لیکن مشہور وہ پطرس بخاری کے نام سے مزاح نگار کی حیثیت ہی میں ہوئے

نام تو ان کا سید احمد شاہ ہی تھا۔ سفارت کار۔ براڈکاسٹر۔ ماہر تعلیم۔ مترجم۔ شاعر اور نہ جانے کیا کیا تھے لیکن مشہور وہ پطرس بخاری کے نام سے مزاح نگار کی حیثیت ہی میں ہوئے۔ مزاح نگاری میں شہرت کی بلندی پر پہنچنے کی وجہ ان کی “اکلوتی” کتاب ‘پطرس کے مضامین’ تھی جو پاکستان اور ہندوستان میں کالج و یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی ہے۔

سنی بنجمن جون کو آپ نہیں جانتے ہونگے لیکن ایس بی جون گلوکار کا نام لیا جائے تو آپ ضرور اچھل پڑیں گے (اگر آپ کا تعلق ہماری جنریشن سے ہے اور آپ ہماری طرح پڑھائی سے زیادہ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی سے چپکے رہتے تھے!) ان کی زندگی کے اسرار رموز ہمارے دوست سردار حسن بلوچ (پی آئی اے ریٹائرڈ) ہی صحیح بتانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ہم تو صرف یہ یاددہانی کرارہے ہیں کہ ایس بی جون کی وجہ شہرت ان کا گایا ہوا صرف اور صرف ایک نغمہ (“تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے”) ہی تھا۔

اور بھی ایسے لوگ ضرور ہونگے جن کا ایک ہی “چھکا” انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کا سبب بنا ہوگا لیکن ہم آج ایک ایسی خاتون اور ان کی لکھی ہوئ ایک پرانی اور نایاب کتاب “ملکہ مشرق” کا تذکرہ کرنا چائیں گے جسے پاکستان بننے کے بعد کراچی کی تاریخ سے متعلق پہلی اور ایک مستند کتاب کا درجہ حاصل ہے۔ محمودہ رضویہ کی یہ کتاب لیاری سے قریب واقع جھونا مارکیٹ میں ایک صدی سے پہلے قائم شدہ کراچی کے قدیم ترین کتاب جاہ عباسی کتب خانہ نے 1947 کے آخر میں شائع کیا۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ 184 صفحات پر مشتمل اس کی قیمت اس وقت صرف دو روپے رکھی گئی تھی۔

محمودہ رضویہ کی “ملکہ مشرق” کی ممتاز حیثیت اور اس کی “اکلوتیت” اس لیے بنتی ہے کہ ایک تو مصنفہ خود شہر کراچی کی قدیمی رہائشی اور یہاں “چلتی ہوئی تاریخ” میں ہم قدم تھیں اور پھر 1922 کے بعد اس شہر کے ادبی افق پر نمایاں ان ادیبوں اور شاعروں میں شامل تھیں جنہوں نے ادب میں نئے خیالات و رجحانات کی علمبرداری کی (پی ایچ ڈی مقالہ ڈاکٹر جاوید منظر)۔ دوسری “یکتا” اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ پر ابھی تک جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں ان کے تقریباً تمام مصنفین نے محمودہ رضویہ کی کتاب “ملکہ مشرق” سے استفادہ کیا اور باقائدہ اس کا حوالہ واضع طور پر دیا۔ 70 سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا لیکن اس تاریخی کتاب کی تازگی و شگفتگی اور “اپنائیت” اپنی جگہ قائم اور برقرار ہے۔

اس کتاب کی ابتدا سندھ کی تاریخ سے ہوتی ہے اور پھر کراچی کی آبادی۔ ترقی۔ تعلیم۔ تجارت۔ دولت۔ بینک۔ عمارات۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے اثرات۔ ریلوے۔ میونسپلٹی۔ قبرستان۔ ٹراموے۔ پوسٹ آفس۔ واٹر ورکس۔ ٹیلیفون۔ اسپتال۔ سڑکیں راستے۔ کالج اسکول۔ لائبریری۔پبلک لیکچر ہال۔ مساجد و معابد۔ مارکیٹس۔ ہوٹلز۔ باشندے۔ تفریح گاہیں اور باغ و بغیچوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں کراچی کے ماضی و حال کے تذکروں کے بعد مستقبل کی نشاندہی بھی اس کتاب میں ملتی ہے۔

جہاں محمودہ رضویہ نے ہر شعبہ میں “دخل اندازی” کی ہے وہاں ستمبر 1947 میں کراچی کی بڑھتی ہوئی “گرانئ اشیاء کا نوحہ” بھی کچھ یوں پڑھا ہے: ” حال یہ ہے کہ گوشت پونے دوروپے سیر ہے۔ گھی سات روپے سیر۔ ناریل کا تیل ساڑھے تین روپے سیر۔ آٹا ایک روپے کا تین سیر۔ چاول ایک روپیہ کے دوسیر۔ شکر (چینی) ساڑھے آٹھ آنے (کنٹرول کے مطابق)۔ معمولی سا کپڑا دو سے تین روپے گز اور ریشم پانچ سے چھ روپے گز۔ دودھ بارہ آنے سیر۔ ہر قسم کی دال ایک روپیہ سیر۔ آلو چودہ آنے سیر اور معمولی سی سبزی بھی بارہ آنے سیر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سخت تکالیف کا سامنا ہے۔ (غرض) صبح سے شام کرنا جوئے شیر لانا ہے!”

ہم نے (کئی صدی پہلے) اسکول میں میٹرک کی انگلش کتاب میں پڑھا تھا کہ کراچی ایشیا کا خوبصورت اور صاف ترین شہر ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اسے ملکہ مشرق کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ کیوں یہ اعزاز دیا گیا محمودہ رضویہ لکھتی ہیں: (اس لیے کہ) “اس جدید شہر کی حیرت انگیز ترقی۔ قدرتی بندرگاہ۔ نفاست و صفائی۔ عمارتوں کی خوب صورتی۔ بازاروں اور سڑکوں کی کشادگی۔ نیز شاہراؤں کی خوشنمائی۔ ساحل سمندر کی دلربائی۔ ایسی ایسی خوبیاں ہیں جو ایشیا کے کسی دوسرے شہر کو حاصل نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے اسے “ملکہ مشرق” کہنا نہ تو شاعرانہ تخیل کہا جاسکتا ہے اور نہ کسی قسم کا مبالغہ بلکہ یہ ایک بین حقیقت ہے۔”

ہائے! ان 70 سالوں میں وہ ملکہ مشرق کہاں کھو گئی۔ کس کس ظالم نے ملکہ مشرق کو بے آبرو کیا۔ کس کس سفاک نے اس کی ترقی۔ صفائی و نفاست۔ خوبصورتی۔ کشادگی۔ خوشنمائی اور دلربائی جیسی خوبیاں اس سے چھین لیں۔ کون کون سے جابر نے ہمارے ملکہ کے سر پر سجا سونے و جواہر کا تاج لٌوٹ کر اسے گلے سڑے باسی و بدبودار ظلمت کا ہار پہنایا۔ اب وہ بیچاری مظلوم اور لٹی پٹی ملکہ ایک بھٹکتی روح کی طرح گھومتی پھرتی خاموشی کی زبان سے کہتی ہوئی نظر آتی ہے:

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

Ramzan-Baloch