سندھ کا ممنون بھی ہوں مقروض بھی، کوشش کے باوجود قرض اتار نہیں پاتا ہوں

میں سندھ کا ممنون بھی ہوں مقروض بھی۔ کوشش کے باوجود قرض اتار نہیں پاتا ہوں۔ اب زیادہ فکرمند ہوں کہ سندھ پر پھر ایک بار یلغار کی آہٹیں سنائی دے رہی ہیں۔ سندھ میں اپنے مرید رکھنے والے شاہ محمود قریشی نے تو علانیہ دھمکیاں دی ہیں۔ آس پاس سے بھی سرگوشیاں ابھر رہی ہیں۔ سندھ کے اندر سے بھی سندھ پر یلغار ہوتی رہتی ہے۔ سندھ باب الاسلام بھی ہے، باب الپاکستان بھی۔ پاکستان کے لیے پہلی قرارداد بھی سندھ اسمبلی میں منظور ہوئی۔ پہلی دستور ساز اسمبلی بھی سندھ میں ہی تھی۔ جس سے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے خطاب کیا۔ پھر جب 1973ء کا متفقہ آئین منظور ہوا تو سندھ کے شہر لاڑکانہ سے منتخب ذوالفقار علی بھٹو ہی صدرِ مملکت تھے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ پاکستان سندھ کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔ تاریخ کے اوراق میں اسے وادیٔ سندھ کہا گیا ہے۔ قائداعظم سندھ میں ہی پیدا ہوئے۔ سندھ میں ہی ابدی نیند سو رہے ہیں۔ پھر جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو پاکستان کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر آنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد کا بوجھ بھی سندھ نے ہی اٹھایا۔ کیا کیا ہستیاں تھیں۔ پیر الٰہی بخش۔ ایوب کھوڑو۔ حکیم احسن۔ جی ایم سید۔ عبدالستار پیرزادہ۔ جی الانا۔ عبداللہ ہارون۔ میر آف خیرپور۔ جنہوں نے انصار کا کردار ادا کیا۔
کراچی جب پاکستان کا دارُالحکومت تھا تو اپنے بنگالی بھائیوں کی میزبانی، خاطر تواضع بھی سندھ نے ہی کی۔ اہل سندھ سچل سرمستؒ۔ شاہ لطیفؒ۔ شہباز قلندرؒ۔ عبداللہ شاہ غازیؒ کی روایات کے امین ہیں اور جب جب پاکستان پر آمریت مسلط ہوئی تو سب سے زیادہ جدوجہد بھی سندھ کے نوجوان نے کی۔ صرف سیاسی کارکنوں نے ہی نہیں سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں اور سابق وزرائے اعظم نے بھی جان کی قربانی دی۔ پاکستان کے لیے سب سے پہلے اپنی جان دینے والے وزیراعظم شہید لیاقت علی خان کا تعلق بھی سندھ سے ہی تھا۔

