توبہ توبہ — آپ کا ایمان تو بہت کمزور ہے

ایک ایسا جملہ جو پاکستان میں رہتے ہوئے آپ کو کہیں بھی کبھی بھی سننے کومل سکتا ہے کیونکہ ہم لوگ ججمنٹل بہت ہیں۔ کسی کے بھی حلیے انداز رویے سے اس کے دین کی گہرائی اور پختگی کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور دین بھی وہ جس میں اچھے اعمال کو نیک نیتی سے مشروط کیا گیا ہے۔

کچھ ہفتے پہلے کی بات ہے۔ کرونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن کی خبریں گردش میں تھی۔ سوشل ڈسٹینسگ کی بات چل رہی ہاتھ ملانے گلے ملنے سے منع کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران ایک فرینڈ نے ایک خاتون سے سلام لینے مزاح کے انداز میں منع کیا، وہ خاتون جھٹ سے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کرنے لگی کہ آپ کا ایمان تو بہت کمزور ہے۔

فرینڈ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ مذاق کیا تھا بلکہ سلام لینے کی کوشش بھی لی لیکن کیونکہ وہ خاتون ایمان کی کمزوری کا لیبل لگا چکی تھی تو انھوں نے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ شاید انھی رویوں کی وجہ سے ہمارے ہاں عبادات اور فلاحی کاموں کی تشہیر لازمی سمجھی ہے کیونکہ ہم اللہ سے زیادہ اپنے جیسے زیادہ انسانوں کو جوابدہ ہونے سے ڈرتے ہیں۔ اللہ کی پسند نا پسند سے زیادہ انسانوں کی پسندیدگی نا پسندیدگی سے ڈرتے ہیں۔

آج سے کچھ سال پہلے اللہ کے گھر جانے کی سعادت نصیب ہوئی وہاں سے واپسی پر کسی خاتون سے ذکر کر بیٹھی لیکن مبارک کے ساتھ جو الفاظ سننے کو ملے وہ میرے لئے کافی حیران کن تھے۔ وہ الفاظ یہ تھے کہ اللہ کی شان ہے۔ آپ جیسوں کو بلا لیتا ہے اور ہم جیسے بیٹھے رہ جاتے ہیں اور یہ بات انھوں نے اس وجہ سے کہی کیونکہ وہ عبایہ میں ملبوس تھیں۔ بہرحال انھوں نے میرے دوپٹے اور اپنے عبایہ کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اللہ کے گھر جانے کا حق مجھ سے زیادہ ان کا تھا۔ وہ لباس جو ہر مسلم ملک کا بھی دوسرے سے مختلف ہے۔ وہ لباس جو کبھی کبھی عبایہ میں بے حیائی اور پینٹ شرٹ میں حیا کا تاثر دیتا ہے۔ اس پر ہم لوگ اگلے بندے کے کردار اور ایمان کا مکمل ایکسرے کر لیتے ہیں۔

ہمارے ہاں لباس ظاہری رویے بات کرنے حتی کہ ہنسنے کا سٹائل بھی بندے کو جانچنے کی بنیادی اور اہم وجہ بن جاتا ہے۔ اور تو اور کرونا جیسی بیماری کو بھی عورت کے لباس سے جوڑا جا رہا ہے۔ پانچ چھ سال کے بچے بچیاں جنھیں دوپٹہ اوڑھنا بھی نہیں آتا ان کے ساتھ ہونے والی درندگی کو بھی عورت کے لباس سے جوڑ کر جسٹیفائی کر لیا جاتا ہے۔

حلیے لباس یا اطوار کی معمولی تبدیلی اکثر آپ کو سرزد ہونے والی سنگین حرکات کے اثرات سے بچا لیتی ہیں۔ اس کا اندازہ پچھلے دنوں لیک ہوئی وڈیوز سے کیلیگرافی اور درس دینے تک کے سفر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وڈیوز لیک ہونے کے بعد جو لوگ مرنے مارنے پر اتر آئے وہی درس سن کر صدقے واری جا رہے ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کو صرف اپنے ظاہری حلیے پر توجہ دینی ہے کیونکہ یہی آپ کو دنیا کی نظر میں معتبر اور کمتر بناتا ہے پھر چاہے آپ قصور کی زینب کے مجرم عمران کی طرح داڑھی رکھ کر ریپ جیسا گھناؤنا عمل کر کے نعتیں پڑھتے پھریں۔

