نصاب اور رجعت پسندی

ڈاکٹر توصیف احمد خان

لارڈ میکالے نے 1835 میں جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔برطانوی ہند حکومت نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے انتظامی ڈھانچے کے لیے قانون سازی کی اور ان تعلیمی اداروں کا نصاب تیار کیا۔ انڈیپنڈنٹ ایکٹ کے تحت 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا۔

کراچی میں قائم ہونے والی سینٹرل گورنمنٹ تعلیم کی وزارت انگریز سرکار سے ورثہ میں ملی۔ تعلیم کی وزارت نے تعلیمی اداروں کے نصاب کی تیاری کا فریضہ سنبھالا اور 2010 تک تعلیم کی وزارت میں مقدس فریضہ انجام دیتی رہی، یوں وزارت تعلیم نے مجموعی طور پر 185 سال جدید تعلیمی اداروں کا نصاب تیار کیا۔ 60ء کی دہائی تک تعلیم حاصل کرنے والے صاحبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے انگریزی، حساب، اردو، فارسی، تاریخ اور جغرافیہ کے مضامین پڑھے تھے اور ان مضامین کا معیار یورپ میں پڑھائے جانے والے مضامین کے برابر تھا۔دارالحکومت راولپنڈی منتقل ہوا،وزارت تعلیم نے نصاب کو پاکستان کے تناظر میں ڈھالنے کا فریضہ انجام دیا۔ یوں جغرافیہ اور تاریخ کے مضامین تبدیل ہوئے۔

اب ایک نئی تاریخ پڑھائی جانے لگی، اس تاریخ میں ہندوستان کے عوام کی انگریزی سامراج کے خلاف جدوجہد کو شامل ہی نہیں کیا ۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی سیاسی زندگی کی ابتداء آزادئ اظہار، آزادئ صحافت، خواتین کی آزادی اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جدوجہد میں گزری۔ ان کے غیر مسلمان رہنماؤں سے ذاتی تعلقات تھے۔ ان میں جدوجہد آزادی کی رہنما سروجنی نائیڈو سرفہرست تھی مگر ان رہنماؤں کی جدوجہد کو کبھی نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختون خوا کا کلچر ہزاروں سال پرانا ہے۔ سندھی زبان ایک قدیم زبان ہے اور ہر صوبہ کے اپنے ہیرو اور لوک داستانیں ہیں مگر یہ سب کچھ نصاب میں شامل نہیں ہوا۔

مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں قائم ہوئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پاکستان اسٹڈیز کا مضمون رائج کیا۔ اس مضمون میں جمہوریت کی اہمیت ، پاکستان کے پیدا ہونے والے سیاسی بحرانوں خاص طور پر مشرقی پاکستان کے نقشہ سے غائب ہونے اور بنگلہ دیش بننے کی اہم تاریخ کو نظر انداز کیا گیا۔ ضیاء الحق کی حکومت امریکا کے کہنے پر افغانستان کے پروجیکٹ میں حصہ دار ہوئی۔ امریکا کے صدر ریگن نے جہاد کے نعرہ کو افغانستان کی عوامی جمہوری حکومت کے خاتمہ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ضیاء الحق کی حکومت نے اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد کرنا شروع کردیا۔ جدید تعلیمی اداروں کے نصاب میں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔ اب اردو، انگریزی، پاکستان اسٹڈیز اور اسلامیات کی کتابوںکے مضامین ایک ہی ہوگئے۔ معاملہ صرف اردو، انگریزی، پاکستان اسٹڈیز کی کتابوں تک محدود نہیں رہا مگر سائنس کے مضامین میں بھی تحریف کی گئی۔ پروفیشنل کالجوں میں اسلامیات اور پاکستان اسٹڈیز کے مضامین کی تدریس لازمی قرار دے دی گئی یوں ان پروفیشنل کالجوں میں طلبہ پر مضامین کا دباؤ بڑھ گیا۔ سائنس کے مضمون کو مذہب سے منسلک کردیا گیا۔ سائنسی نظریات کی مذہبی توجیہات بیان کی جانے لگی۔ انسانی سماج کے ارتقاء کے بنیادی مضمون کو صرف نصاب سے خارج نہیں کیا گیا بلکہ اسلامیات کے مضامین کے اساتذہ کی اس موضوع پر کتابوں کو تدریس کے لیے شامل کیا گیا، یوں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں غیر سائنسی طرز فکر تقویت پا گیا۔
ضیاء الحق کی حکومت کے خاتمہ کے بعد کچھ اساتذہ نے جب بھی نصاب میں تبدیلی کی جرات کی تو وزارت تعلیم کے افسران رکاوٹ بن گئے، یوں جمہوریت کے ارتقاء، دنیا میں جمہوریت کی بناء پر ترقی، پاکستان میں جمہوریت کے لیے قربانیاں دینے والے ہیرو اس نصاب کا حصہ نہیں بنے۔ صرف اردو کے مضمون کی مثال لے لی جائے تو حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ عظیم شاعر فیض احمد فیض، احمد فراز اور حبیب جالب کی شاعری کو نصاب میں شامل کرنے کی بہت سی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔

