میں صبا ہوں، میلبورن میں رہتی ہوں، سڈنی ایک کام سے آئی تھی

صبا سے ملاقات سڈنی آسٹریلیا میں ہوئی۔ ہم ایک پارٹی میں مدعو تھے۔ میرے پاس کی کرسی پر ایک نہایت خوش اخلاق خاتون تھیں۔ دھیرے سے میرے کان میں بولیں” میں بن بلائی مہمان ہوں” پھر کھلکھلا کر ہنسی۔
” میں صبا ہوں۔ میلبورن میں رہتی ہوں۔ سڈنی ایک کام سے آئی تھی۔ میری دوست مدعو تھی زبردستی مجھے ساتھ لے آئی”۔ اس کی چنچلتا، حاضر جوابی اور خوش اخلاقی نے بہت متاثر کیا۔ ہم نے بھی اپنا تعارف کرایا۔
وہ اعلی تعلیم یافتہ اور ذہین تھی۔ جلد ہی ہماری دوستی ہو گئی۔ آسٹریلیا سے واپس آ کر بھی ہمارا رابطہ رہا۔ بے تکلفی بڑھ گئی۔ وہ میرے مضامین پڑھتی، اپنی رائے بھی دیتی۔ اس کے کمنٹس ذہانت سے بھرپور ہوتے۔ خود بھی لکھتی تھی۔۔ ایک ویب سایئٹ پر اس کی شاعری پبلش ہوتی تھی۔ ہم کچھ اور ایک دوسرے کو جان گئے تو مجھے لگا کہ اس کی تو اپنی زندگی بھی ایک داستان ہے۔ میں نے کہا اپنی کہانی لکھو تو بولی اپنی کہانی لکھنا مشکل کام ہے۔ آپ لکھ دیں۔ تو یہ کہانی ہے صبا کی۔
جی میں ہوں صبا۔ لاہور سے تعلق ہے۔ بچپن اور ٹین ایج جذباتی محرومی میں گذرے۔ میں بہت چھوٹی تھی والد نے دوسری شادی کی اور ہمیں بھلا دیا۔ آس پاس دوسرے بچوں کو اپنے باپوں سے لاڈ پیار کرتے دیکھا اور دل کو تھام تھام لیا۔ یہ میرا مرد سے پہلا تعارف تھا۔ جو ایک مدت تک غائبانہ رہا۔ پھر ملنا بھی ہوا لیکن ہم کبھی کنکٹ نہ ہو سکے۔ میرا دل کرچی کرچی تھا اور وہ شیشوں کے مسیحا کبھی نہ بن سکے۔
سترہ سال کی عمر میں ایک کرش ہوا اور اٹھارہ میں کریش ہوگیا۔ چھے صفحوں کا ایک خط میرے نام لکھ کر بندہ ولایت روانہ ہو گیا۔ خط اس کے جانے کے اگلے دن بذریعہ کوریر ملا۔ کہ ہم ساتھ نہیں چل سکتے، سوچ میں فرق ہے۔ لیکن گڈ لک۔
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے۔
بعد میں سنا کہ ایک ہی تیر سے دو شکار کئے شادی بھی ا ورولایتی ویزا بھی۔ سب کافی عرصے سے اور بڑی خاموشی سے ہوتا رہا۔ مجھے پتہ بھی نہ چلا۔ امی کے سامنے سخت شرمندگی ہوئی کیونکہ وہ سب جانتی تھیں۔

حیران و پیچاں کہ یہ ہوا کیا؟وہ وعدے وہ عہد و پیماں کیا ہوئے؟ اپنے احمق پن پر قہقہے لگانے کے بعد دل کو سنبھالا اور سر اٹھا کر جینے کی آرزو کی۔ زندگی میں آنے والے ان دو کمزور اور دوہرے معیار رکھنے والے مردوں پر ان کی بے چارگی دیکھتے ہوئے رحم کیا۔ وہ جانیں ان کا وجدان جانے۔ والد کو بغیر مانگے معافی دے دی اور دوسرے کو جانا کہ یہ ایک برکت تھی جو بھیس بدل کر آئی تھی۔ یعنی
