’’ہم………‘‘

فرخ سہیل گوئندی صاحب کا 5ستمبر2012 کو شائع ہونے والا ایک کالم

’’ہم………‘‘

ہم جبل الطارق کو عبور کر گئے اور سپین کو زیر کر لیا۔
ہم فرانس کی سرحدوں تک پائرینیزپہاڑوں تک پہنچ گئے۔
ہم یورپ کے دل آسٹریاکی فصیلوں تک پہنچ گئے۔
یہ جملے ہمارے ہاں (پاکستان میں) سیمیناروں، مذاکروں اور دانشوروں کی نجی محفلوں میں عام بولے جاتے ہیں اور بڑا سینہ تان کر بولے جاتے ہیں۔ چند سال قبل اردن کے دارالحکومت عمان میں ایک عالمی سمپوزیم میں شرکت کے دوران میرے ایک ہم وطن نے امریکی، یورپی اور آسٹریلوی شرکا کے ساتھ شام کی محفل میں ایسے ہی بیانات جاری کرنے شروع کیے تواس سمپوزیم میں شامل ہمارے ایک عرب دوست ولیدعمارنے میرے ہم وطن ساتھی کا فضا میں لہراتا ہوا بازو پکڑ کر کہا، ”مسٹر دوست محمد، تم نہیں ہم (عربوں) نے جبل الطارق عبور کیا، تاریخ کو مسخ نہ کرو۔“ ہمارے عرب ساتھی نے مزید کہا کہ ”تم ہندی مسلمان کیسے یہ کریڈٹ لے رہے ہو، تاریخ کا کریڈٹ نہ بدلو۔“ اس نے ابھی یہ جملہ ختم ہی کیا تھا کہ ترک دوست محمت دعوت کہہ اٹھا، ” ویانا کی فصیلوں تک ترک، سلیمان عالی شان کی قیادت میں پہنچے تھے، یہ تم کہاں سے آ گئے۔ سلیمان کی افواج ترک سپاہیوں پر مشتمل تھیں، تمہارے خطے سے تو کوئی ایک سپاہی بھی ان دستوں میں شامل نہیں تھا۔ ہاں تمہارے ہم وطن مسلمان گیلی پولی (درۂ دانیال) میں ،برطانیہ، فرانس، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی اتحادی افواج میں شامل ہو کر حملہ آور ہوئے تھے جن کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی اور جنہوں نے مصر میں ترکی کے خلاف جنگ کے لیے تربیت حاصل کی تھی، ان کی قبریں گیلی پولی کے میدانِ جنگ میں موجود ہیں۔ پھر تمہارے ہی سپاہیوں نے 1915ءمیں جنگ الکوت (عراق) میں عثمانی فوجوں کے گھیرے میں آئی برطانوی افواج کو پسپائی سے بچایا اور عرب خطوں میں تمہارے سپاہیوں نے سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تم ویانا کی فصیلوں تک پہنچنے کے دعوے دار کیسے ہو رہے ہو۔ ہاں دوست محمد یہ بھی تو کہو کہ تم نے بھارت کے ہاتھوں 1971ءمیں ایک تاریخی شکست حاصل کی اور بہ حیثیت قوم تم لوگ اپنے وطن کے ایک بازو کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں ناکام رہے۔“
محمت اب بولے چلا جا رہا تھا اور میرا ہم وطن ساتھی سکتے کے عالم میں تھا۔ مغرب کی دنیا سے تعلق رکھنے والے سمپوزیم کے دیگر ساتھی اس بحث کو خاموشی سے سنے جا رہے تھے۔ محمت نے کہا کہ ”ہم ترک ہیں، ہمیں قبرص کا مسئلہ حل کرنا آتا ہے۔ جاﺅ تاریخ کا مطالعہ کرو ، ہم نے قبرص کو کشمیر بننے نہیں دیا۔ 1974ءمیں ہم نے یورپ کے ایک اہم ملک اور اپنے پڑوسی (یونان) کو باور کروا دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ یاد رکھو کہ ہم تاریخ میں ہی محو نہیں رہے بلکہ ہمیں حال میں زندہ رہنا بھی آتا ہے۔“
بحث ایک دلچسپ رخ اختیار کر چکی تھی۔ ولیدعمار (عرب دوست) مسکراتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا، ”مسٹر فرخ اگر تم اس پس منظر کے بارے میں کوئی بات کرنا چاہتے ہو تو بولو۔“ لیکن میں ان تاریخی حقائق کے بعد کیا بول سکتا تھا۔ وہ تو خیر ہو ہمارے ایک دوسرے ساتھی جمال نکرومہ کی (معروف افریقی رہنما نکرومہ کا بیٹا) کہ اس نے کہا کہ ”ہم پاکستان کے بڑے ممنون ہیں کہ اس نے افریقی آزادی کی تحریکوں میں شان دار کردار ادا کیا ہے۔“ ابھی بات ختم ہونے کو تھی کہ حنان الوزیر (معروف فلسطینی مجاہد ابو جہاد کی بیٹی) بول اٹھی، ”مسٹر دوست محمد، کیا میں آپ کو یاد دلاﺅں کہ اسی شہر(عمان) کی گلیوں میں بیس ہزار فلسطینیوں کا قتل عام کس کی سربراہی میں ہوا، کس فوجی دستے نے کامیاب فلسطینی بغاوت کو کچل ڈالا جو کہ اسرائیل کے خلاف ایک حتمی جنگ میں تقریباً کامیابی حاصل کر چکی تھی، تاریخ میں جسے “Black September” کا نام دیا گیا ہے۔