شیخ صاحب! کراچی میں فی الحال ٹرین نہیں چلنے دیں گے، وزیرٹرانسپورٹ سندھ

وزیر سندھ ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کہا ہے کہ شیخ صاحب! کراچی میں فی الحال ٹرین نہیں چلنے دیں گے، اگر ٹرینیں چلیں تو پھر ایک لاکھ سے اوپر کیسز ہوجائیں گے، کراچی میں ہر صوبے کی عوام بستی ہے، وائرس کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں کہا کہ شیخ صاحب! کراچی میں فی الحال ٹرین نہیں چلے گی۔


ٹرینیں چلیں تو پھر کورونا وائر س کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔ کراچی سندھ کا بڑا شہر ہے اور کراچی میں ہر صوبے کی عوام بستی ہے، ریلوے اسٹیشنز پر لوگوں کا ہجوم بڑھ جائے گا۔ اگر ٹرینیں کھلیں تو پھرصوبے میں ایک لاکھ سے اوپر کیسز ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کو عوام کی زندگیوں کی فکر کم ہے ٹرین چلانے کی زیادہ فکر ہے۔

شیخ صاحب آپ صوبے کے محتاج نہیں تو صوبے بھی آپ کے محتاج نہیں ہیں۔

وفاق سندھ سے چلتا ہے، سندھ وفاق سے نہیں چلتا۔ واضح رہے وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ منگل کو ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کر لیا جائے گا، وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا منتظر ہوں ، اس کے بعد حکمت عملی طے کی جائے گی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹرینوں کی بکنگ کی مد میں 23.2 کروڑ روپے ایڈوانس جمع ہیں، تمام ٹرینوں کو ایس او پی کے تحت تیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے وزیر اعظم اور وفاق کے ماتحت ہے، ریلوے کی بحالی میں زیادہ سندھ سے رکاوٹ آرہی ہے، مراد علی شاہ سے اچھے تعلقات ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ جہازوں اور بسوں کو اجازت دیں اور ریلوے کو نہ دیں، اگر کراچی کا ٹریک کھلے گا تو ٹرینیں چلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے صرف پنجاب کی نہیں پورے پاکستان کی ہے، وزیر ریلوے نے کہا کہ منگل کو ٹرینیں چلانے یا نہ چلانے کے حوالے سے فیصلہ کر لیں گے، انہوں نے کہا کہ ریلوے چاروں صوبوں کی زنجیر ہے اسے چلانے کی مکمل تیاری کیلئے ریلوے حکام کو ہدایت کی ہے مگر دو دن میں ریل نہ چلی تو بعد میں ایس او پی پر ریل چلانا مشکل ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ عیدکے دنوں میں بھی آن لائن بکنگ کو ترجیح دیں گے، ہمارے ہاں 90 دن کی بکنگ ہوتی ہے 60 دن تو گزر ہی گئے، شیخ رشید نے کہا کہ اجازت نہ ملنے پر بدھ کو مسافروں کو رقم واپس کرنا شروع کر دیں گے