پیپلزپارٹی کا این ایف سی کا ‘غیرقانونی’ نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی) نے دسویں نیشنل فنانس کمیشن(این ایف سی) کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر نوٹی فکیشن سے فوری طور پر دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پارٹی کے میڈیا آفس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ مطالبہ کیا، ان کے ہمراہ پلوشہ خان اور سینیٹر روبینہ خالد بھی موجود تھیں۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے نیشنل فنانس کمیشن کو ‘ غیرقانونی اور غیرآئینی’ قرار دیا۔

نوٹی فکیشن میں موجود شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان میں سے اکثر مسائل کو دیگر آئینی فورمز جیسا کہ کونسل آف کامن انٹرسٹ(سی سی آئی ) میں بات چیت ہونی چاہیے۔

تحریر جاری ہے‎

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے صرف اپنے قریبی ساتھیوں کو خوش کرنے کے لیے متعدد ایمنسٹی اسکیمز کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پہلی ایمنسٹی سے سب سے پہلے فائدہ اٹھانے والی وزیراعظم کی بہن علیمہ باجی تھیں۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ وہ کوئی آئندہ اقدام اٹھانے سے قبل حکومت کے جواب کا انتظار کریں گے اور مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے پارٹی اپنے وکلا کے ساتھ ان ہاؤس مشاورت کرے گی۔

بعدازاں ڈان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پہلے ہی این ایف سی پر وزیراعظم کو خط لکھا تھا اور اب ان کے جواب کا انتظار کیاجارہا ہے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ہم کوئی قدم اٹھانے سے قبل حکومت کے جواب کا انتظار کریں گے۔

انہوں نے نوٹی فکیشن کو متنازع قرار دیتے ہوے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پر تنقید کی اور کہا کہ صدر کی جانب سے ٖغیرآئینی اقدامات اٹھانے اور غیر مقبول آرڈیننس جاری کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے۔

پیپلزپارٹی کی رہنما نے الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی اور سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف ریفرنس کا حوالہ بھی دیا۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ وفاق کے اتحاد کی نمائندگی کے بجائے ایوان صدر سازشوں کی جگہ بن گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے چند ہفتے قبل صدر عارف علوی کے خلاف مواخدے کی تحریک کے آپشن پر تبادلہ خیال کیا تھا اور ایک پیپلزپارٹی کے ایک سینئر رکن نے ڈان کو بتایا تھا کہ اس آپشن پر اب بھی غور اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے پہلے ہی این ایف سی کی تشکیل پر قانونی اعتراض اٹھایا تھا اور نوٹی فکیشن کو غلط قرار دیا تھا

آئین کے آرٹیکل (1) 160کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے این ایف سی میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی شمولیت پر اعتراض کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ مذکورہ معاملہ عدالت میں اٹھائیں گے۔