کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق حل ہوگا

  جدہ  (امیر محمد خان سے )  کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق حل ہوگا وہ وقت دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہوگا. بھارت  نے جو موجودہ اقدامات کئے ہیں وہ نا صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ کشمیر کی خود ارادیت پر کھلاحملہ ہے جس سے  بھارت  کا مکروہ چہرہ سب کے سامنے آگیا ہے. اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پچھلے پچاس سالوں سے کشمیریوں کی آواز ہے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے میں کوشاں ہے ان خیالات کا اظہار پاکستان جرنلسٹس فورم کی جانب سے اسلامی تعاون تنظیم اور پاکستان ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے آن لائن کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کیاآن لائین  کانفرنس  میں  جدہ سے سینئر صحافیوں کے علاوہ  مشہور  صحافی  سراج وہاب، کراچی سے نوائے وقت کے ریذیڈنٹ   ایڈیٹر  امین یوسف،  دنیا نیوز  کراچی سے مصطفے حبیب  اور پاک مڈیا فورم ریاض کے چئیرمین  الیاس رحیم  کے علاوہ جموں و کشمیر کمیونٹی کے عہدیداران بھی شامل تھے بھی شامل تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے.سعید شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان جرنلسٹس فورم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات میں بہتری کے لئے کوشاں ہے اور اس عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے.انہوں نے کہا کہ آپ لوگ  عوام تک صحیح صورتحال پہنچاتے ہیں ایک سوال کے جواب میں سعید شیخ کا کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی بدولت مسلم ممالک میں تجارت کا فروغ بھی بڑھا ہے جس کی مثال ترکی ہے. پہلے ترکی کی تجارت کامحور یورپ تھا مگر پچھلے پانچ سالوں سے ترکی نے اسلامی ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھایا ہے اور ایسے اقدامات مسلم ممالک کو کرنے چاہئیں انکا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کا نہ پہلے  عسکری حل تھا اور نا اب ہے. اس کا حل سیاسی اور سفارتی طریقوں سے ہی ممکن ہے. اگر عسکری حل ہوتا بہارت کشمیر میں نو لاکھ فوجی ہونے کے باوجود بھی اس طرح شکست زدہ  نہ ہوتا. بھارت  گھبراہٹ کا شکار ہے اوراسی گھبراہٹ میں وہ غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے جس کی اجازت نہ اقوام متحدہ دیتا ہے  نہ اسلا تعاون تنظیم اورنہ ہی کشمیر کی عوام. کشمیریوں کا ایک ہی مطالبہ ہیکہ  انہیں فیصلہ خود کرنے دیا جائے. برہان وانی کی تحریک ہو یا ریاض نائیکو یا پھر کشمیری مجاہدین کی سب کی ایک ہی آواز ہے کشمیر بنے گا پاکستان.ایک سوال کے جواب میں رضوان شیخ نے کہا کہ  کہ  لائین آف کنٹرول پارکرنے کی مخالفت  ایک دانشمندانہ  اقدام تھا  چونکہ  چونکہ  بھارت جو مقبوضہ کشمیر میں فوج لئے بیٹھا ہے وہ  فائرنگ کرتا ، مگر ہم جواب میں فائرنگ نہیں کرسکتے تھے  چونکہ دوسری طرف بھی  ہمارے لوگ یعنی مقبوضہ کشمیر کے عوام تھے۔ سفارت خانہ کہ حوالے سے سعید شیخ کا کہنا تھا کہ ایک سفارت خانہ ریاض، قونصل خانہ جدہ کے بعد تیسرا سفارت خانہ کھل رہا ہے جو صرف ا سلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے حوالے سے کام کرے گی. آنے والے دنوں میں پاکستانی عوام  کو   او آئی سی میں کشمیر کی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے چارٹر میں کشمیر کے حق خودارادی کی بات کی گئی ہے  اس لئے ممبر ممالک کو اس کے لئے کام کرناپڑے گا  رضوان شیخ جو  ماضی میں اسلامی تعاون تنظٰم میں  سیکریٹر ی جنرل کے ترجمان  کی حیثٰت میں کام کرتے رہے ہیں ، نیز  او آئی سی  کے انسانی حقوق  کمیٹی کے چارٹر بنانے میں اہم کردار رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ  ریکارڈ کے طور پر  کبھی  جنرل اسمبلی،  اقوام متحدہ  کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے مطالبے کو تبدیل نہیں کرسکتے۔چونکہ یہ انکی تمام قراردادوں میں شامل رہا ہے ،  ریکارڈ موجود ہے کہ خود اختیاری کا مطالبہ اقوام متحدہ  میں بھارت ہی لیکر گیا، یہ اور بات ہے کہ وہ ا ب ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔.انہوں نے کہا کہ اس او ائی سی کا موازنہ اقوام متحدہ سے  نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اقوام متحدہ ایک بین الاقوامی اداراہ جس کے قوانین کی پابندی کے لئے تمام ممالک نے اس کے چارٹر پر متحدہ طور پر مانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  بنیادی طور پر او ائی6 سی کا قیام مسئلہ فلسطین کی وجہ سے ہوا تھا۔ لیکن او ائی سی کو اپنی منظور کردہ  قرارداوں پر عملدرامد کروانے کے لئے طاقت کا استعمال نہیں کر سکتی۔ کس بھی مسئلہ کا حل طاقت کے زور پر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ حل پائیدار نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر انے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کچھ اہم فیصلے کئے جائیں گے یہ اجلاس اپریل میں ہونا تھا لیکن  کرونا وائرس کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو گئی ہے۔ او آئی سی کی کارکردگی کے متعلق  ایک سوال کے جواب میں سفیر رضوان شیخ نے کہا  کسی ادارے کی کارکردگی اسکے ممبران کی آراء  سے منسلک ہوتی ہے ممبران جس حد تک قراردادوں پر عمل درآمد کرنے  کیلئے لائحہ عمل بناینگے  وہیں تک  اس پر عمل درآمد ہوگا،  ادارہ  از خود کچھ کچھ نہیں ہوتا۔ آن لائین مذاکرے میں  جو دیگر سینئر صحافی موجود تھے   ان میں شاہد نعیم،جمیل راٹھور،  خالد خورشید، خالد چیمہ،  معروف حسین، مصطفے خان، محمد عدیل، مسرت خلیل،امانت اللہ،اسد اکرم،  مکہ المکرمہ  سے  عامل عثمانی،جاوید  راہو، ذکیر بھٹی،یحی اشفاق، شہزاد  خان، مریم شاہد،  فوزیہ خان شامل ہیں۔