میں نے چند روز قبل صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی جو خود سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، سے بھی عرض کیا تھا کہ وہ سندھ اور وفاق کے درمیان محاذ آرائی کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ قومی یکجہتی کے حق میں نہیں ہے۔ مگر حسب توقع کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہیں ہر قدم اٹھانے سے پہلے وزیراعظم کا مشورہ درکار ہوتا ہے۔ میں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بھی پیغام دیا اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کو بھی۔
کورونا کی عالمگیر وبا کے دنوں میں انسانی جان کو بچانا اولیں ترجیح ہونی چاہئے۔ مقامِ شکر ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ پہلے دن سے ہی اس کے لیے ایک مربوط۔ جامع اور سخت حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے وژن میں وزیراعظم کی طرح کہیں تامل اور تذبذب نظر نہیں آیا۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں مرکز کی اپوزیشن پی پی پی کی حکومت ہے۔ اس لیے اس کے اقدامات کی تحسین اور بھی زیادہ ضروری تھی اور ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے یہ مثبت فریضہ ادا کرنے کے بجائے مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ عدم تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس حقیقت سے کسی کو اختلاف نہیں ہوگا کہ سندھ کی حکومت اور حکمراں پارٹی کے سربراہوں پر کرپشن کے شدید الزامات ہیں اور کورونا سے پہلے سندھ حکومت کا اہل سندھ کے لیے کوئی قابل ذکر اقدام نظر نہیں آتا۔ اس کے لیے مجھ سمیت اکثر اخبار نویس، اہل قلم تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اس عالمی وبا کی مزاحمت کے دنوں میں سندھ کے وزیراعلیٰ نے بالکل اسی جذبے کا اظہار کیا جو سندھ کے نوجوان آمریت کی وبا کے مقابلے میں کرتے رہے ہیں۔
وفاق اور دوسری نادیدہ قوتیں سندھ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سندھ کے حکمرانوں کی ایک کمزوری سے ہی فائدہ اٹھاتی ہیں۔ وہ ہے سندھ کے منتخب حکمرانوں کا شہری سندھ سے رویہ۔ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین خود کو بانیانِ پاکستان کی اولادیں کہتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان زیادہ شدومد سے یا تو مشرقی بنگال میں چلی جسے پاکستان میں شامل ہونا تھا یا پھر ہندوستان کے ان علاقوں میں سرگرمی سے آگے بڑھی جہاں مسلمان اقلیت میں تھے۔ اور جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ مسلم لیگ کی مرکزی قیادت ان علاقوں کے اکابرین کے پاس تھی۔ زبان کے مسئلے نے ان دونوں اکائیوں کو ایک دوسرے کے قریب نہیں ہونے دیا۔ اسی سے غیر سیاسی قوتیں فائدہ اٹھاتی اور دونوں کے درمیان فاصلے بڑھاتی رہیں۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ 1994ء میں ایک طرف شہری سندھ سے کہا جاتا تھا کہ فلاں فلاں وزارت لینی ہے، نہ دیں تو انکار کر دیں۔ دوسری طرف دیہی سندھ پر زور دیا جاتا تھا کہ فلاں فلاں وزارت ان کو نہیں دینی۔ اب بھی یقیناً ایسا ہو رہا ہوگا۔ صرف اندرونی طاقتیں ہی نہیں غیر ملکی سازشی قوتیں بھی یہ کھیل کھیلتی ہیں۔

پی ٹی آئی کی طرف سے منتخب سندھ حکومت کے خلاف یلغار کو دیکھ کر نئے پاکستان کی پی پی پی کی وفاقی حکومت کی یاد آتی ہے۔ اس وقت کی بلوچستان کی منتخب حکومت کے خلاف اسی طرح بے چین رہتی تھی۔ تاریخ چیخ چیخ کر یاد دلاتی ہے مگر ہم اپنے رویے نہیں بدلتے۔ عالمی ادارۂ صحت نے آج ہی کہا ہے کہ کورونا ایک حقیقت ہے۔ جلد نہیں جانے والی اس کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالنا ہوگی۔ ہم پاکستانی تو 72سال سے بہت سے کورونوں کے ساتھ رہنے بلکہ کورونوں کو پالنے کے عادی ہیں۔
وفاق کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کراچی ان کا شہر ہے۔ غالباً یہ خیال یہاں سے قومی اسمبلی کی 14سیٹوں کے باعث ہے۔ مگر یہ شہر تو اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے۔ شہر میں پی ٹی آئی اپنا نقش ثبت نہیں کر سکی۔ یہ ایم این اے حضرات تو آپس میں بر سر پیکار رہتے ہیں۔ سیٹیں نہیں دل جیتنے ہوتے ہیں۔
سندھ حکومت اور خاص طور پر پی پی پی کے جواں سال سربراہ کو اپنا احتساب کرتے ہوئے شہری سندھ بالخصوص کراچی والوں کے دل جیتنے چاہئیں۔ اہمیت سندھ میں رہائش اور سندھ سے وابستگی کو ہونی چاہئے۔ زبان کی بنیاد پر سندھ کے مسئلے کو آگے نہ بڑھائیں۔ صوبے سے تعلق کو بنیاد بنائیں۔ اس طرح آپ کو ایک بڑی تعداد کی حمایت میسر آئے گی۔ سندھی اور اُردو کے اساتذہ۔ ادیب۔ شاعر۔ اخبار نویس سب کو قدم ملاکر سندھ پر یلغار روکنی چاہئے۔ میرے دل کی صدا تو یہ ہے:
صدیوں سے بڑی شان سے بہتے ہوئے سندھو
اُردو تری رعنائی ہے، سندھی تری خوشبو
اور یہ گلہ بھی:
زمینِ شاہ میں کانٹوں کی فصل کیسے پکی
زبانِ میرؔ میں شعلے اگل رہا ہے کون؟
Mehmood Sham Jang