ایسے جیسے کسی نے قید میں رکھا ہوا تھا اب رہائی کا پروانہ ملا تو خوشی کی انتہا نہ رہی

حکومت نے کافی سوچنے ’سمجھنے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد لاک ڈاؤن ختم کر دیا ہے مکمل لاک ڈاؤن تو پہلے بھی نہیں تھا اب جو تھا وہ بھی نہیں رہا۔ ظاہر ہے کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اپنے کندھوں پر لمبا لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی کل آبادی 220، 892، 340 ہے۔ جس میں غریب عوام زیادہ ہے اور اتنی عوام کو گھر پر کھانا پہنچانا ناممکن ہے لہذا حل یہی نکلتا تھا کہ لاک ڈاؤن کو ختم کر دیا جائے تاکہ غریب بھوک و افلاس سے نہ مرے۔
بقول ہمارے وزیراعظم صاحب کہ سکون قبر میں ہے ’بس قبر میں جانے کی تیاری کی جائے آگے اللٰہ جانے اور بندہ‘ کہ واقعی سکون ملتا ہے یا نہیں۔
لاک ڈاؤن ختم کیا ہوا لوگوں نے بازاروں کا رخ کر لیا ایسے جیسے کسی نے قید میں رکھا ہوا تھا اب رہائی کا پروانہ ملا تو خوشی کی انتہا نہ رہی اور سب سڑکوں پر آگئے ہیں۔ لوگوں کا جم آفریں دیکھ کر ’لگتا ہی نہیں کہ کوئی کرونا وائرس ہے۔
زیادہ لوگوں کی تعدار ایسی ہے جو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ کرونا وائرس صرف کافر کی سازش ہے اور یہ ایک بس ڈرامہ ہے وہ لوگ انتہائی سمجھدار ہیں اور اس ڈرامے کو سمجھ گئے ہیں لہذا آرام سے سکون سے باہر گھوم پھر رہے ہیں۔ ان میں وہ بزرگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو وائرس لگنے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن وہ ایمان رکھتے ہیں کہ زندگی اور موت اللٰہ کی طرف سے ہے اگر ایسے لکھی ہے تو اللہ کی مرضی ’ہم تو گھر نہیں بیٹھیں گے۔
لوگوں کی نظر میں باہر نکلنا اور کپڑوں کی خریداری کرنا بہت ضروری ہے اور یہ ضرورت اپنی زندگی سے بھی زیادہ ضروری ہے سننے میں آتا تھا کہ جان ہے تو جہان ہے لیکن یہ اب کافی پرانی بات ہو گئی ہے۔ ہم تو جان پر کھیلنے والے لوگ ہیں ہم کسی کرونا سے نہیں ڈرتے۔

یہ ہیومن سائیکالوجی ہے کہ جس بات سے منع کیا جائے ہم وہی کام کرتے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں پھر ہم اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔
دوسرا بڑا اور اہم فیصلہ امتحانات کے ملتوی کا ہے کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم صاحب نے اسٹوڈینٹس کے دل جیت لئے ہیں کیونکہ بغیر امتحانات کے اگلی جماعتوں میں پروموٹ کر دیا گیا ہے۔ لیکن اگر ایک لمحہ کے لئے سوچیں تو ان طالبات کا کیا ہو گا جن کا پچھلا رزلٹ اچھا نہیں تھا اور انھوں نے اس سال امتحانات میں محنت کی تھی تاکہ اچھے نمبر حاصل کر سکیں ان کی محنت ضائع اور مستقبل عجیب کیفیت کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ نویں اور گیارہویں جماعت کے بچے اگلی کلاسز میں پروموٹ ہو گئے لیکن دسویں اور بارہویں کے بچوں کے لئے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی اس کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کیا بڑے کالج اور یونیورسٹیاں اپنے میرٹ پر کمپرومائیز کریں گی یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے۔
اگر حالات ایسے ہی رہے تو ہمارا تعلیمی نظام کیا رہ جائے گا۔ آن لائن تعلیمی سسٹم بھی ایک ڈرامے سے کم نہیں ہے آن لائن سسٹم صرف کچھ اسکول کالجوں میں تو پریکٹیکل ہے لیکن تمام اداروں میں نہیں کیونکہ ہمارے پاس اتنی سہولیات ہی موجود نہیں ہیں ابھی تو ڈیجیٹل پاکستان کا خواب ہی دیکھا گیا تھا کہ اس کرونا وائرس نے آ دبوچا۔ ابھی بہت سارے مثبت اقدامات کرنے ہوں گے جن کے بغیر ڈیجیٹل پاکستان کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا۔

اب تک جو فیصلے کیے گئے ہیں اس کے مطابق تمام کلاسز آن لائن ہوں گی اور اگر حالات قابو میں نہ آئے تو امتحانات بھی آن لائن ہو گے اب یہ کہاں تک پریکٹیکل ہوتا ہے کیونکہ نہ لوگوں کے پاس لیپ ٹاپ خریدنے کے وسائل ہیں نہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے۔
دوسری طرف لاک ڈاؤن ختم کرنے کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو گئے خدانخواستہ تو کیا صورتحال ہو گی؟ دراصل ابھی تک کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے نہ ہی ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں ادارے ابھی سوچ و بچار کا شکار ہیں ہر چیز طوالت کا شکار ہے اور ادھر کرونا وائرس بھی طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے بھی ہماری اپنی غلطیاں ہیں کیونکہ ہم اس وقت تک سنجیدہ نہیں ہوتے جب تک پانی سر سے نہ گزر جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد ٹھوس اقدامات اٹھائے 60 سال اور اس سے اوپر کے لوگوں اور 10 سال اور اس سے کم عمر کے بچوں کا بازاروں میں داخلہ ممنوع کیا جائے ایس او پیز پر سختی سے عمل کروایا جائے یہ ذمہ داری پولیس کو دی جائے کیونکہ لوگوں کو اپنا خیال نہیں ہے حکومت کو ہی کچھ ٹھوس اقدامات کرنے پڑیں گے ورنہ حالات اور بگڑ سکتے ہیں۔
دوسری طرف صورتحال کو واضح کریں اور شکوک و شبہات کو ختم کریں ’تعلیمی میدان میں کوئی مناسب حکمت عملی اپنائیں اور چیزوں کو واضح کریں۔ لوگوں کو ذہنی تکلیف سے نکالیں۔ مستقبل میں کیا اقدامات کرنے ہیں اور کیسے مسائل حل کرنے ہیں ان سب چیزوں کو واضح کریں۔
Asma Hassan from humsub pages