فیصل شھزاد اللہ وَالےخدمت کی روشن مثال بن گئے،75 لاکھ کا راشن تقسیم کر دیا.

اللہ والا گروپ فیصل مغل اور اپکی پوری ٹیم کو سلوٹ
جس وقت اپنے بھی ساتھ چھوڑ گئے اس وقت سرگودھا شہر کا ایک نوجوان اٹھا اور دیکھتے ھی دیکھتے

اس شہر کی ہر ایک آنکھ کا تارہ بن گیا ہر ایک ماں بہن بیٹی بزرگ کے پریشانی دکھ اور تکلیف کو اپنا دکھ پریشانی بنا کر دن رات لوگوں کے دروازے پے راشن کے بیگ پنچانا ھی اپنا فریضہ سمجھنے لگا ہزاروں سال جیو میرے دوست اج آپ اس شہر کی ہر ماں اور بزرگ کی دعا میں ہیں۔
جس سے بھی تعلق رکھتے ہو تم لائق ستائش ہو۔۔ تم مثالیں رقم کرتے ہواس موقعہ پر جب صرف ووٹ لینے والے

سارے مجنوں گھروں میں دُبکے فیس بک اور ٹوئیٹر پر چوری کھا رہے ہیں تم جان ہتھیلی پر رکھے سڑکوں پر ہو اور خدمت خلق میں مصروف عمل ہو واقعی کمال ہو میں نے قریب سے دیکھا ہے بڑے پیمانے پر مسلسل نہایت ایمانداری سے روپیہ روپیہ جوڑ کر روپیہ روپیہ حقدار تک پہنچانا تمہارا امتیاز ہے

ان حالات میں کہ جب گھر میں بیٹھ جانا ہی مطلوب ہے تم سب خدمت گار باہر نکل آئے ہو تمہیں تمہارے اپنے عزیز ہیں مگر قوم عزیز تر ہےاے میرے عزیزو! میرے جگر گوشو!

یہ آزمائش ذرا مختلف ہے اور بندہ مومن سوچ سمجھ اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا دیکھو یہ سیلاب نہیں یہ زلزلہ نہیں یہ قحط نہیں یہ ایک نہ نظر آنے والا دشمن ہے نہیں معلوم جسے تم ہمدردی سے مدد پہنچانے پہنچے ہو جس کو تم گود میں

اٹھا کر اسپتال پہنچانے کی جلدی میں ہو جس کے لئے تم اپنے عام لباس میں بس ایک ماسک لگا کر بچانے نکلے ہو وہ ایک مریض کل خود تمہاری جان اور تمہاری فیملی کو کتنے بڑے کرائسز میں ڈال سکتا ہے. میرے عزیزو!

قوم کو تم جیسے ہمدردوں اور خیر خواہوں کی اشد ضرورت ہے تمہاری حفاظت پہلے ضروری ہے یہ طبی آزمائش اپنے بعد ایک بڑی مالی آزمائش بھی لا رہی ہے مجھے یقین ہے تمہاری ٹیم اللہ اللہ والے فیصل بھائی نے تمہارے آنے والے کل کا سوچا ہو گا

تمہارے گھر کا بھی ایک چولہا ہے اس سے بھی کچھ بچوں کا رزق وابستہ ہے تمہاری زندگی اور صحت قیمتی ہے تمہیں اس آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے کس قسم کے لباس کی ضرورت ہے کتنی سخت احتیاط درکار ہے مجھے یقین ہے یہ سوچا گیا ہو گا اس کا منصوبہ بنایا گیا ہو گا ان شااللہ
میرے عزیزو!


نیت خالص رکھنا بس اللہ کے بندوں کی خدمت کے راستے اللہ تک پہنچنا اس کا قرب اس کی رضا کا حصول اللہ اس مشکل میں خود تمہارا محافظ بن جائے اور تمہیں دوسروں کا محافظ بنا دے۔
(خدمت میں خود کو کھپانے والے ہر مخلص اور بہادر رضاکار کو میرا سلام۔

رپورٹ: شکیل احمد خان