ہمارے ججمنٹل رویوں کا تو یہ عالم ہے کہ میتیں بھی ہماری نظروں کی تیزی اور دلوں کی سختی سے محفوظ نہیں رہتیں۔ جان نکلنے کی ٹائمنگ، لمبی بیماری، چہرے کی رنگت، آنکھوں کے بند اور کھلا ہونے سے ہم وہیں بیٹھے بیٹھے نہایت آرام سے مردے کی جنت اور دوزخ کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ موت کے وقت اولاد کی موجودگی غیر موجودگی پر میت کے اخلاق کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بڑے اور چھوٹے جنازوں سے اگلی منزلوں کی آسانی اور سختی طے کر لی جاتی ہے۔ بیماری کو کسی غلطی کی سزا اور جان دیر سے نکلنے کو اللہ کا عذاب ٹھہرا کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ شاید ہم فارغ ہی اتنے ہیں کہ اپنے تئیں اللہ کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

فیس بک یا ٹویٹر کے پروفائل پر لگی چند انچ کی تصویر دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیتے کہ تصویر والا یا والی مسلمان ہے یا نہیں اور ستم ظریفی یہ کہ ہمارے دوسرے کو جج کرنے کے پیمانے بھی مختلف ہیں۔ کوئی اسی تصویر کو دیکھ کر کفر کے فتوے اور کوئی اچھی تربیت کا کمال کہہ رہا ہوتا ہے۔ ہر انسان اپنی نظر کے مطابق دنیا کو سیٹ کرنا چاہتا ہے جو اسے صحیح لگتا ہے۔ بس وہی ٹھیک ہے۔ ایمان پرکھنے کا جو پیمانہ اس نے بنا رکھا ہے بس اسی پر پورا اترنے والا مسلمان ہے۔

کسی کے نزدیک برقعہ بھی بے حیائی ہے اور کسی کو جینز سے بھی کوئی مسئلہ نہیں کسی کے نزدیک عورت کا گھر سے نکلنا بھی غلط ہے اور کسی کو گھر بیٹھی عورت ناکارہ لگتی ہے۔ کیا کسی بھی شخص کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ دنیا کے ہر شخص کے بنائے پیمانوں پر پورا اتر سکے۔

مذہب کو صرف ظاہری طور پر اپنا کر ہم نے خود اس کی روح کو کمزور کیا ہے۔ عبادت صرف اسے سمجھا جاتا جو کسی کی نظر میں آ جائے چیریٹی صرف اس کو جانا جاتا جو سوشل میڈیا کی زینت بن جائے۔ نماز پڑھتے ہوئے رہنماؤں کی تصویریں ہماری نظر میں ان کے ایمان کو پختہ کرتی ہیں۔ ہر دو مہینوں کے بعد کسی نہ کسی شخصیت کو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا یقین دلانا پڑتا ہے۔ ہر سیاستدان اور بڑی شخصیت نے اپنے حج اور عمرے کی تصویریں محفوظ رکھی ہوتی ہیں کہ نجانے کب ضرورت پڑ جائے اور اگر کوئی اللہ کے حکم کے مطابق اس طرح چیریٹی کرے کہ دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے تو اس کے نیک اعمال دنیا سے اوجھل رہ جاتے اور وہ واہ واہ کے خوش کن عمل سے محروم رہ جاتا ہے۔

انھی ججمنٹل رویوں کا اگلا پڑاؤ فتوی ہوتا ہے۔ آپ نہایت آرام سے معمولی اختلاف یا سوال اٹھانے پر کسی جو بھی کافر غدار قرار دے سکتے اور لوگ بغیر سوچے سمجھے اس پر یقین بھی کر لیں گے۔ پہلے یہ فتوے صرف فوج اور مولوی پر تنقید پر دستیاب تھے پر آج کل عورت کے حقوق پر لکھنے اور مشہور ترکش ڈرامے پر تنقید پر بھی وافر مقدار میں مل جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈرامے میں فل ڈریس اور سر پر ٹوپی دیکھ کر نہال ہونے والوں کا انسٹا کی تصویریں دیکھ کر برا حال ہو چکا ہے۔ کردار کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والے اداکار کے لباس پر گالیاں دے رہے ہیں۔ صرف ظاہری حلیے کو بنیاد بنا کر۔
ظاہری حلیے اور رویے سے فتوے تک کا سفر ہم چند لمحوں میں کر لیتے ہیں کیونکہ ہم ججمنٹل بہت ہیں۔

Rabi-Aftab