معمولات زندگی کی عجلت میں بحالی، اموات میں اضافے کاسبب ہوگی۔۔!!

امریکی ریاستوں میں لاک ڈاؤن ہٹا کر کاروبار زندگی بحال کرنے پر بضد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب یہ فرمارہے تھے کہ امریکہ اپنی عظمت کی جانب گامزن ہونے کو تیار ہے


تو عین اسی وقت ایک طرف امریکہ میں کورونا وائرس سے ابدی نیند سونے والوں کی تعداد 81 ہزار سے تجاوز کررہی تھی تو دوسری طرف سینیٹ میں وبائی امراض کے ماہرین یہ باآور کرارہے تھے کہ ریاستوں اور شہروں کو کھولنے میں عجلت کا نتیجہ غیر معمولی اموات میں اضافے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔فہم وفراست سے عاری صدر ٹرمپ کے اپنے ہی ماہرین صحت بشمول ڈاکٹر انتھونی فوسی اور ڈائریکٹر آف دی سینٹرز برائے کنٹرول امراض ڈاکٹر رابرٹ ایڈ فیلڈ بھی اس عجلت پسندی سے گریز کرنے کی تنبیہہ کررہے تھے۔ جس سے ایک دن قبل امریکی ذرائع ابلاغ وائٹ ہاؤس کی رپورٹ اس کے اجراء سے قبل ہی شائع کرچکے تھے، جو واضح طور پر امریکی ریاستوں خصوصا نیشویل، ٹی نیسی، ڈیس موئنز، لووا سینٹرل سٹی، اورکینٹکی میں کورونا وائرس کے کیسز میں اچانک اضافے کا انکشاف کررہی تھی۔ یہ رپورٹ 7 مئی کے وائٹ ہاؤس کے انٹرنل میمو میں موجود تھی جو صدر ٹرمپ کے ان دعوئوں کی براہ راست نفی کررہی تھی کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی اختلافات نہ صرف صحافتی بلکہ عوامی حلقوں میں بھی تماشہ اور کنفیوژن کا سبب بن رہے ہیں اور صدر ٹرمپ اور ان کے اپنے ماہرین صحت کے بیانات میں تضاد یا اختلاف سے امریکہ میں ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران ڈاکٹر انتھونی فوسی نے بھی ریاستوں، شہروں اور علاقوں کو کھولنے پر اپنی شدید تشویش ظاہر کی تھی، اور واضح کیا تھا کہ قطع نظر اس بات کے کہ معمولات زندگی کو جزوی طور پر یا مکمل بحال کیا جاتا ہے کسی بھی صورت میں اگر ایسا ہوا تو یقینا وائرس کا پھیلاؤ اس حد تک بھی جاسکتا ہے جہاں آپ اسے کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے، نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور معیشت کی بحالی کے حوالے سے کئی المیات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔دلچسپ امر یہ بھی تھا کہ اسی سینیٹ کی سماعت میں ری پبلکن اراکین کے چہروں پر ماسک نہیں تھا جبکہ ڈیموکریٹک اراکین ماسک لگائے ہوئے تھے، حد تو یہ تھی کہ اپنے عملے کے ایک رکن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث اپنے گھر سے ہی اس سماعت کی صدارت کرنے والے ری پبلکن سینیٹر لمار الیگزینڈر نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ہمیں لازمی طور پر ملک کو کھولنا ہوگا ہم صرف گھر بیٹھ کر کام نہیں کرسکتے۔ سماعت میں گوکہ ڈاکٹر انتھونی فوسی نے خبردار کردیا تھا کہ معیشت کی بحالی میں جلد بازی غیر ضروری اموات کی صورت میں ظاہر ہوگی لیکن حقیقت یہ نظر آئی کہ ٹیکساس سمیت کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن اٹھا کر کاروبار زندگی بحال کردیا گیا۔ اسی طرح ماہرین صحت کے مشورے کو خاطر میں نہ لاکر اموات کی شرح میں اضافے کا راستہ کھول دیا گیا، اور ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار اضافی اموات واقع ہوگئیں اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکی حکومت نے وارننگ پر توجہ ہی نہیں دی اور نہ ہی اس حقیقت کو سمجھنے اور دیکھنے کی کوشش کی کہ باقی دنیا میں کیا ہورہا ہے۔اگر صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور ماہرین صحت کی وارننگ کے باوجود ریاستوں کو کھولنے کے غیر شعوری فیصلے کو مختلف زاویوں سے پرکھا جائے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شہروں اور ریاستوں کے کھولنے کے نتیجے میں وائرس کے مزید پھیلاؤ نے جنم لیا ہے، جس نے وائرس اور اینٹی باڈی کے ٹیسٹوں میں اضافہ کرکے ایک مخصوص کاروباری طبقے کو غیر معمولی منافع سے نواز دیا، جبکہ اس پھیلاؤ میں شدت آنے کی صورت میں نومبر میں ہونے والے صدارتی الیکشن کے ملتوی ہونے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا، جس میں صدر ٹرمپ کی شکست کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں امریکی عوام کی الیکشن سے دلچسپی واجبی سی نظر آتی ہے کیونکہ وہ کورونا وائرس کے سبب سے پیدا ہونے والے کئی بحرانوں میں گھرے ہوئے ہیں، بیروزگاری کا طوفان تیزی سے شدت پکڑ رہا ہے جس کے باعث اب صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا بڑی تیزی سے ذہنی اور نفسیاتی امراض کے شکنجے میں مبتلا ہوتی نظر آتی ہے۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگ، تنہائی، غربت، بے چینی اور معاشی مسائل کا شکار بن رہے ہیں، اسی لیئے اقوام متحدہ نے عالمی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ذہنی صحت کے مسئلے کو موجودہ بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں فوقیت دیں، کیونکہ معاشی بحران اور اقتصادی زبوں حالی نے ذہنی صحت اور اس جیسے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں ہوشربا اضافہ کردیا ہے، جس کی وجہ سے خودکشیوں کا رجحان بھی خوفناک حد تک لوگوں میں سرایت کرسکتا ہے، بعض ممالک میں کیئے گئے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ذہنی امراض اور ذہنی دباؤ کا شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، اس سروے کے مطابق ان امراض کے شکار افراد کی تعداد میں چین میں 35 فیصد، ایران میں 60 فیصد، امریکہ میں 45 فیصد اور پاکستان میں 42 فیصد تک کا خطرناک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت بحرانوں کی زد میں ہے جس سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر حکومتوں کے درمیان باہمی اور مربوط تعاون کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔
Nawaiwaqt