اس نصاب سے فیضیاب ہونے والے خودکش حملہ آور بننے لگے۔ امریکا میں نائن الیون کی دہشت گردی ہوئی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں۔ تحقیق کرنے والوں نے پتہ چلایا کہ سعودی منحرف اسامہ کے مذموم مقاصد کی تشکیل میں پاکستان کے جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان شامل تھے۔ ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر ، انجینئر اور جدید طرز حکومت اور معیشت کے ماہرین شامل تھے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں نصاب کی تبدیلی کی تحریک میں حرارت آئی۔ اب مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا ذکر ہونے لگا۔ مدارس کے نصاب کی نوعیت کیا ہے اس کا ذکر معروف عالم مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنے ایک خط میں (جو انھوں نے احمد نگر قلعہ سے لکھے تھے اور کتاب غبارِ خاطر میں شامل ہے) لکھا ہے کہ مدارس کے نصاب سے منطق اور استدلال کا مضمون خارج کردیا گیا تھا۔ ابھی نصاب کی تبدیلی کے بارے میں مشاورت جاری تھی کہ جنرل پرویز مشرف نے قیامت تک اقتدار میں رہنے کے منصوبہ پر عملدرآمد شروع کیا۔ مسلم لیگ ق بنائی گئی۔ بعض سیاسی حلقوں نے نصاب کی تبدیلی کو اسلام اور پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا، بہرحال 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان 2005 میں لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے میثاق کا احترام کیا اور آئین میں 18ویں ترمیم ہوئی۔ صوبوں کو وہ حقوق ملے جن کا ذکر 23 مارچ 1940 کو لاہور میں منظور ہونے والی قرارداد مقاصد میں کیا گیا تھا۔ پاکستان کی سیاست پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ 1970 میں 18ویں ترمیم جیسے مسودہ پر اتفاق ہوجاتا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل نہ ہوتا۔ ابلاغ عامہ کے استاد پروفیسر سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ ایوب خان کے دور میں سندھ کے ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ٹکا خان سندھی کو نصاب سے خارج نہ کرتے تو اردو بولنے والوں کی کئی نسلیں سندھی پر عبور حاصل کرچکی ہوتیں اور سندھ میں لسانی تنازعات پیدا نہ ہوتے۔ یوں اس ترمیم کے تحت نصاب کا معاملہ بھی صوبوں کے سپرد ہوا۔ چاروں صوبوں میں اس بارے میں خاصا بہت کام ہوا۔ سیاسیات کے استاد ڈاکٹر پال جو اقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے متحرک ہیں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے نصاب میں اقلیتوں کے بارے میں شامل منفی مواد کو خارج کیا گیا۔ خیبر پختون خوا مسلسل دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور سب سے زیادہ مالی نقصان اس صوبہ کا ہوا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے نصاب کو سائنٹیفک طرز پر مرتب کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اب انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کرنے والے سیاسی اکابرین کی جدوجہد بھی نصاب میں شامل ہوئی۔ بلوچستان میں جب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے مادری زبان میں تعلیم کا حق تسلیم کیا، یوں بلوچستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں میں تدریس کا حق حاصل ہوا۔ سندھ میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا۔ رواداری، برداشت اور تمام انسانوں سے محبت کے اصولوں کو نصاب کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔ عبدالستار ایدھی ،بلقیس ایدھی، ملالہ یوسفزئی، ڈاکٹر رتھ پاؤ اور بے نظیر بھٹو جیسے ہیرو کی داستانیں نصاب میں شامل کی جائیں۔ سائنس کے مضامین کی تدریس اس طرح ہوئی کہ سائنسی طرز فکر کو تقویت ملے۔

ابھی اس نصاب کی تبدیلی کا عمل مکمل طور پر پایہ تکمیل تک نہ پہنچا تھاکہ تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی ۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے دعویٰ کرنا شروع کیا کہ اس نصاب سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اس جدید نصاب پر تو ابھی مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ 185برس سے زیادہ عرصہ تک تدریس کے لیے استعمال ہونے والے نصاب نے تباہی مچادی جس کا اندازہ کورونا وائرس کے بحران سے پیدا شدہ صورتحال سے ہوتا ہے۔ آبادی کی اکثریت کورونا وائرس کے خطرناک اثرات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور اسے حکومت کا پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں،اگر وفاق نے صوبوں سے نصاب کی تیاری کا فریضہ واپس لیا تو ایک طرف صوبوں میں احساسِ محرومی پید اہوگا اور ایک دفعہ پھر وفاق کا نصاب رجعت پسندی کو تقویت دے گا۔