قومی تاریخ کے نشیب و فراز – اصل غلطی کہاں ہوئی

– سہیل دانش –

جب میں پاکستان کے متفقہ آئین کی تیاری، اسلامک بلاک کے خواب کی تعبیر پانے کی کاوش اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا حوصلہ مند اور فقید المثال آغاز کرنے کا کریڈٹ اور جستجو دیکھتا ہوں۔ تو سچ پوچھیں تو دل چاہتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی تمام کمزوریوں، خامیوں اور غلط فیصلوں پر پردہ ڈال دوں۔ جب میں پورے ملک میں پھیلا ہوا موٹر ویز کا نیٹ ورک، لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات، کراچی میں پھیلی ہوئی بد امنی پر دو ٹوک کاروائی اور سب سے بڑھ کر ایٹمی دھماکوں کے جرائت مندانہ فیصلے کے بعد نواز شریف

کے تمام عیبوں سے چشم پوشی کے لئے تیار ہوں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں بے مثال صنعتی ترقی ایک مربوط اقتصادی ڈھانچے کی بنیاد، ڈیمز کی تعمیر اور گرین انقلاب کے لئے ان کی پالیسیوں پر نظر ڈالتا ہوں۔ تو ان کی اقتدار کو دوام دینے کی خواہش، اختیار کے ارتکاز اور بے شمار غلط سیاسی فیصلوں کو فراموش کر دینے کو دل چاہتا ہے۔

بے نظیر بھٹو کی پاکستان میں جمہوریت کے لئے جرائتمندانہ جدوجہد کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا۔ سکھر جیل کی قید تنہائی میں مچھروں کی یلغار، سہالہ ریسٹ کیمپ میں اپنے والد کی پھانسی کا دور، پھر 10اپریل 1986سے1988تک ضیاء الحق کو چیلنج کرنے کا مرحلہ، وزارت عظمیٰ کے دور میں میزائل ٹیکنالوجی کے لئے ان کی کاوشیں، وزارت عظمیٰ کے دونوں ادوار میں ان کے طرز حکومت کی بعض کمزوریوں اور متنازعہ فیصلوں کے با وجود پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کے کردار کو دھندلا نہیں سکتے۔

اگر آپ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور حکومت پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کوجنرل مشرف کے اقدامات اور فیصلے ذیادہ پروگریسو نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ابتداء میں معروضی حالات اور زمینی حقائق کو جس عینک سے دیکھا اس کا نمبر درست نہیں تھا۔

انہوں نے پاکستانی معیشت کو طاقت کے زور پر دائیں سے بائیں جانب موڑنے کی کوشش کی۔ بعد میں شوکت عزیز کو امید کی کرن قرار دیا۔اس سے پہلے جناب معین الدین قریشی اس ملک پر اپنی قابلیت اور تجربات آزما چکے تھے۔ ہم اس وقت بھی اور آج بھی یہی کہتے ہیں کہ خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اعداد و شمار جمع کرنے سے بھی آپکو کوئی نہیں روک رہا۔ لیکن ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ کیا آپ کا کوئی بھی سسٹم لنڈی کوتل سے گوادر، واہگہ سے چمن اور کراچی سے پشاور آبِ چوہدریوں۔ مخدوموں، لغاری، کھوسہ، بگتی، مگسی، تالپور اور شاہوں سے ٹیکس وصول کر لینگے۔میں نے جناب وزیر اعظم شوکت عزیز سے بھی ایک انٹرویو کے دوران سوال کیا تھا کہ آپ ان کھرب پتیوں سے کیسے ٹیکس وصول کرینگے؟آپ ان ارکان پارلیمنٹ سے کیسے ٹیکس وصول کرینگے جو جدی پشتی بے پناہ دولت کے مالک ہیں۔ جن کی سات پشتیں دودھ سے نہا سکتی ہیں۔ سونے کا نوالہ کھا سکتی ہیں۔ نوٹوں سے چولہا جلا کر روٹیاں پکا سکتی ہیں۔ چاندی کے پلنگ پر استراحت فرما سکتی ہیں لیکن کسی کو معلوم ہے کہ ان سے ذیادہ ٹیکس جناب عبد الحفیظ پیر زادہ اور جناب خالد اسحق دیا کرتے تھے یہ دونوں نامور شخصیات پیشے کے لحاظ سے قانون دان تھے۔ جناب شوکت عزیز نے ٹیکس وصولی کا ایک لمبا چوڑا فارمولا سنا ڈالا۔میں نے جواباً کہا۔ ہزا ایکسیلینسی آپ یہ اس لئے سوچ رہے ہیں کہ آپ طاقتور اور با اختیار عہدے پر فائز ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ آپکے پیچھے کھڑی ہے لیکن آپ سے چوک صرف یہ ہو رہی ہے کہ آپ یہ ادراک نہیں کر رہے ہیں کہ آپکا قانون کمزور ہے۔


