وفاقی کابینہ کی خبریں میڈیا کو لیک کرنے والے وزیر اور معاون خصوصی کی نشاندہی ہوگئی ہے

وفاقی کابینہ کی خبریں میڈیا کو لیک کرنے والے وزیر اور معاون خصوصی کی نشاندہی ہوگئی ہے۔وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر علی زیدی اور دیگر وزراء نے شکایت کی تھی کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے اور یہاں ہونے والی گفتگو میڈیا کو لیک کی جارہی ہے اور ایسا کرنے والوں کو روکا جائے اس حوالے سے وفاقی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ ایک وزیر اور ایک معاون خصوصی کی نشاندہی ہوگئی ہے جو ایسا کر رہے تھے وفاقی وزیر کو سمجھا دیا گیا ہے جبکہ معاون خصوصی کو بھی آئندہ اس کام سے روک دیا گیا ہے پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار رؤف کلاسرا نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ میڈیا کو خبریں لیگ کرنے والے وزیر اور معاون خصوصی کی نشاندہی کرنے میں آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور وزیراعظم کے موجودہ معاون خصوصی برائے وزارت اطلاعات عاصم باجوہ نے اہم کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے پتہ لگا لیا ہے کہ اسلام آباد کے قریب رہنے والے ایک وفاقی وزیر اور ایک معاون خصوصی میڈیا کے لوگوں کو جو خبریں لے کر رہے تھے آئندہ ایسا نہیں کریں گے ان کو سمجھا دیا گیا ہے لہذا اب میڈیا تک وہ باتیں نہیں پہنچے گی جن کے حوالے سے وفاقی وزیروں کو شکایات ہیں لیکن رؤف کلاسرہ نے دعویٰ کیا کہ صحافیوں کا ہر دور میں یہی کام رہا ہے کہ اندر کی خبر باہر نکال کر لائیں اور ان کو اپنے ذرائع سے خبریں مل جاتی ہیں اب یہ خبر بھی ہمیں مل گئی ہے کہ کبھی نہ میں اس طرح کی بحث ہوئی اور علی زیدی نے یہ معاملہ اٹھایا اور یہ خبر بھی میڈیا تک پہنچ گئی ہے 9 کلاس میں نے کہا کہ حکمرانوں کو جب اپنے مفاد میں کوئی خبر لیگ کرنی ہوتی ہے تو وہ خود ایسا کر دیتے ہیں اور جب ان کے مفاد کے خلاف کوئی خبر آتی ہے تو وہ چیختے ہیں اسی خواہ ہوجاتے ہیں انہوں نے مثال دی کہ جب فردوس عاشق اعوان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ ہوا تو وہ وزیراعظم آفس سے ابھی گیٹ تک ہی پہنچی تھی کہ محفل فٹ ٹی وی چینلز پر ذرائع کے حوالے سے ان کے بارے میں خبریں چلنا شروع ہو گئی تھی وہ خبر خود حکمت کے لوگوں نے لیک کی تھی ۔