مجھے اور میری بڑی بہن کو امی اور نانی نے پالا اور زندگی کی اقدار اور انسان کی قدر سکھائی۔ اچھا ہی ہوا کہ باپ سے دور رہے۔ ان کے معیار اور اقدار کچھ اور تھیں۔ امی کالج پروفیسر تھیں۔ گھر اپنا تھا۔ ہماری تعلیم پر بہت زور تھا۔ بڑی بہن ہما تو ذہین تھی آسانی سے منزلیں طے کرتی گئی۔ میں قدرے نڈھال تھی۔ لیکن پھر ہمت پکڑ لی۔
سو تیر ترازو تھے دل میں جب ہم نے رقص آغاز کیا
کتابیوں کی گرد صاف کی اور یونیورسٹی سے رشتہ استوار کیا۔ ساتھ ہی لکھ لکھ مارے بین۔ خوب شاعری کی۔ اخباروں میں لکھا۔ ویکلیز میں لکھا۔ چکی کی مشقت کے ساتھ ساتھ مشق سخن بھی جاری رکھی۔ مشاعروں سے بلاوے آنے لگے۔ پھر ایک کتاب بھی چھپ گئی۔ انٹر نیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کی ڈگری لی اور یوں لی کہ ٹاپ پانچ میں نام آیا۔ ایک کالج میں لیکچرار کی نوکری بھی مل گئ۔
لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ مجھے کچھ اور کرنا تھا۔ ہما کی شادی ہوتے ہی میں نے چپکے چپکے باہر کی یونیورسٹیز میں ڈاکٹریٹ کے لیئے درخواستیں بھجنی شروع کر دیں۔ آسٹریلیا کی میلبورن یونیورسٹی سے مثبت جواب آ گیا۔ اسکالرشپ کے ساتھ۔ گھر والوں کی اجازت کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ میرے لیے تو ویسے بھی امی کی بات اہم تھی اور کسی کی مجھے پرواہ بھی نہیں تھی۔ ہما اور اس کے میاں نے حامی بھرلی کہ وہ امی کے پاس آ جایں گے۔ امی نے کہا” جانے سے پہلے اپنے ابا سے بات کرلینا۔۔۔ خدا حافظ کہہ دینا کچھ پتہ نہیں کیا ہو”
میں نے ابا کو فون کیا پہلے تو وہی سردمہری تھی پھر جب میں نے بتایا کہ آسٹریلیا جا رہی ہوں پڑھنے تو لہجہ بدل گیا۔ کچھ متاثر ہو گئے۔
” اچھی بات ہے۔ اپنے بھائی کے لیئے بھی کوشش کرنا۔ اسے بلا لینا”
اچھا تو ہمارا کوئی بھائی بھی ہے؟۔ میں نے سوچا۔
جانے سے پہلے امی نے ایک اور ہدایت کی۔ ” شادی کر لینا”
“کس سے”؟
“جس سے دل ملے” ماں نے یہ جملہ دل سے کہا اور میرے دل کو لگ گیا۔

میلبورن میں ایک نئی دنیا میری منتظر تھی۔ اور میں جلد ہی اس میں رچ بس گئی۔
میرا قیام ہوسٹل میں تھا۔ میں لیکچر بھی دے رہی تھی اور اپنے تھیسیس کی تیاری بھی۔ ایک روز یونیورسٹی کے نزدیک ایک چھوٹے سے ریسٹوڑنٹ کے تنہا سے گوشے میں بیٹھ کر برگر کا آرڈر دیا۔ لیپ ٹاپ پر تییزی سے انگلیاں چلا رہی تھی کہ کان میں آواز پڑی” تمہارا کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ کھا لو۔ کام بعد میں کر لینا” سر اٹھا کر دیکھا تو ایک لمبا چوڑا مرد ایپرن باندھے پاس کی ایک میز صاف کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب تھا۔ میں نے جو لکھا تھا اسے محفوظ کر کے مسکراتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کیا اور برگر کی طرف توجہ کی۔
