کیا اردو زبان و ادب روبہ زوال ہے

تحریر صائمہ نفیس
اُرود زبان و ادب بالکل بھی روبہ زوال نہیں آیے اعدادوشمار کے مطابق دیکھتے ہیں جبھی ہمیں اس کے مدلل جواز نظر آئیں گے کیونکہ یہ بحث بہت پرانی ہے.


اُردو زبان وادب کا شعبہ ہر یونیورسٹی اور کالجز میں موجود ہے. جہاں آج بھی طالب علموں کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ ملتا ہے. اس ڈیپارٹمنٹ میں آج بھی اردو زبان کے شیدائی پوری دنیا سے یہ زبان سیکھنے آتے ہیں اور سند حاصل کرتے ہیں.
دنیا بھر میں اردو کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا تاہے. شہر قائد کے آرٹس کونسل میں منعقد کی جانے والی کانفرنس جوگزشتہ بارہ سالوں سے ہر سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جاتی ہے اس دس روزہ کانفرنس میں نہ صرف ملک بھر سے بلکہ پوری دنیا سے مدعو بین شرکت کرتے ہیں اور ادب کی ہر ہر صنف پر سیر حاصل گفتگو کی جاتی ہے سیمینار منعقد ہوتے ہیں جس میں اپنی اپنی صنف کی وہ جید شخصیات جو قبولیت، مقبولیت اور محبوبیت کا شرف حاصل کر چکی ہوتیں ہیں ان سے ملاقات کا موقع میسر آتا ہے بلکہ ان کی علمی گفتگو سے ان کے مشاہدے اور تجربات کا تجزیہ بھی سامنے آتا ہے اور ایک جامع رپورٹ بھی پیش کی جاتی ہے کہ اس صنف میں اس سال کیا کیا نیے شاہکار تخلیق کیے گئے اور اگر ان کے معیار میں کہیں کوئی کجی رہ گی ہے تو اس کی بھی نشاندہی کی جاتی ہے.

اسی طرح بے شمار ادبی فورمز اپنے اپنے تئیں اپنا کام پوری لگن اور تن دہی سے صرف اردو زبان و ادب کی آبیاری کے لیے کرتے ہیں جس میں محبت لگن کے ساتھ ساتھ یہ اپنی توانائی،وقت اور پیسہ بھی بے دریغ خرچ کرتے ہیں.
اب وہ شعراء کے ساتھ شامیں ہوں، حلقہ ارباب ذوق کی محافل ہوں، ترقی پسند مصنفین کی بیٹھکیں ہوں، نفاذ اردو کے سیمینار ہوں، مشاعرے ہوں، نثر کی نشستیں ہوں کتاب رونمائی کی تقریب ہو ہر کوئی اردو زبان و ادب کا شیدائی اس میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے.
مختلف جرائد اور اخبارات ہمیشہ کی طرح ادبا کے نگارشات ادب کے شائقین کے تک پہنچانے میں ہمہ وقت کوشاں ہیں. کتب میلے کا کامیاب انعقاد اور کتب کی خریداری میں پچاسی فیصد گراف کی اونچائی یہ خوش آئین امید دکھاتی نظر آتی ہے کہ انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں بھی کتاب سے محبت کرنے والے اسے خرید رہے ہیں. مختلف پبلیکیشنز آج بھی اپنے اپنے اداروں سے ادب کی ہر ہر صنف پر کتابیں شائع کر رہے ہیں.
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب یہ سیمینار، کانفرنسیں، مشاعرے، نشستیں، حلقے اور یونیورسٹیوں میں اردو ڈیپارٹمنٹ میں حدف کے مطابق داخلے،ماسٹر، ایم فل پی ایچ ڈی ہونے کے باوجود کہیں سے اگر یہ آواز اٹھ رہی ہے تو کیوں؟
اس کی ایک وجہ یہ نظر آتی ہے کہ تنقید کا پشتہ کمزور ہو رہا ہے ناقدین کی کمی ہے دھوپ کو راستہ پیڑ کی عریانی سے ملتا ہے اور کشتی کبھی کبھی اپنے چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے بھی ڈوب جاتی ہے. کچھ خود ساختہ ناقدین ہیں جنھوں نے اس خالی جگہ کو دیکھ کر قابض ہونا شروع کر دیا ہے اور یہ انہی کا نعرہ ہے کہ اُردو زبان وادب روبہ زوال ہے. اچھے ناقدین کی حوصلہ افزائی کیجیے انہیں سامنے لانے کے مواقع فراہم کریں ناقدین کا معیار ہمارے ذہنوں میں نقش ہونا چاہیے صرف ایک یا دو غزلیں اور چند اشعار لکھ کر پوری عمر اس کے بل بوتے پر داد وصول کرنے والا شاعر ناقد نہیں ہوسکتا اسی طرح افسانے یا ناول کے قریب سے بھی کبھی نہ گزرنے والا اچھا قاری تو بن سکتا ہے مگر اپنے آپ کو ناقد نہیں سمجھ سکتا.

ناقد کا معیار اس کی غیر معمولی کارکردگی، علمی وادبی تعلیم و ابستگی اور پختہ ذہنی سطح جو کسی بھی تخلیق کار کی تخلیق کا غیر جانبدار ہو کر گہرائی اور گیرائی سے تجزیہ کر سکے. کسی بھی خودساختہ ناقد کو محض اس کے مطالعہ اور بھاری بھرکم الفاظ کے استعمال سے کی گئی گفتگو پر یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ تخلیق کار کی تخلیق کو اپنے ناقص معیار کی کسوٹی پر پرکھے. بلکہ نقدونظر اور تنقید کے لیے انھیں موقع دیا جائے جنھوں نے اُردو زبان وادب کی ترویج و تحسین کے لیے اس دشت کی سیاحی میں آبلہ پائی کے گہر پائے اپنی عمریں صرف کر دیں پوری عزت و احترام ان کے کہے کو معیار سمجھا جائے اور ان کے لکھے کی تکریم کی جائے ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسے گوہر نایاب ہمارے درمیان موجود ہیں بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی بصیرت کی تعظیم کی جائے اور ان کی نشاندہی پر تیشے کی نوک پر ضرب لگاتے ہوئے شاہکار تراشتے رہیں.
زبان وادب انسانی، اخلاقی، سماجی، معاشرتی حقیقتوں کا آئینہ اور تہذیب کا پرتو ہوتا ہے وہ ادیب ہی ہے جو معاشرے کے ناروا اور ناشائستہ رویوں پر پہلی ایف آئی آر کاٹتا ہے اور قاری کی عدالت میں پیش کر دیتا ہے اب اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرتا ہے کہ گزشتہ دور کا ادیب اپنے امر میں کتنا سچا اور کھرا تھا. ادیب لفظ کی حرمت اور قلم استعمال جانتا ہے اس لیے جب تک ادیب زندہ ہے ادب کو زوال نہیں……