چینی اسکینڈل میں وفاقی وزیر رزاق داؤد کو انکوائری کمیٹی کے سامنے کیوں نہیں بلایا گیا؟

اسد عمر اور بوزدار نے سوالات کے جواب دے دیئے
عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے سو ارب روپے سے زیادہ کے فنڈز ہڑپ کر جانے کے چینی اسکینڈل میں وفاقی وزیر اسد عمر اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہو جانے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر رزاق داود کو والی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لئے کیوں نہیں بلایا گیا اور حفیظ شیخ سے سوالات کیوں نہیں پوچھے گئے کیونکہ چینی کی قیمت ان دونوں کے دور میں بڑھی۔ جب کہ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے ابتدائی طور پر انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے صاف انکار کردیا ہے ۔ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیشی کے بعد اسد عمر نے پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار رئوف کلاسرا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے پوچھے گئے سوالات پر جواب دے دیے ہیں اپنے طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ انہیں معلوم تھا انہوں نے بتا دیا اور اصل مسئلہ سبسڈی اور ایکسپورٹ کا نہیں ہے بلکہ اس انٹر منسٹر کمیٹی کا ہے جس کا اجلاس چار مہینے تک نہیں بلایا گیا اس کمیٹی نے چار مہینے تک قیمت بڑھنے کے معاملے کو روکنے کے لیے کردار ادا نہیں کیا اسد عمر کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور دسمبر میں دو مرتبہ فیصلے کیے گئے تھے اور اپریل تک قیمت صرف پانچ روپے بڑی تھیں ان کے جانے کے بعد دو مہینوں میں قیمت زیادہ اضافہ ہوا اس وقت حفیظ شیخ اور رزاق داؤد کو صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے تھا رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اکتوبر 2018 تک اسد عمر شوگر مافیا کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے۔

اس لئے انہوں نے ان کے حق میں فیصلہ نہیں دیا تھا لیکن دسمبر2018 میں صورتحال بدل گئی اور صوبوں کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو فری ٹریڈ پر سبسڈی دے دی اور پھر شوگر مل مالکان نے صوبوں سے رعایت حاصل کرلی اور اپنا کام کرالیا ماضی میں بھی اسد عمر جب اینگرو میں تھے تو وہ اس طرح کے کارٹیل کے خلاف ڈٹ جاتے تھے اس مرتبہ بھی انہوں نے ایسی کوشش کی تھی اور بتایا جاتا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ ان کے اختلافات ہوئے تھے ہیلو ہیں ٹیسٹ بھی رکھتے ہیں کہ ان کو ہٹانے میں جہانگیرترین کا ہاتھ تھا جبکہ دوسرا داسو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر نے ہٹایا گیا تھا لیکن اب اسد عمر واپس آ چکے ہیں اور انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر انہوں نے پوچھے گئے سوالوں کا جواب بھی دے دیا ہے اسد عمر نے رؤف کلاسرہ سے کہا کہ اب ایف آئی اے کا کام ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کی تسلی ہوئی یا نہیں رؤف کلاسرا کے مطابق اسد عمر نے ان سے مسکراتے ہوئے شکایت بھی کی کہ آپ کی بھابھی رپورٹنگ سے خوش نہیں ہیں جس پر روف کلاسرا نے کہا کہ آپ میری بہن کو بتائے گا کہ یہ ہماری ڈیوٹی ہے ہمیں بھی اچھا نہیں لگتا خدا ہمیں میری اہلیہ بھی خوش نہیں ہے اور وہ روز کہتی ہیں کہ آپ روزانہ بیس نئے دشمن بنا کر گھر آ جاتے ہیں جو لوگ آپ کے دوست ہوتے ہیں وہ حکومت میں آنے کے بعد آپ اپنے دشمن بنا لیتے ہیں لوکل سونی کہاں کے صحافیوں کا کام ہی کچھ ایسا ہے کہ انہیں خبر چاھیے ہوتی ہے اور وہ جب خبر دیتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ناراض ہوجاتا ہے ۔ہیلو کلاسرا نے اپنے پروگرام میں سوال اٹھایا ہے کہ عبدالرزاق داؤد کو اب تک ایف آئی اے کمیٹی کے سامنے کیوں پیش ہونے کے لئے نہیں کہا گیا انہیں اور حفیظ شیخ صاحب کو بلا کر پوچھا جانا چاہیے کہ بھائی صاحب آپ کے دور میں جب قیمت بڑھ رہی تھی تو آپ نے کیا اقدامات کیے اور جو انٹر منسٹر کمیٹی بنائی گئی تھی اس کا کیا کام تھا اور اس نے کیا کام کیا ۔