چار وعدہ معاف گواہوں نے شہباز شریف کے بیٹوں کی کاروباری چالاکی بے نقاب کردی

چار وعدہ معاف گواہوں نے شہباز شریف کے بیٹوں کی کاروباری چالاکی بے نقاب کردی۔وعدہ معاف گواہوں نے وہ تمام تفصیلات نیب کو فراہم کردی ہیں جو کروڑوں روپے سفید کرنے کے لیے استعمال کیے گۓ ۔مشتاق چینی نے سب سے اہم بیان دیا ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان میں تمام تفصیلات فراہم کی گئی ہیں مشتاق ولد کو سیکھنے کی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے اور وعدہ معاف گواہوں کی تعداد چار ہے جنہوں نے نیب کو حیران کن تفصیلات فراہم کی ہیں جن سے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں ان کے بیٹوں سلمان اور حمزہ کہ کاروباری معاملات اور کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور ان کی اہلیہ نصرت شہباز کے نام پر ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔ایک وعدہ معاف گواہ نے بتایا ہے کہ وہ رمضان شوگر مل سے چینی ڈیلر کے طور پر کام کرتے تھے ان سے کہا گیا کہ ان کے اکاؤنٹ میں رقم آئے گی اور وہ رقم کے بس ابھی چیک کاٹ کر دے دیں بینک الفلاح کا برانچ منیجر اور عملہ اس سلسلے میں تعاون کرتا رہا کبھی 30کروڑ اور کبھی 31کروڑ کے چیک سلمان شہباز کے حوالے کیے جاتے رہے جنہیں وہ چینی کے کاروبار کا لین دین اور اس سلسلے میں قرضہ حاصل کرنے کا موقف اختیار کرتے رہے ۔

یہ تفصیلات اب وعدہ معاف گواہوں کے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیانات کی صورت میں نیب کے ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں ۔اس حوالے سے پاکستان کے سینئر صحافی تجزیہ نگاروں خپل اثر نے اپنے ایک کلوگرام میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ نیب کے پاس کافی ٹھوس ثبوت ہاتھ لگ چکے ہیں لیکن یہ بات ماننی پڑے گی کہ شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز ٹی ٹی کے کام کے ماہر تھے اور انہیں کاروباری لین دین اور کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا بھرپور تجربہ تھا انہوں نے بہت خوبصورتی سے سارے کام کیے لیکن وعدہ معاف گواہوں نے ان کی ساری چالاکی بے نقاب کر دی ۔ایک وعدہ معاف گواہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت کرنے کے لیے کہا گیا جب سلمان شہباز کے والد پنجاب کے وزیر اعظم تھے اور ان کے بھائی نواز شریف ملک کے وزیر اعظم تھے لہذا کاروبار کرنے والے لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ رمضان شوگر مل کے انتظامیہ کو انکار کرتے یا انکی بات نہ مانتے ۔اس سلسلے میں کچھ خوف کا عنصر بھی تھا اور کچھ کاروباری لالچ بھی تھا کاروباری لالچ میں اس طرح کی باتیں مانیں اور اپنا اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا ۔نیب نے ان تمام بیانات کو شہباز شریف اور دیگر کے خلاف کیسز میں ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے ۔