وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں جب کھڑکی کے لیے ڈاکٹر کے منہ سے کھول دو کے الفاظ سنتی ……

”کھول دو“ سعادت حسن منٹو کے مقبول ترین افسانوں میں سرفہرست ہے۔ اس افسانے میں تقسیم برصغیر اور ہجرت کے دوران ایک لڑکی سکینہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جن سے اس کی ذہنی حالت اس قدر متاثر ہو جاتی ہے کہ کہ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں جب کھڑکی کے لیے ڈاکٹر کے منہ سے کھول دو کے الفاظ سنتی یے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس افسانے میں بری سوچ، غلط تربیت اور منتشر حالات کے نتیجے میں پروان چڑھنے والے نوجوانوں کے ہاتھوں ایک لڑکی کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں پڑھتے اور سننے ہوئے دردمند دل رکھنے والے لوگ کئی دہائیوں سے آبدیدہ و دل گرفتہ ہوتے آ رہے ہیں۔
زمانے کا چلن بدلا تو کھول دو کی جگہ اب لفظوں کا ایک اور جوڑا ”چھوڑ دو“ ہر طرف گونجتا سنائی دیتا ہے۔ جو بظاہر بدصورت نہ ہو کر بھی اپنے استعمال کے محل کی وجہ سے بدصورت معلوم ہونے لگا ہے۔
لفظوں کا یہ جوڑا دراصل ایک مخصوص سوچ کے تحت ہمارے معاشرے میں عام کیا جا رہا ہے اور ہم سب اس کی تشہیر میں یہ جانے بغیر پیش پیش ہیں کہ ایسا کر کے ہم اپنے لیے ہی کھائی کھود رہے ہیں۔ ہماری شبانہ روز جانفشانی سے کی جانے والی تشہیر و تائید کے نتیجے میں لفظوں کا یہ جوڑا انسانوں کے جوڑے توڑنے میں تندہی سے منہمک ہے۔ انسانوں کا جوڑا بھلے دوستوں کا ہو، بھائی بہنوں کا ہو، میاں بیوی کا ہو یا پھر ولد و والد کا، ”چھوڑ دو“ کی تباہ کاریوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔
مثال کے طور پر کسی عورت نے اپنی، سہیلی، کزن، بہن، بھابی یا کسی مرد دوست سے اپنا من ہلکا کر لیا کہ شوہر پریشان کرتا ہے، جھگڑا کرتا یا کم کماتا ہے وغیرہ وغیرہ تو مشورہ ملا لعنت بھیجو، وہ خبیث ہے، احساس کمتری کا شکار ہے، ذہنی مریض ہے۔ تم حسین ہو، جوان ہو تمھیں کوئی اور مل جائے گا۔ خود مختار ہو اپنا کماتی ہو، تمھیں کیا ضرورت ایسے ناپسندیدہ رشتے کو نبھانے کی۔ تمھارے ماں باپ مالدار ہیں ان کی جائیداد میں تمھارا حصہ ہے تم عیش سے زندگی گزار سکتی ہوں۔ اسی طرح شوہر کے بیوی کا شکوہ کرنے پر ہوتا ہے۔ جس کا لب و لباب یہ ہوتا ہے کہ فریقین کے ذہن میں یہ بات پختہ کر دی جاتی ہے کہ۔ ۔ ۔ ایسے گھٹیا انسان کو چھوڑ دو۔
اسی طرح کسی نے اپنے کسی قریبی دوست، کولیگ یا خصوصاً ہم عمر کزنز کا کسی سے گلہ کر دیا یا ان کے کسی رویے پہ بات کر دی جائے کہ فلاں ٹینشن کری ایٹ کر رہا/رہی ہے تو وہاں بھی یہی سب کہ وہ بد نیت ہے، جیلس ہے، حاسد ہے، بدنظر ہے، تمھاری کامیابی سے جلتا ہے۔ کسی روز تم کو کوئی بڑا نقصان پہنچائے گا۔ ضرور تمھارے لیے کوئی مصیبت کھڑی کرے گا۔ دوستی ہے، کوئی خونی یا شرعی رشتہ نہیں۔ ایک چھوڑ دس دوست ملیں گے۔ ایسے گھٹیا انسان کو چھوڑ دو۔

(کزنز جنہیں پنجابی میں شریک کہا جاتا ہے۔ پتہ نہیں ہم اپنی روزمرہ زبان ترتیب دیتے ہوئے چوک جاتے ہیں یا پھر بے ضرر الفاظ کا استعمال ایسے مواقع پہ کرتے ہیں کہ وہ ضرر رساں معلوم ہونے لگیں۔ جیسے کہ یہ لفظ ”شریک“ ۔ کیسے یہ ایک خوبصورت رشتے کو بدصورت بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے اس بات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ پائیں گے )
