پاکستان کے مخصوص حالات میں کوئی بھی نیا کام کرنے میں مشکلات بھی آتی ہیں اور رکاوٹیں بھی

ڈھائی ماہ سے اسکول بند رہنے کے دوران ہمارے گھروں میں بچوں کا بیشتر وقت آئی پیڈ یا سمارٹ فون پر گذر رہا ہے۔ مہنگے پرائیوٹ اسکولوں اور کالجوں کی طرف سے آن لائن کلاسیں بھی جاری ہیں۔ لیکن سرکاری اسکولوں اور دیہی علاقوں میں پڑھائی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کی برابر ہے۔

کورونا کے اس بحران میں ہر ایک کو اپنی فکر ہے۔ تاجر کہتے ہیں بازار کھولو، مولوی حضرات کہتے ہیں مسجد کھولو۔ لیکن کوئی سرکاری ٹیچر یہ نہیں پوچھتا کہ اسکول کب کھلیں گے؟
ملک میں لاکھوں بچوں کے تعلیمی نقصان کی فکر دیکھنی ہو تو شاہ پارہ رضوی سے ملیئے، اس کے تدارک کے لیے ہر وقت بے چین نظر آتی ہیں۔ وہ ایک لمبے عرصے سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں لیکن ان کے پچھلے دس سال سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف) میں گذرے ہیں۔
ایس ای ایف صوبائی حکومت کا ذیلی ادارہ ہے اور اس کا کام دیہی علاقوں میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تعلیم کا فروغ ہے۔ فاؤنڈیشن مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر صوبے میں کوئی دو ہزار اسکول چلا رہی ہے، جہاں پانچ لاکھ بچے پڑھتے ہیں۔ ان نیم سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اور معیار سندھ کے باقی سرکاری اسکولوں کی نسبت کہیں زیادہ بہتر سمجھی جاتی ہے۔
کورونا کے بحران کے شروع ہوتے، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اپنے تعلیمی نظام کو نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشیں تیز کیں اور بچوں کی پڑھائی اور ٹیچرز کی ٹرینگ کے لیے اپنا ڈجیٹل مواد مفت مہیا کیا۔
اس کی ایک مثال میرپورخاص کے گاؤں بھگت گوٹھ کے “ہوپ ہائی اسکول” کی ہے۔ تیرہ سالہ دُعا خاصخیلی اس اسکول میں ساتویں کلاس کی طلبہ ہیں۔ انہوں نے اپنے گاؤں سے مجھے فون پر بتایا کہ جب سے اسکول بند ہوا، ان کا زیادہ تر وقت گھر کے کام کاج میں امی کا ہاتھ بٹانے میں گذرتا ہے۔