ہر دور حکومت پر ایک نظر ڈالتے جایئے آپکو معلوم ہو جائے گا کہ کتنے کروڑ لوگوں میں سے کتنے لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں۔ چند سال پہلے تک 85%ٹیکس پیئر صرف سرکاری اور نجی ملازمین تھے۔ جن کا ٹیکس تنخواہوں کے تناسب سے کٹتا ہے۔ یہاں انکم ٹیکس کا چھوٹے سے چھوٹا ملازم لاکھوں روپے پراپرٹی کا مالک ہے۔ ذاتی گاڑی پر دفتر آتا ہے۔ بچوں کو مہنگے ترین اسکولوں میں تعلیم دلاتا ہے۔ یہاں اے سی انکم ٹیکس کی سیٹ کروڑوں میں فروخت ہوتی ہے۔ جہاں ہر ادارے پر فیکٹری اور ہر سیٹھ کے ٹیکس بچانے کے لئے چارٹرڈ اکاؤنٹس ملازمین رکھے ہوئے ہیں۔
یہ سوال آج جناب حفیظ شیخ سے بھی کیا جا سکتا ہیکہ انہوں نے اکانومی کو مکمل طور پر ڈاکومینٹڈ کرنے کا جو عزم کیا ہے، جو ٹارگٹ سیٹ کئے ہیں وہ ان احداف کو حاصل کرنے میں آخر کس کس سے ٹیکس وصول لینے میں کامیاب رہیں گے۔کیا انہیں بھٹو ٹیکس دینگے۔لغاری، مزاری، کھوسے،بگتی،مینگل،مخدوم،اور شاہ ٹیکس دیں گے۔کیا داؤد، ولیکا،منشاء،میمن،میاں اور بٹ سب انکے سامنے آمدنی کھول کر رکھ دینگے۔اگر آپ چیلنج کرینگے تو پھر آپکے اقتدار اور اختیار ڈگمگا جائینگے، لڑکھڑا جائینگے۔
وزیر اعظم عمران خان تو ریاست مدینہ کی مثال دے رہے ہیں۔ ضیاء الحق نے شریعت نافذ کرنے کی بات کی تھی لیکن اسکا نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کوئی حکمران کیا کہتا ہے بلکہ سب یہ دیکھیں گے کہ اسکے ثمرات کیا ہے
پھر ہمارے ساتھ کیا ہوا۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جب یہ ملک آزاد ہوا تو اسکے پاس کیا تھاصرف 14ہزار کلو میٹر سڑکیں، 12ہزار گاڑیاں، 12ہزار ٹیلی فون لائینیں، ایک ہزار ایکڑ قابل کاشت رقبہ اور 25میگا واٹ بجلی بس لیکن اس وقت کسی کو اس کی غربت، محرومی اور پسماندگی کا احساس نہیں ہواکسی نے نہیں سوچا کہ اس کم وسائل، کمزور، نادار اور لاچار ملک میں کیسے زندگی گزاریں گے۔ ایک بار ممتاز فارن سروس آفیسر آغا بلالی نے مجھے بتایا کہ قیام پاکستان کے وقت کراچی میں واقع وزارت خارجہ کے آفس میں ٹائپ رائیٹر تک نہیں تھا۔کام کرنے کے لئے اشٹیشنری کی کمی کا سامنا تھالیکن آج ملک میں 70لاکھ کلو میٹر سڑکوں بشمول موٹر ویز کا جال بچھا ہوا ہے۔ گاڑیوں کی تعدادایک کروڑ کے لگ بھگ جا پہنچی ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام دیکھیں تو ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل نظر آرہا ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹروں کی تعداد ہزاروں کے ہندسے کو پھلانگ چکی ہے۔ یہی حال پاور سیکٹر کا ہے20ہزار میگا واٹ بجلی پاکستان کے طول و عرض کے تاروں میں دوڑ رہی ہے۔ ترقی کے تمام انڈیکیٹرزبتا رہے ہیں کہ ہم نے ہر میدان میں پیش قدمی کی ہے لیکن اب یہ ملک غریب اور پسماندہ نظر آنے لگا ہے۔ ہمارے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ خط غربت کے لکیر کے نیچے مفلوک الحالی کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد بریک لگنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔میں سوچ رہا ہوں کہ جب ہمارے یہ گاؤں مٹی کا ڈھیر ہوا کرتے تھے تو یہاں غربت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ جب دیہی علاقوں میں بجلی نہیں تھی یہ علاقے مغرب کے بعد تاریکی میں دفن ہو جاتے ضرورت پڑنے پر مٹی کے تیل کی لالٹین یا تیل کا دیا جلا لیتے۔کھٹی لسی، باجرے کی موٹی روٹی اور اچار ان علاقے کے لوگوں کا بریک فاسٹ ہوتا تھااور لنچ بھی۔کبھی کبھی مرغی ترکاری پکنے کا حادثہ بھی ہوا کرتا تھا۔