بھائیوں بہنوں میں ناچاقی یا الجھاؤ معمول کی بات ہے۔ لیکن کسی سے ذکر کیا جائے یا کوئی ہم سے اس حوالے سے بات کرے تو سب نہ سہی ہم میں سے زیادہ لوگ دوسرے کو یہی صلاح دیتے ہیں کہ اور کم جھنجھٹ ہیں زندگی میں جو یہ بھی سر پہ سوار کرتے ہو۔ ایسے بھائی بہنوں سے تو پرائے بھلے۔ تم بس اپنی فکر کرو
ایسے گھٹیا انسان کو چھوڑ دو۔ ہمسائے کو چھوڑ دو۔ کولیگ کو چھوڑ دو۔ عزیزوں کو چھوڑ دو۔ سسرال کو چھوڑ دو۔ کام والی کو چھوڑ دو۔ ایکس کو چھوڑ دو۔ ۔ ۔ وائی کو چھوڑ دو۔ ۔ ۔ زی کو چھوڑ دو۔ ۔ ۔
چھوڑ دو کی یہ گونج الیکٹرانک میڈیا پر نسبتاً کم شدت سے سنائی دیتی ہے۔ کیونکہ بہرحال وہاں پہ کچھ نہ کچھ حدود و قیود قائم ہیں۔ البتہ سوشل میڈیا کے بیشتر فورمز پر اس کی گونج ہیجان خیز حد تک شدید ہے جس سے ظاہر ہے کہ بہت سے ذہن متاثر ہو رہے ہیں۔
ضرور ہے کہ ماڈرن ازم کے نام پر مغرب کی پیروی کرنا مقصود ہے تو کسی بھلے کام میں کیجیے۔ کیونکہ ایک مستحکم معاشرت کے قیام کے حوالے سے ہمارے اپنے اصول ان لوگوں سے بدرجہا بہتر ہیں جن کی پیروی کرنے میں ہم اپنی سہولت اور جدت سمجھے ہوئے ہیں۔ جبکہ اس معاملے میں مغرب اور دیگر دنیا کا اقتدا سوائے ایک ناقابل تلافی نقصان کے اور کچھ بھی نہیں۔
اپنی زبان، تہذیب اور ثقافت سے بیزار ہم اپنی زبان کے لیے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو یہ مشکل لگتی ہے۔ جبکہ انگریزی کو بھی ہم میں سے بیشتر اتنا ہی جانتے ہیں کہ ”چلو ہینڈ واش کرو“ ، ”واش روم کر آؤ“ ، ”ماما کو ہگ کرو“ اور ”شوز ڈالو“ ”آئیز کلوز کرو، سرپرائز ہے“ ۔ ۔ ۔
سوشل میڈیا کی وجہ سے کچھ سہولت ہے تو ”وٹس اپ؟“ ”ہاؤ آر یو ڈوئنگ“ اور ”ڈونٹ ڈو دس“ قسم کے چند جملے مزید ہماری روزمرہ بول چال میں شامل ہو گئے ہیں۔

یہ الگ بات کہ سوشل میڈیا چیٹ میں بھی سٹکرز وغیرہ کا بر محل استعمال اور ان میں تمیز کا شعور ہم میں سے بہت کم لوگوں کو ہے۔ لیکن انہی چند چیزوں کے الٹے سیدھے استعمال کی بنیاد پر ہم اپنی زبان سے بیزار ہونے اور اس کو ایک دقیانوسی زبان کہنے اور ماننے کے لیے خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اگر آپ کے مطابق یہی ماڈرن ازم ہے تو کم از کم انگریزی ہی ٹھیک ٹھیک سیکھ لیجیے۔ دراصل یہی اپنی چیزوں، اپنی زبان اور اپنے تمدن سے بیزاری بڑھتے بڑھتے انسانوں سے بیزاری اور لاتعلقی تک جا پہنچتی ہے۔ یہ لاتعلقی کبھی باہر والوں یعنی دوست احباب اور دیگر معاشرتی حوالوں سے متعلقہ لوگوں سے شروع ہو کر گھر والوں اور قریبی رشتوں تک پہنچتی ہے۔ کبھی گھر والوں سے شروع ہو کر باہر والوں کی طرف سفر کرتی ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں نقصان کا تخمینہ کم و بیش برابر نکلتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضرور ہے کہ ہم بے مہابا پیروی کے بجائے اپنا انفراد قائم رکھنے والی چیزوں کی حفاظت کریں۔
