یہ مسئلہ ارباب اختیار کو پہنچانا ضروری تھا

 امیر محمد خان 
صاحبو  ! موجودہ  حکومت کو  دو سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے ،  اس عرصے کے دوران  حزب اختلاف  حکومت کے ساتھ  ہر محاذ پر ناکام لڑائی لٹرتی رہی، اور جب لڑائی ناکام ہی تھی کامیابی کیاہوسکتی ہے؟ اسی طرح حکومت نے  بھی ملک کو درپیش  معاشی بحرانوں،اور حالیہ  کروناء وباء کے دوران بھی کوئی موقع ایسا نہ چھوڑا کہ  دبی،  سہمی، حزب اختلاف  کے خلاف  بیان بازی نہ کی ہو، اس کام کیلئے حکومت نے باقاعدہ  لگتا ہے   STRATEGY  بنائی ہے اور چندترجمانوں کو اس کام پر چھوڑرکھا ہے، حزب اختلاف پر تنقید   اور حکومت پر حزب اختلاف کی تنقید جمہوریت کی خوبصورتی کہلا تی ہے، مگر اس خوبصورتی میں کسی بھی جانب سے پھکڑ پن کا مظاہرہ جمہوریت کا حسن نہیں بد صورتی ہے، حکومتی ترجمان اور نئے مقرر کردہ وزیر اطلاعات کی زبان میں کبھی وہ  الفاظ ادا نہیں ہونگے جو  ماضی میں ہوتے رہے ہیں ،  اور پہلے وزیر اطلاعات ہیں جنہیں حزب اختلاف بھی خوش آمدید کہتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس کرونا ء وباء کے دوران  وہی فیصلے کیئے جسے انہوں نے بہتر  سمجھا،  لوگوں کی معاشی  صورتحال  بھی انکے سامنے تھی اور ہے ، اسی  طرح  مرض کی سنگینی سے  بھی غافل  نہیں، مگر  ہمارے اوؤر سیز کے معاملات سے  ضرور  ہمارے حکمران  واقف نہیں  ،  بیرون ملک ملازمتوں  کی صورتحال ، بیرون ملک  کم تنخواہ والے  لوگو ں کی معاشی مشکلات جبکہ انکے ادارے  انہیں بے روزگار بھی کررہے ہیں  اور  تنخواہیں کم بھی کررہے ہیں  وزیر اعظم کے حکم پر  اوؤرسیز  پاکستانیوں سے  انکے مشیر سمندر پار پاکستانی  زلفی بخاری، اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  ویڈیو کانفرنسیں کررہے ہیں، دیگر ممالک کا علم نہیں مگر  سعودی عرب میں یہ کانفرنسین صرف انجمن ستائش  باہمی  محسوس ہورہی تھیں، جب بھی کمیونٹی کا سامنا  حکومتی  اعلی عہدیداروں، وزیر اعظم، یا وزراء سے ہوتا ہے تو  سفارت کاروں کی یہ ہی کوشش ہوتی ہے  انہیں ہی پیش کیا جائے  جو  یا تو اسوقت حکومت کے حامی ہوں یا    ”سب اچھا “کی رپورٹ دے سکیں یہ ہی ان دونوں کانفرنسوں میں ہوا ،  جنہیں شامل کیا گیا  ان میٰں  ستر فیصد  تحریک انصاف کے  عہدیدار تھے، اگر  اس طریقہ کار کو قبول بھی کرلیاجائے اور یہ مان بھی لیا جائے کہ  یہ کمیونٹی کے ممبران ہی تو ہیں   مگر وہ کچھ بات تو کریں۔ زلفی بخاری نے  از خود  سکولوں کی فیسوں میں کمی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا  (کوئی فیصلہ نہیں دیا ) دوسری جانب وزیر خارجہ  کی ویڈیو کانفرنس   تو بہت اچھی تھی، شاہ محمود قریشی  پرانے سیاست دان ہیں وہ  اسطرح کی کمیونٹی ملاقاتوں کا کئی مرتبہ سامنا کرچکے ہیں ، پاکستان کمیونٹی کے بے شمار مسائل سے  و ہ خود بھی آگاہ ہیں ، مگر سعودی عرب کی ویڈیو کانفرنس   پر انہیں کہنا پڑا  کہ  میں تو سمجھاتھا کہ بہت سے مسائل پر بات کرنا پڑے گی   مگر یہاں تو  سب اچھا ہے ۔  اسکولوں کی انتظامیہ بھی کمیونٹی کا حصہ ہیں، پاکستانی  سکولوں کی اکثریت  نے  فیسوں میں مالی بحران کی بناء پر  رعایت دی ہے،  ایک سکول نے  %25 ٰٖ  سے لیکر  100 % رعائت دینے کا اعلان کیا ہے  ایک سادے کاغذپر  بغیر کسی کے نام کے صرف SMC    چئیرمین  لکھا ہے،  مگر جو دستاویز مانگی ہیں،  فیس میں رعائت دینے کی   ان دستاویز میں اور امریکہ ویزہ لینے کی درخواست میں کوئی فرق نہیں نہائت ذاتی قسم کی معلومات یعنی  bank  statements     فیس میں رعائت لینے کے خواہش کرنے والوں سے مانگے ہیں۔  باقی اسکولوں کی انتطامیہ قابل تحسین ہیں کسی کی عزت نفس  کو نقصان نہیں پہنچایا کہ پہلے اپنے آپ کو  بھوکا پیٹ ظاہر کرو پھر رعائت ملے گی ، تمام اسکول  والدین  کے فیسوں سے چل رہے ہیں اور انہی فیسوں کی رقم سے اسکولوں کی تدریسی انتظامیہ کو  اعلی تنخواہیں اور مراعات بھی ملتی ہیں اسلئے جب ان فیسیں دینے والوں پر کڑا وقت آئے انکا خیال کرنا  جائز  اور ثواب کا کام ہے۔ بات ہورہی تھی  وزراء کے سامنے  مسائل کے سوال اٹھانے کی ،  اگر آئیندہ  ایسی کوئی ویڈیو کانفرنس ہو  یا  وزراء سے ملاقتیں تو PTI ہی کے یہاں کے عہدیداران (کیونکہ شائد اب یہ ریت چل پڑی ہے کہ  پی ٹی آی سے تعلق رکھنے والون کو  اہمیت دی جائے گی ) تو میرے پی ٹی آئی کے بھائی  جدہ کے پاکستانی اسکول عزیزیہ کا مندرجہ ذیل مسئلہ  تو ارباب اختیار کے  نوٹس میں لائیں تاکہ پانچ ہزار بچوں کے اس ادارے کا مستقبل محفوظ ہوسکے  واقع یوں ہے :1978ء میں،جدہ کے مئیر  نے سعودی عرب میں سفیر پاکستان کی تحریری درخواست کے جواب میں اسکول کی عمارت تعمیر کرنے کے لئے عزیزیہ میں اسکول کی تعمیر  کیلئے زمین الاٹ کی  1995 ء   تک سکول  سعودی حکومت کو کچھ بھی ادا نہ کرتے ہوئے  اس زمین  کو استعمال کرتا رہا  والے زمین کے اسی ٹکڑے کا استعمال کرتا رہا۔1995ء میں سعودی وزارت خزانہ نے  ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کا عندیہ دیا   جو  پاکستانی اسکول کی زمین کا کرایہ  طے کرسکے۔مگر  اسکول انتظامیہ  ( سفارت خانہ یا قونصل خانہ ) نے  پانچ سال تک اس کمیٹی کے متعلق  کوئی جواب نہیں دیا  اور خاموشی اختیار کئے رکھی۔ اسکول انتظامیہ کا جواب نہ آنے پر  سعودی وزارت خزانہ نے ایک لیز معاہدہ  سکول کو بھیجا  جسکے تحت   عزیزیہ اسکول نے چند سال  تک  سعودی وزارت خزانہ کے حکم پر کرایہ ادا کیا، سعودی وزار ت تعلیم نے  وہاں سعودی اسکول شروع کرنے کی غرض سے 2010 ء میں سعودی وزارت خزانہ نے  عزیزیہ سکول کو  عمارت خالی کرنے کا پہلا نوٹس بھیجا  ایک مرتبہ  سابقہ قونصل جنرل  جدہ نے  آفتاب کھوکر  نے گورنر مکہ المکرمہ  اور حکام سے درخواست کرکے  اس نوٹس پر عمل درآمد  کو متاخر کیا، سکول  سے کرایہ  بھی ادا کرنے اور  سکول کوخالی کرنے کو  کہا گیا۔، ایک مرتبہ سفیر پاکستان  راجہ علی اعجاز نے بھی سعودی وزیر تعلیم سے ملاقات کرکے اس موضوع پر  حمائت حاصل کی  اور اسکول کو مزید  وقت مل گیا ۔ سعودی وزارت تعلیم کے  اعلی عہدیداران  وقتا فوقتا  اسکول کے دورے کے دران  سکول انتظامیہ  سے استفسار کرتے ہیں کہ  سکول کو کب خالی کریں گے    فی الحال، PISJ عزیزیہ موجودہ عمارت کو خالی کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ لاکھوں ریال انفراسٹرکچر اور اسکول کی عمارت پر خرچ ہوچکا ہے۔ اس اسکول میں پانچ سے چھ ہزار کمیونٹی بچے زیر تعلیم ہیں۔ اگر   موجودہ عمارت سے منتقل کی گئی  تو، ان بچوں کے اہل خانہ کو بہت تکلیف ہوگی۔سفیر پاکستان نے گورنر مکہ المکرمہ سے سکول کی موجودہ  زمین کو خریدنے کی بات بھی کی  مگر  فیصلہ اسکول خالی کرانے کا ہے، سفیر پاکستان اپنی کوششیں کرچکے ہیں سعودی عرب پاکستان کا بہترین دوست ہے اگر  یہ معاملہ براہ راست وزیر اعظم پاکستان عمران خان یا وزیر خارجہ  براہ راست متعلقہ سعودی عرب کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ  اٹھائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ  پاکستانکی کی درخواست نہ مانا جائے ، چونکہ  کچھ دیگر ممالک کے سکولوں کے ساتھ  بھی یہ معاملہ تھا  مگر اعلی پیمانے پر  بات چیت کے بعد یہ  مسئلہ حل ہوگیا  اور انہیں طویل عرصے تک لیز مل گئی۔  یہ بات افسوسناک ہے کہ شنید ہے کہ یہ معاملہ سکول کی حالیہ  SMC     کے چئیرمین عامر  شہزاد  اور کمیونٹی   نے اس معاملے کو  پاکستان میں نہ صرف  وزیر اعظم، وزیر  خارجہ، وزیر تعلیم  سب  تک پہنچایا ہے مگر  وہاں اتنے اہم مسئلے پر  غور کرنے یا کاروائی کرنے کا  کسی کو ہوش نہیں جبکہ یہ مسئلہ آج کا نہیں۔ سالوں سے  ہے سابقہ حکومت کو  نااہل  کہا جاسکتا ہے مگر تحریک انصاف تو اپنے آپ کو  اہل  حکومت میں شمار کرتی ہے ۔ پھر اس پر توجہ  نہ دینا  ایک بڑا  سوالیہ نشان ہے۔ زمین میزبان  ملک کی ہے  اسکا فیصلہ کرنا انکا حق ہے  مگر کوشش کرنا  ہماری حکومت کا فرض ہے ۔