لیکن آج جب ان علاقوں میں جدید زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہیں تو اس کا ہر باسی غریب ہے۔اسے پسماندگی، محرومی اور پیچھے رہ جانے کا احساس تنگ کر رہا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے۔ یہی وہ سوال ہے۔ جسکے جواب کے بغیر اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔کبھی آپ نے سوچا جس ملک کی 65%آبادی کا خدا ظالم، ان پڑھ اور جاہل جاگیر دار ہو گا تو اس ملک میں بھوک، افلاس، بیماری اور جہالت نہیں ہو گا تو پھر اور کیا ہو گا۔جس ملک کی کل آبادی کا 7%اس کی 62%قابل کاشت زمین پر پھن پھیلائے بیٹھا ہوگا۔جس ملک کی 30%سونا زمین صرف انہی جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہوگی۔ جب پنجاب کے ایک فیصد شاہ، لغاری،، مزاری، کھوسے، مخدوم، چودھری، ملک، ٹوانے اور گیلانی 62%کے مالک ہونگے۔سندھ کے ڈیڑھ فیصد پیر، جتوئی،جام، چانڈیو اور شاہ 30%رقبے کا بادشاہ ہونگے۔خیبر پختوان خواہ کے ایک فیصد سے بھی کم خٹک، آفریدی، نواب، الائی، میر، اور باچے 12%زمین کے خدا ہونگے۔ جبکہ بلوچستان کے مری،مینگل،اور بگتی ایک ایک انچ کے دیوتا ہونگے۔ اس ملک کی اکثریت کمی،مزارعے،ہاری نہیں ہونگے تو پھر اور کیا ہونگے۔جس ملک کا سارا نہری پانی، بیج،کھاد،کیڑے مار ادویات، زرعی آلات اور بنک جاگیرداروں کے ہاتھوں میں ہونگے۔جب ملک کے ان جاگیرداروں نے بنکوں کے اربوں روپے ہڑپ کر لئے ہونگے۔
جی ہاں اس ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ آج تک اس میں فیوڈل ازم قائم ہے۔جسے برطانیہ نے تین صدی پہلے اکھاڑ پھینکا تھا۔ جسے بھارت کے پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کے بعد ختم کر دیا تھا۔دنیا کے تمام اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہم لینڈ ریفارمز کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ قدرتی وسائل ضائع کرنے والے ملک ذیادہ دیر سر اٹھا کر نہیں جی سکتے۔ جو ملک اپنا اناج اپنی زمین پر کاشت نہیں کرتے وہ بھوکے مر جاتے ہیں۔
70سالہ تاریخ میں ہمارے حکمرانوں سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ لینڈ مافیا ریفارمز نہ لا سکے۔جاگیردار انہ نظام ختم نہ کر سکے۔قاعد اعظم محمد علی جناح ؒ کو زندگی نے مہلت نہ دی۔ شہید ملت لیاقت علی خان ؒ سے زندگی وفا کرتی تو شاید وہ کام کر گزرتے۔ اس کے بعد جو بھی حکمران آئے فیوڈل انکے ساتھی بن گئے یا فیوڈل لارڈز کو ساتھی بنانا حکمرانوں کی مجبوری بن گیا۔ جس ملک کی پارلیمنٹ، بیوروکریسی،لوکل باڈیز اور مقتدر حلقوں پر ان جاگیرداروں کا اثرو نفوذ ہو۔جب 70%عوام کی گردن زمینداروں کے جبڑوں میں دبی ہوئی ہو۔ آپ اندازہ کر لیجئے جس قوم کی بقاء ایسے بے حس اور جابر لوگوں کے قدموں میں پڑی ہو،اس ملک کے عوام بہرے، گونگے نہیں ہونگے تو پھر اور کیا ہونگے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس ملک میں اکیسوی صدی میں جاگیرداری نظام اپنے پورے کروفر سے چل رہا ہے وہاں بھوک، افلاس، جہالت اور بیماری نہ ہو گی تو پھر اور کیا ہو گا۔ایسی صورت حال میں اگر کوئی ریاست مدینہ کی کوئی بات کرے تو اس قوم کے ساتھ ایک مزاق لگتا ہے۔ جناب اعلیٰ اگر قدرت نے آپکو مفلوک الحال لوگوں کا مقدر بدلنے کا موقع دے ہی دیا ہے۔ تو خدا کے لئے اس قوم سے انصاف کر جائیں۔