”چھوڑ دو“ کے پرچار کے نتیجے میں جہاں بہت سے رشتے ناتے، دوستیاں، تعلقات اور گھر ٹوٹتے ہیں وہیں اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ اور مشکل صورتحال بھی سامنے آتی ہے۔ وہ یوں کہ ظاہر ہے ہر کوئی ہر کسی کو باآسانی چھوڑ نہیں سکتا۔ ہر کوئی، ہر رشتہ توڑ نہیں سکتا۔ اس کی بے شمار معاشی، معاشرتی، قلبی، نفسیاتی، خانگی، اقتصادی اور اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس ”چھوڑ دو“ کے پرچار سے بے شمار ذہنوں میں یہ سوچ راسخ ہو جاتی ہے کہ کوئی تعلق یا رشتہ ہماری زندگی کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ نہ اس کا ہمیشہ قائم رہنا اور رکھنا ہمارے لیے ضروری۔ یہ سوچ افراد کو ایک ایسی ذمہ داری سے آزاد کر دیتی ہے جو اس سے پہلے وہ اپنی معاشرتی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اس رشتے یا تعلق کے حوالے سے خود پر محسوس کرتے رہے ہوتے ہیں۔
اس پرچار کے بعد فرد کو کسی اختلاف رائے، ناچاقی یا نا اتفاقی کے پیدا ہوتے ہی ہر رشتہ یا تعلق ذمہ داری کے بجائے فقط ایک ضرورت یا بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے۔ جسے مجبوراً ڈھوتے اور نبھاتے ہوئے وقت سے بہت پہلے وہ ہانپنے لگتا یے۔ جبکہ ہمارے اصل طریق میں ہر کسی سے اس کی رعیت کے بارے میں جواب طلبی تو ہے ہی۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے سے بھی مختلف حوالوں سے جڑت کو ضروری سمجھا گیا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو اگر ”چھوڑ دو“ کے بجائے ہم خود بھی یہ سمجھیں اور دوسرے کو بھی یہی صلاح دیں کہ ہر رشتہ، ہر تعلق، ہر دوستی ہماری ذمہ داری ہے جو ہمارا معاشرہ، ہمارا عقیدہ اور ہماری تہذیب ہمیں سونپتی ہے۔ سو اسے احسن طریق پہ نبھانے کے لیے ضرور ہے کہ ہم اس تعلق یا رشتے میں کہیں خرابی یا کمی پائیں تو اس کی وجہ کا کھوج لگائیں۔ پھر اس وجہ کو دور کرنے کی کوشش ضرور کریں لیکن اس رشتے کو ختم کر کے آگے بڑھنے کو خود پر اتنا آسان نہ کریں۔ اصل مقصد تو خرابی کو دور کرنا ہے نہ کہ خراب کو۔
آج کل ترکی کے ڈرامہ ارطغرل غازی کی ہمارے ہاں بڑی دھوم ہے۔ ترکی کی شاندار تاریخ جو اپنی نظیر آپ ہے۔ ارطغرل کو اس ڈرامہ میں معجزاتی حد تک طاقت اور بصیرت کا حامل دکھایا گیا ہے۔ کہانیوں اور افسانوں میں کسی کردار کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا اور اسی کے گرد کہانی کا تانا بانا بننا کہانی کے پلاٹ کو اوسط درجے کے ذہنوں کے لیے پرکشش بناتا ہے۔ اس لیے کمرشل کہانی کا جزو لازم بھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم اور ناقابل تردید ہے کہ ایسی شاندار تاریخ قوموں، قبیلوں، خاندانوں اور دوستوں کے اتحاد سے ہی بنتی ہے، فرد واحد سے نہیں۔
ترکی ایک بڑی مثال ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ شاندار تاریخ کا حامل یہ معاشرہ تنزلی کے ایک ایسے دور سے بھی گزر چکا ہے جب اس کا وجود، اس کی بقا تک خطرے میں تھی۔ کیونکہ اس نے بھی اپنے اصل کو چھوڑ کر دوسروں کے نقش قدم پر چلنے میں اپنی بقا سمجھی تھی۔ جس سے نہ یہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا ہوا۔ اپنا آپ بھی کھو چکا اور جن کے نقش قدم پر چلا انہیں اس کا اپنے پیچھے چلتے رہنا تو گوارا تھا لیکن قدم بہ قدم چلنا قبول نہ تھا۔
یہ الگ بات کہ وہ اپنا اصل کھو کر بھی ہم سے بہت بہتر تھے۔ کیونکہ وہ ہماری طرح کمزور اور لاچار نہ تھے۔ اس لیے ان کی درجہ بہ درجہ تنزلی میں بھی اک طویل عرصہ صرف ہوا۔
ہم بیچارے تو اک جھٹکے کی مار ہیں جس کے بعد پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ہم کبھی اپنا علیحدہ وجود بھی رکھتے تھے۔