لیکن پھر شام کو پانچ بجے کے بعد واٹس ایپ پر پڑھائی شروع ہوتی ہے۔ وہ اپنے چچا کا سمارٹ فون لے کر صحن میں کھلے آسمان تلے چارپائی پر بیٹھتی ہیں اور اسکول ٹیچروں کی طرف سے بھیجی گئے ویڈیو لیکچر دیکھتی ہیں اور اپنا ہوم روک واٹس ایپ گروپ پر اپ لوڈ کر دیتی ہیں۔
دعا کے مطابق، “اسکول بہت یاد آتا ہے لیکن اب میں گھر سے ہی پڑھائی کر رہی ہوں اور ٹیچر سے سائنس، انگریزی اور ریاضی سے متعلق سوال کر سکتی ہوں۔”
ہوپ ہائی اسکول کوئی مہنگا پرائیوٹ ادارہ نہیں بلکہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مالی مدد کے تحت چلتا ہے۔ اسکول کی طرف سے چھ سے دسویں جماعت کے لیے الگ الگ واٹس ایپ گروپ بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اب ادارے کی طرف سے مائیکروسافٹ ٹیمز کے ذریعے بھی آن لائن کلاس روم چلانے کا تجربہ بھی کیا جا رہا ہے۔
لیکن پاکستان کے مخصوص حالات میں کوئی بھی نیا کام کرنے میں مشکلات بھی آتی ہیں اور رکاوٹیں بھی۔
صادقہ صلاح الدین پچھلے بیس سال سے سندھ کے مختلف اضلاع میں اسکول چلانے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ کہتی ہیں، “ہمارے ملک میں اکثر لوگوں کے پاس آج بھی انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز نہیں۔ دیہی علاقوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ جن کے پاس سمارٹ فون ہوتے بھی ہیں تو وہ بچوں، اور خاص کر لڑکیوں کو، دینے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں ڈجیٹل ٹیکنالوجی کا فائدہ بہت ہی محدود نظر آتا ہے۔”
پاکستان میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اس کا ایک توڑ یہ نکالا کہ ٹی وی پر بچوں کی تعلیم و تدیس کے پرگرام شروع کیے۔ وفاقی حکومت نے اردو میں پاکستان ٹیلی وژن پر، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے سندھی میں مہران ٹی وی پر جبکہ پنجاب نے سینکڑوں کیبل آپریٹرز کے ذریعے اپنے پروگرام شروع کیے ہیں۔
لیکن ماہر تعلیم سلمان نوید کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ ٹی وی سے کتنے بچے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ایک سروے کرانے پر غور ہو رہا ہے تاکہ بچوں اور والدین سے پتہ چل سکے کہ وہ یہ پروگرام دیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں۔
صادقہ صلاح الدین کے مطابق “ہم اس بارے میں کافی پُرامید تھے لیکن جب نشریات دیکھیں تو مایوسی ہوئی۔ جو مواد چلایا جا رہا ہے وہ خاصا بورنگ اور بے کار لگا۔” انہوں نے کہا کہ بچوں کا مواد دلچسپ ہونا چاہییے تاکہ ان کی توجہ قائم رہ سکے لیکن بقول ان کے، “معیار پر بظاہر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔”
معاملہ صلاحتیوں کے فقدان کا ہے، حکومتی نااہلی کا یا پھر غلط ترجیحات کا، یہ ایک لمبی بحث ہے۔ لیکن ان حالات میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی ٹیم نے یہ حل نکالا کہ صوبے بھر کے اسکولوں کی مقامی انتظامیہ کو پابند کیا کہ وہ جس حد تک ممکن ہو بچوں کو گھر بیٹھے مختلف مضامین کی ہوم ورک شیٹس پہنچائیں۔ جن اسکولوں نے اس پر عمل کیا وہاں بچوں اور والدین میں اس اقدام کو پذیرائی مل رہی ہے۔
چودہ سالہ راجونتی تعلقہ ڈگری کے پسماندہ گاؤں بشیرآباد میں آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ انہیں سمارٹ فون یا انٹرنیٹ تک رسائی نہیں اس لیے جب سے اسکول جانا بند ہوا ان کا زیادہ وقت گھر پر بےکار بیٹھے گذر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے گاؤں سے مجھے فون پر بتایا، “مجھے دو ہفتے پہلے ہی ورک شیٹس ملیں۔ بہت اچھا لگا۔ اب روز تھوڑی بہت پڑھائی کر لیتی ہوں۔”
پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد حکومت سندھ نے فوری طور پر اسکول بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صوبائی حکومت کے مطابق یہ پابندی پندرہ جولائی تک جاری رہے گی اور اگر حالات قابو میں نہ آئے تو اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق بچے جتنا جلدی سیکھتے ہیں اتنا جلدی بھول بھی جاتے ہیں اور شاہ پارہ رضوی جیسے ماہرین تعلیم کی کوشش ہے کہ کورونا کے دوران بچوں کا کم سے کم تعلیمی نقصان ہو ورنہ انہیں واپس اپنی سطح پر لانے میں بہت زیادہ وقت اور محنت درکار ہوگا۔
شاہ زیب جیلانی، کراچی