خواجہ آصف کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ بنانے سے ایف آئی اے کا انکار

خواجہ آصف کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ بنانے سے ایف آئی اے کا انکار۔وزیراعظم کو بتا دیا گیا ہے کہ اب تک خواجہ آصف کے خلاف ایسا کوئی مواد سامنے نہیں آ سکا جس کی بنیاد پر ان کے خلاف دہشت گردی یا آرٹیکل 6 لگانے اور بغاوت کا مقدمہ بنایا جاسکے ۔پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ جتنے لوگ وزیراعظم کو ناپسند تھے اب تک تقریبا سب کے سب نیب اور ایف آئی اے کے ہاتھوں شکار ہوچکے ہیں سر خواجہ آصف بچے ہیں جن کے بارے میں نئے بر ایف آئی اے کچھ نہیں کر سکی خواجہ آصف نے ماضی میں بھی بہت تقریریں کی خاص طور پر ان کی ایک تقریر کچھ شرم کرو حیا کرو ۔پی ٹی آئی والے کبھی بھول نہیں سکتے یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کی پوری خواہش ہے کہ خواجہ آصف کے خلاف کچھ ایسا مواد ملے کے انہیں نیب یا ایف آئی اے کے ہاتھوں فکس کیا جاسکے لو کلاسرہ کے مطابق ایف آئی اے کے سابق سربراہ بشیر میمن ایک سندھی اور بااصول افسر تھے انہوں نے صاف منع کردیا کہ ایسا کوئی مقدمہ نہیں بن سکتا ۔لیکن حکومت کی آج بھی یہی خواہش ہے کہ کسی زہرہ خواجہ آصف کو فکس کیا جائے اب حکومت کو بتایا گیا ہے کہ دبئی کی حکومت سے ایسا کوئی مواد نہیں مل سکا جس کی بنیاد پر مقدمہ بنایا جاسکے دبئی والے اس حوالے سے کوئی تعاون نہیں کر رہے اور کوئی دستاویزات نہیں دے رہے ۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ماضی میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے نام بھی آئے تھے اور خواجہ آصف بھی اقامہ اور سترہ لاکھ دبئی میں نوکری کے عوض لیتے رہے ہیں اخلاقی طور پر ہوئی یا نہیں بننا چاہیے تھا اگر وہ قانونی طور پر کسی معاملے میں گرفت میں نہیں آتے تب بھی اخلاقی طور پر یہ ان کے لیے مناسب نہیں تھا ۔

رؤف کلاسرا نے وزیراعظم عمران خان کے بھائی تم اگر ساتھی شہزاد اکبر کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب کبھی حکومت پر دباؤ پڑتا ہے تو یہ لوگ اپوزیشن کے لوگوں کی کرپشن اور لوٹ مار کے قصے عوام کو سنانے کے لیے سامنے آ جاتے ہیں نئے میں ان کے کیسے اور انکوائریوں کا حوالہ دیتے ہیں لیکن دوسری طرف اسی نیب کے پر کاٹنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات بھی کرتے ہیں یعنی عوام کا دھیان بانٹنے کے لیے ضرورت پڑتی ہے الزامات لگا دیتے ہیں اور جب اپنا مفاد ہوتا ہے تو کوئی آئینی ترمیم کرانے کے لئے اسی اپوزیشن سے مذاکرات کرنے بیٹھ جاتے ہیں جس پر کرپشن کے الزامات ہیں ۔اس لیے عوام کو ان کو زیادہ سنجیدہ نہیں دینا چاہیے اسی طرح چلتا آیا ہے اسی طرح چلتا رہے گا ۔