ترکوں کی خوش قسمتی کہیے کہ ان کو وقت رہتے ہی ایسی لیڈرشپ میسر آ گئی جس نے اس حقیقت کو قبول کر لیا کہ اب ترکوں کو صرف مذہب کی چھڑی سے اپنی مرضی کی سمت ہانکا نہیں جا سکتا۔ بلکہ انہیں ایک ایسا نظام قائم کرنا ہو گا جس میں جبر نہ ہو۔ اس حکمت عملی نے ان کو دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا کیا اور وہاں کے عوام کو بھی آسودہ کر دیا۔ ان کی معیشت کو بھی مستحکم کر دیا اور قانون کی عمل داری کو بھی کافی حد تک یقینی بنا دیا۔ لیکن ایک کمی جو پوری نہیں ہو سکی وہ ہے آپسی یگانگت، رشتوں کا تقدس اور آپسی تعلقات کی پاسداری۔ جس سے وہاں کا خاندانی نظام بھی خاصا متاثر ہوا۔ مغرب جیسی لاتعلقی نہ سہی، بہرحال پہلی سی یگانگت بھی وہاں موجود نہ رہی۔ لاتعلقی اب اس معاشرے کا ایسا حصہ بن چکی ہے جسے حقیقت کی طرح قبول کر لیا گیا ہے۔

پی ٹی وی پر ارطغرل غازی ڈرامہ کی اب تک چلنے والی اٹھارہ اقساط میں ابن العربی دو سے تین بار دہرا چکے ہیں کہ پرندے اپنے اپنے جھنڈ میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ شاہین شاہینوں میں اور کوے کوؤں میں۔ جبکہ ترک اب کوے رہے نہ شاہین۔ ہم شاہین نہ سہی، تیتر بٹیر جو بھی ہیں، ہماری بہرطور ابھی ایک پہچان باقی ہے۔ لیکن اس وقت ہم جس نہج پر سرپٹ بھاگ رہے ہیں یہ ہمیں بھی معلق کر دینے والی ہے۔ ہمارے پاس نہ ترکوں جیسی شاندار تاریخ ہے کہ اس پر فخر کر کے یا اسی کے نام پر دنیا میں کسی مقام کا بھرم رکھ سکیں۔ نہ ان جیسی لیڈر شپ میسر آنے کا مستقبل قریب و بعید میں کوئی امکان ہے۔ جس کی بنیاد پر حالات بدلنے کی امید رکھی جا سکے۔
اس لیے جو یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں کہ ”یہ کام ریاست کا ہے کہ وہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی ذہنی صحت کو ایک متوازن ماحول فراہم کرے اور یہ صرف بہترین سکولنگ سے ہی ممکن ہے“ ۔ ان کو خبر ہو کہ اپنی آسانی کا یہ راستہ کسی منزل کو نہ جائے گا۔ اس وقت ضرور ہے کہ فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔
ہمارے پاس صرف لمحہ موجود ہے جسے سنبھال کر ہم خود کو آنے والی تنزلی بلکہ مسماری سے محفوظ رکھ کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے انفرادی کوششوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بھلے وہ کوشش اپنی ذاتی زندگی ہی سے منسلک کیوں نہ ہو۔ کیونکہ فرد ہی معاشرے کی اکائی ہے۔
اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اور سب سے لازمی طور پر ”چھوڑ دو“ والی سوچ کو ترک کرنا ہو گا اور ایک دوسرے سے منسلک رہنے کا وہی اصول اپنانا ہو گا جو ہمارا اصل ہے۔
ابھی وقت کا آخری سرا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ابھی ہم سوچ سکتے ہیں کہ ”کھول دو“ صرف ایک لڑکی کی بربادی کی کہانی ہے۔ اگر ہم نے ”چھوڑ دو“ کی سوچ کو نہ چھوڑا تو اگلے وقتوں میں کوئی پنٹو، چنٹو یا ون ٹو ”چھوڑ دو“ کے عنوان سے ہمارے پورے معاشرے کے بارے میں یوں رقم طراز ہو گا کہ۔ ”مشرق میں ایک ایسا معاشرہ ہوا کرتا تھا جو اپنی منفرد تہذیب کا حامل تھا“ ۔ پھر یوں ہوا کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمام شد۔
Neelum Malik