” اگر ٹھنڈا ہو گیا ہے تو دوسرا لے آؤں؟”
” نہیں ٹھیک ہے۔ شکریہ”
میں اکثر اس رسٹورنٹ میں لنچ کے لیئے جانے لگی وہ اکثر ہی نظر آتا۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر ہنستا ہوا میری میز پر آجاتا۔ میرا کھانا لا کر میز پر رکھتا اور روز کہتا” ٹھنڈا ہونے سے پہلے کھا لینا”
وہ کچھ مختلف سا تھا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اتنا الگ الگ سا کیوں لگتا ہے۔ اس کے ہونٹوں پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی۔ آنکھوں میں چمک کے علاوہ ایک اپنایت نظر آتی۔ وہ لمبا تھا۔ بال بھورے اور گھنگریالے، گھنے ابروؤں کے نیچے ہلکی سبز شربتی سی آنکھیں۔ رنگ سانولا۔ کچھ اندازہ نہیں ہوسکتا تھا کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے۔
ایک دن اس نے اپنا تعارف کروایا۔ ” ہائے میں مایئکل ہوں”
” میں صبا ہوں”
” صبا۔۔۔ ہمم۔۔۔ صبا تم کہاں سے آئی ہو؟”
” پاکستان سے”
” اوہ پاکستان جو پہلے انڈیا کا حصہ تھا اور برٹش کالونی تھا”۔ ” ہاں بالکل”
” ڈیم دیز برٹش پیپل” وہ ہنسا تو میں بھی ہنس دی۔ ” اور تم”؟
” میں تو اسی زمین کا بیٹا ہوں۔ قدیمی آسٹریلین ہوں۔ “
” اوہ یعنی کہ۔۔۔ ” میں کہتے کہتے رک گئی۔
” ہاں ہاں۔۔۔ بالکل۔۔ میں ابورجینی ہوں”
میں نے ابورجینی دیکھے تھے۔ لیکن مایئکل کی شکل ان سے مختلف تھی۔ میری الجھن دیکھ کر وہ بولا۔

” میرے نانا سفید فام تھے۔ میری نانی ان کی ملازمہ تھیں۔ خون میں یہ ملاوٹ کہیں نہ کہیں نظر آ جاتی ہے۔ ڈیم دیز برٹش” وہ پھر ہنسا۔ میں بھی ہنسی۔ اور ہماری دوستی ہو گئی۔ وہ وہاں ہیڈ شیف تھا اور اکثر مجھے اپنے نت نئے قسم کے برگر اور پیتزا بنا کر کھلاتا۔ مچھلی اور جھینگے بہت اچھے بناتا۔ ایک روز وہ بولا۔ ” میں تمہیں ڈنر پر لے جانا چاہتا ہوں کسی اچھے فینسی ریسٹورنٹ میں۔ موم بتی کی روشنی میں۔ اچھا کھانا اور اچھی سی وائن۔ ہلکی سی موسیقی “
” ٹھیک ہے۔ سب منظور۔ تمہارے پینے پر بھی اعتراض نہیں بس بہکنا مت”
ڈنر کے دوران اس نے بہت باتیں کیں۔ ہر موضوع پر اس کی معلومات بھرپور تھیں۔ میری تھیسس میں بھی دلچسپی لی اور مجھے کئی حوالے بھی دیئے جو میرے موضوع سے متعلق تھے اور مجھے ان سے مدد مل سکتی تھی۔ پھر اچانک میں نے وہ سوال کر دیا جو میرے دل میں کب سے اٹھ رہا تھا۔
” مایئکل تم مزید تعلیم کیوں حاصل نہیں کرتے؟”
” کیا مطلب؟” ” مطلب یہ کہ آگے پڑھو۔ تم اتنے ذہین ہو۔ نالج بھی ڈھیر ساری ہے۔ کالج میں داخلہ لے لو”
