گلیلیو کو سائنس کا راستہ ترک کر دینے پر معافی ملی

اشرف المخلوقات ہونے کے دعویدار کو بخوبی احساس ہے کہ اس اعزاز کا جواز عقل و بصیرت میں رکھا گیا ہے۔ روٹین کے معاملات جو ہماری عادت کا حصہ بن جاتے ہیں، کے علاوہ عقل کی صلاحیت از خود کام نہیں کرتی۔ یہ تو انسان کے ہاتھ میں ایک کنجی کی طرح ہے۔ جس سے وہ کائنات میں رکھے رازوں والے صندوق کھولتا جاتا ہے اور تسخیر کی تختی پر اپنا نام لکھتا جاتا ہے۔ اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو وہ چیزیں انسان پر کبھی نہیں کھلتیں۔ کروڑوں برسوں سے یہ کائنات آباد ہے۔ انسان اور کائنات دونوں ارتقا کے سفر سے گزر رہے ہیں۔ یہ راز تو ہمیشہ سے موجود تھے مگر انھیں مختلف اوقات میں دریافت کیا گیا۔ جب کسی صاحب بصیرت نے کسی مخصوص سمت مشاہدے اور حکمت سے جاننے کی جستجو کی تو اس پر حقیقت عیاں ہونا شروع ہو گئی۔ کئی دفعہ یہ ایک قسط وار سلسلہ بن جاتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ترقی ہوتی رہتی ہے۔ فطرت کے ہر مظہر میں کئی راز پوشیدہ ہیں۔ زمین و آسماں کی بیکراں حدود میں ابھی تک سمندروں، جنگلوں، پہاڑوں اور نظام شمسی میں بے شمار نامعلوم حقیقتیں منتظر ہیں کہ کوئی سوچ انھیں دیکھے۔ خالق کائنات نے انسان کی بصیرت پر ان کی تلاشی رکھ چھوڑی ہے۔ تلاش بھی ایک کھیل ہے۔ انسان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔

اس کی پہنچ حرکت، آواز اور محسوسات سے قریب کی چیزوں تک ہی رہتی ہے۔ یہ دور تک دیکھنے کی صلاحیت کو برتنے کا سوچتا نہیں۔ مگر کچھ خاص ذہن جو پٹی کھول کر ظاہری مشاہدے اور ادراک کو باطنی آگہی کی روشنی میں دیکھنے کی روش پر چلتے ہیں ان کی جھولی ایجاد کے کرامتی پھولوں سے ضرور بھری جاتی ہے۔ مغرب جب تک چرچ کے زیر اثر رہا، وہاں سائنسی ترقی معدوم رہی۔ فلسفیوں سائنسدانوں، ریاضی دانوں اور نفسیات دانوں پر طرح طرح کے الزامات لگتے رہے۔ موجود تاریخ کے مطابق، قبل مسیح سے سوچ کے رستے پر چلنے اور ایجادات کرنے والوں کو کڑی تنقید اور معاشرتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اوسط ذہن کے لوگ ایک دم سے اعلیٰ ذہن کی تخلیق کو قبول کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ وہ اپنے محدود دائرے کے حوالے سے چیزوں کو پرکھتے اور ان کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ گلیلیو نے سولہویں صدی میں جب یہ کہا کہ سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو قدامت پرستوں کی طرف سے اس نظریے کی شدید مخالفت ہوئی، اس پر بدعت کا الزام لگایا گیا اور سزائے موت تک تجویز کر دی گئی۔ 78 سال کی عمر کو پہنچ کر دنیا سے رخصت ہونے والے گلیلیو کو سائنس کا راستہ ترک کر دینے پر معافی ملی۔ ماشاء اللہ ہم نے سائنس سے مخالفت کا آغاز لائوڈ اسپیکر سے کیا۔ پھر ٹی وی اور دیگر چیزیں اس کی زدمیں آتی رہیں اور رفتہ رفتہ اپنی افادیت کے سبب ہماری ضرورت بنتی گئیں۔ مخالفت کرنے والے سب سے زیادہ مستفید ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک دوربین کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں مہینوں پہلے چاند کی تاریخ کے بارے میں بتا دیا جاتا ہے لیکن ہم نے ابھی تک آنکھوں سے چاند کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے اور پتا نہیں اس پر ہم کب تک قائم رہتے ہیں۔ تاہم آج میں بات کرنا چاہ رہی تھی اس سازشی تھیوری کی جو اس وقت ہماری فضاؤں میں گردش کر رہی ہے اور اکثریت اس کو درست تسلیم کر چکی ہے۔

مسلسل پیغامات کا سلسلہ جاری ہے کہ کورونا یہود و نصاریٰ کی سازش ہے جس کے مطابق وہ مسلمانوں کی مساجد کو ویران کرکے ان کے جذبۂ ایمانی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا اس وبا کی لپیٹ میں ہے، رب کو ماننے اور نہ ماننے والے سب اس کا شکار ہیں، جب کلیسا، مندر اور گوردوارے بھی بند ہیں، ہم یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ اس کا نقصان صرف ہمیں ہو رہا ہے اور یہ کسی انسان کی پھیلائی گئی وبا ہے۔ کوئی بھی فرد کسی ایسی مصیبت کا آغاز نہیں کر سکتا جس کا شکار وہ خود بھی ہو سکتا ہو اور نہ ہی کوئی ملک ایسا کر سکتا ہے۔ دیکھیں کب تک سازشی تھیوری اور رجعت پسندی سائنس اور منطق کے سامنے دیوار بنی رہے گی اور نئی نسل کب حقیقت پسندی سے ہاتھ ملاکر ذہنی غلامی کو خدا حافظ کہے گی-
Dr.Sughra Sadaf Jang