہ امر خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ پاکستان کے حوالے سے BJP اور کانگرس کی قیادت میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے، البتہ ان کی حکمت عملی میں تھوڑی بہت تبدیلی ظاہر ہوتی رہتی ہے مگر دونوں کا بنیادی ایجنڈا بڑی حد تک ایک سا ہی ہے۔ اس بات کو یوں زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح قیام پاکستان کے بعد کے ابتدائی برسوں میں خاصے طویل عرصے تک نہرو سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی حامی بھرتے رہے البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی لیکن نہرو کے بعد آنے والے بھارتی حکمرانوں خصوصاً اندرا گاندھی نے تو گویا کھل کر پاک مخالف ایجنڈا اعلانیہ طور پر اپنا لیا جس کے نتیجے میں سانحہ مشرقی پاکستان پیش آیا۔ یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے کے فوراً بعد تب بھارتی جن سنگھ (موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی) کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی نے مسز گاندھی کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ’’شی از درگا ماتا‘‘۔واضح رہے کہ ہندو دیو مالا میں درگا تباہی و بربادی کی دیوی ہے۔ بہرکیف آگے چل کر 6 جون 1984 کو آپریشن بلیو سٹار میں ہزاروں سکھوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس کے فوراً بعد تین تک دہلی میں سکھوں کا قتل عام ہوتا رہا ۔ سکھوں کی اس نسل کشی کے بعد سبھی بھارتی خفیہ اداروں کی ہدایت پر کانگرس اور خصوصاً BJP نے شعوری کوشش کی کہ سکھوں کو واپس کسی بھی طور قومی دھارے میں لایا جائے، اس مقصد کیلئے مختلف سطح پر بیک وقت کئی شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی گئیں۔
بات ہو رہی تھی راشٹریہ سکھ سنگت ، RSS اور BJPکی ملی بھگت کی۔ 1986 میں راشٹریہ سکھ سنگت کے قیام کے بعد سے اب تک راجستھان، دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور خصوصاً ہندوستانی پنجاب میں اس کی 500 سے زائد شاخیں قائم ہو چکی ہیں، مگر آر ایس ایس اور بی جے پی کی تمام تر کوششوں کے باوجود خالصتان تحریک دن بہ دن زور پکڑتی جا رہی ہے اور قوی امکان ہے کہ سکھ قوم جلد اپنے مقصد میں کامیاب قرار پائے گی۔
Asghar Ali Shad Nawaiwaqt