وہ اتنا ہنسا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں حیرانی سے اسے دیکھتی رہی۔ پھر ہنستے ہنستے بولا
” مس صبا۔ میں میکینیکل انجیئنر ہوں۔ ڈگری ہولڈر ہوں۔ “
میں شرم سے پانی پانی ہو گئی۔
” ککنگ میرا شوق ہے بلکہ پیشن ہے۔ تین سال میں نے انجینیرنگ کی لیکن میرا دل کہیں اور تھا۔ میں نے ککنگ کے کورسز کیے۔ میرا اسی کام میں دل لگتا ہے۔ کچن میں خوش رہتا ہوں۔ میں ککنگ میں تجربے کرنا چاہتا ہوں۔ نئے ذائقے متعارف کرانا چاہتا ہوں۔۔ پلان یہ ہے کہ کسی دن اپنا ریسٹورنٹ کھول لوں۔ اور تم روز وہاں آؤ “
ایک روز وہ مجھے اپنا گھر دکھانے لے گیا۔ درختوں میں گھرا پر سکون سا گھر۔ اسٹڈی میں ہر موضوع پر ڈھیروں کتابیں۔ بیک یارڈ میں کچن گارڈن۔ جہاں اس نے سبزیاں اگائی ہوئی تھیں۔ ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ مائیکل نے اپنے خاندان کے بارے میں بتایا۔ والد دنیا سے جا چکے تھے۔ ماں نے دوسری شادی کر لی، اب لندن میں رہتی ہے۔ ایک چھوٹا بھائی ہے جس سے وہ بہت محبت کرتا ہے۔ دونوں بھائی فوسٹر ہومز میں پلے۔ مائیکل کے دل میں اپنے فوسٹر والدین کا بہت احترام تھا۔ ہم بہت باتیں کرتے۔ میں نے اسے ابا کی بے مہری اور ولایتی ویزا کے خریدار کی بے وفائی کا بتایا۔ اس نے اپنے باپ کی الکوحل کی اڈیکشن اور تین ناکام رومانس کے قصے سنائے۔

میں نے امی کے ویزا کی کوششیں شروع کر دیں۔ ادھر میرا ایک سمسٹر ختم ہوا ادھر امی کا ویزا آ گیا۔ حنا کے بیٹا ہوا تھا اور امی اس میں خوش اور مصروف تھیں۔ میں نے ضد کی” امی جلدی سے آجایں بس۔ ” ” میرا تو سونو میں دل لگا ہوا ہے۔ خیر تو ہے۔ جلدی کس بات کی؟”
” دل مل گیا ہے امی۔ بس آ جائیں” ” ہائے۔۔۔ سچی۔۔۔ کون ہے کیسا ہے؟”
” آسٹریلین ہے۔ بہت اچھا ہے” ” اچھا گورا ہے؟ ہممم۔۔۔ کیا کرتا ہے؟” میں نے تفصیلی بات ان کے آنے تک اٹھا رکھی۔ امی کے انے سے پہلے میں نے ایک بیڈ روم کا فلیٹ کرائے پر لے لیا۔ وہ آئیں تو میں نے انہیں مائیکل کے بارے میں سب بتا دیا۔ کہ وہ گورا نہیں ہے۔ ریسٹورنٹ کا مالک بھی نہیں ہے، وہاں کام کرتا ہے۔ مایئکل کو دیکھنے پر انہیں شاید مایوسی ہوئی ہو لیکن اس سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔
ہم نے ایک ہفتہ بعد شادی کی تاریخ رکھ دی۔ صبح سٹی ہال میں جا کر پیپر سائن کرنے تھے۔ شام میں مایئکل کے ریسٹورنٹ میں دوستوں کے ساتھ پارٹی۔ امی نے کہا کہ نکاح بھی ہو۔ مائیکل کو کوئی تامل نہ تھا۔ ، سٹی ہال سے واپسی پر قریبی مسجد پہنچ گئے۔ مولوی صاحب سے کہا نکاح پڑھوا دیجیئے۔ بولے” گواہ ساتھ لائی ہیں” کہا والدہ ہیں اور قریب ترین سہیلی بھی۔ کہا” یہ تو خواتین ہیں۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ ” میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ امی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ مولوی صاحب بولے” نماز کا وقت ہونے والا ہے نمازی آئیں گے ان میں سے کسی کو گواہ بنا لیں” یعنی ہمارے نکاح کے گواہ کوئی اجنبی بنیں گے۔ شکر کہ مایئکل کا چھوٹا بھائی ساتھ تھا گواہ پورے ہو گئے۔۔ پھر حق مہر پر بات ہوئی۔ مائیکل کو سمجھایا کہ یہ کیا ہے۔ اس نے کہا وہ اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے۔ لیکن مولوی صاحب نہیں مانے۔ مائیکل نے کہا ” میرا ایک مالٹوں کا باغ ہے وہ میں صبا کو دیتا ہوں” مجھے تو خبر بھی نہ تھی کہ اس کا کوئی باغ بھی ہے۔ خیر نکاح ہو گیا۔ ہم قانونی اور شرعی میاں بیوی بن گئے۔

ہمارے دو بچے ہیں ایک بیٹا ، ایک بیٹی۔ دونوں کی آنکھیں سبز ہیں لیکن بال کالے ہیں۔ امی یہیں رہ گئیں۔ ایک اپارٹمنٹ لے لیا۔ اپنی دوستوں کا نیٹ ورک بنا لیا ہے۔ خوب فعال رہتی ہیں۔ پاکستان بھی جاتی رہتی ہیں۔ میرے بچوں سے اردو بولتی ہیں۔ میں اب پروفیسر ہوں۔ شاعری اب بھی کرتی رہتی ہوں۔ مائیکل کا اپنا ریسٹورنٹ کا خواب بھی پورا ہو گیا۔ مالٹوں کے باغ میں جب مالٹے پک کر تیار ہو جاتے ہیں تو ہم توڑنے جاتے ہیں۔۔ امی جگ بھر بھر کر جوس نکالتی ہیں۔ اور مائیکل مالٹوں کے چھلکوں کا مزیدار مارملیڈ بناتا ہے۔
امی مائیکل کے ساتھ اس کےکچن گارڈن میں بہت دلچسپی لیتیں۔ انہوں نے مائیکل کو دیسی مسالوں سے آشنا کیا۔ کئی پاکستانی کھانے بنانا سکھایا۔ مائیکل نے ان پر تجربے کیے اور نئی ڈشز ایجاد کیں۔ اس کا اگلا خواب میشلین اسٹار حاصل کرنا ہے۔
چند ماہ پہلے اچانک ایک دن فیس بک مسینجر پر ولایتی ویزا گزیدہ کی فرینڈز ریکویسٹ اور مسیج ملا۔ ” دیکھو میں نے تمہیں ڈھونڈ لیا۔ آسٹرہلیا میں ہو بڑے مزے ہیں تمہارے۔ میں آئر لینڈ میں ہوں۔ شاید تمہیں علم ہو کہ میری شادی ہو گئی تھی۔ لیکن نبھ نہ سکی۔ وہ بچی کو لے کر الگ ہو گئی۔ یہاں حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں۔ آسٹریلیا میں سب کیسا ہے؟ کوئی اسکوپ ہے؟ اپنی سی وی اور ڈاکیومنٹس بھیج دوں؟ “
جی تو چاہا کہ جواب میں سیدھے ہاتھ کی درمیانی اگلی کی ایموجی بھیج دوں۔ اس کے چھے صفحوں کے خط کا جواب بھی ہو جاتا۔ جو مجھ پر قرض تھا۔ لیکن پھر میسنجر پر اگنور اور فیس بک پر فرینڈز ریکویسٹ ڈیکلاین کے بٹن دبا دینا کافی سمجھا۔
Nadira Mehar Nawaz from humsub pages