“ حنان الوزیر ایک خوب صورت اور خوش گفتار فلسطینی ساتھی تھیں، انہوں نے کہا کہ میرے پاکستانی دوست اگر آپ کو یاد نہیں تو میں یاد دہانی کروا دوں کہ اس کامیاب فلسطینی بغاوت کو پاکستان کے بریگیڈئیر ضیاالحق (بعد میں جنرل ضیاالحق) کی قیادت میں کچلا گیا اور پھر فلسطینیوں کو کبھی کوئی ملٹری بیس ہی میسر نہ ہو سکی۔ عمان کی گلیاں فلسطینی خون سے رنگ گئیں اور فلسطینی، لبنان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ پھر 1982ءمیں اسرائیلیوں نے یاسر عرفات اور جارج حباش سمیت فلسطینیوں کو لبنان بھی چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور یوں جدوجہد آزادیٔ فلسطین کو برباد کر دیا گیا۔ ان فلسطینیوں کے لیے زمین تنگ کر دی تھی جو اردن سے بچ کر لبنان پہنچے، اور جب ان چودہ ہزار فلسطینیوں کو لبنان سے نکالا گیا تو اس کے بعد جنگ آزادی فلسطین ویسی اٹھان حاصل ہی نہ کر پائی جس کی بربادی کا آغاز “Black September” سے کیا گیا تھا۔
مجھے عالمی فورم پر لاتعداد مرتبہ اپنے وطن کا مقدمہ لڑتے ہوئے لاجواب ہونا پڑا ہے اور کبھی کبھی تو دل چاہا کہ میرے سامنے جو حقائق رکھے جا رہے ہیں، کاش انہیں سننے سے پہلے مجھے زمین ہی نگل جاتی تو بہتر تھا۔ ایک مرتبہ سان فرانسسکو ، امریکہ کے ایک عظیم الشان ہوٹل میں سٹیٹ آف دی ورلڈ فورم جیسے عالمی سطح پر معتبر سمپوزیم میں، میں کشمیر میں بھارت کی فوج کشی کے خلاف بول رہا تھا کہ ہماری ایک بنگلہ دیشی بہن نسرین میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور اس نے کہا، ”شٹ اپ، اب یہ بھی بتاﺅ کہ تم نے بنگال میں کیا کیا۔“ اس کے بعد نسرین نے میرے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے کہا کہ کاش میں پورا بدلہ لینے کے قابل ہوتی، لیکن ابھی یہی کافی ہے۔
میرے پاس جواب میں نہ الفاظ تھے نہ ہی دلائل۔میں نے سب کے سامنے کہا کہ ”مجھے اس برتاﺅ پر شرمندگی ہے جس کی وجہ سے میری بنگالی بہن نسرین کے اندر جائز انتقام کا جذبہ بھڑک رہا ہے۔ اور اپنی بہن نسرین کی وساطت سے میں اپنی قوم کی طرف سے اس المناک کردار کے حوالے سے معافی کا خواستگار ہوں۔“ اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا سر ندامت کے ساتھ جھکا دیا۔ تب میرا احساس یقین میں بدل گیا کہ ہم (پاکستانی) اپنی تاریخ کے اسی طرح وارث ہیں جیسے ہم اپنے وطن کے مالک ہیں، ہمارا دعویٰ اپنے اعمال، کرتوت، تاریخ، حال اور مستقبل پر ہونا چاہیے۔دوسروں کے کریڈٹ کو اپنا کریڈٹ نہ بنائیں اور اپنے ڈس کریڈٹ کو تسلیم کریں۔فرخ سہیل گوئندی صاحب کا 5ستمبر2012 کو شائع ہونے والا ایک کالم
’’ہم………‘‘
ہم جبل الطارق کو عبور کر گئے اور سپین کو زیر کر لیا۔
ہم فرانس کی سرحدوں تک پائرینیزپہاڑوں تک پہنچ گئے۔
ہم یورپ کے دل آسٹریاکی فصیلوں تک پہنچ گئے۔
یہ جملے ہمارے ہاں (پاکستان میں) سیمیناروں، مذاکروں اور دانشوروں کی نجی محفلوں میں عام بولے جاتے ہیں اور بڑا سینہ تان کر بولے جاتے ہیں۔ چند سال قبل اردن کے دارالحکومت عمان میں ایک عالمی سمپوزیم میں شرکت کے دوران میرے ایک ہم وطن نے امریکی، یورپی اور آسٹریلوی شرکا کے ساتھ شام کی محفل میں ایسے ہی بیانات جاری کرنے شروع کیے تواس سمپوزیم میں شامل ہمارے ایک عرب دوست ولیدعمارنے میرے ہم وطن ساتھی کا فضا میں لہراتا ہوا بازو پکڑ کر کہا، ”مسٹر دوست محمد، تم نہیں ہم (عربوں) نے جبل الطارق عبور کیا، تاریخ کو مسخ نہ کرو۔“ ہمارے عرب ساتھی نے مزید کہا کہ ”تم ہندی مسلمان کیسے یہ کریڈٹ لے رہے ہو، تاریخ کا کریڈٹ نہ بدلو۔“ اس نے ابھی یہ جملہ ختم ہی کیا تھا کہ ترک دوست محمت دعوت کہہ اٹھا، ” ویانا کی فصیلوں تک ترک، سلیمان عالی شان کی قیادت میں پہنچے تھے، یہ تم کہاں سے آ گئے۔ سلیمان کی افواج ترک سپاہیوں پر مشتمل تھیں، تمہارے خطے سے تو کوئی ایک سپاہی بھی ان دستوں میں شامل نہیں تھا۔ ہاں تمہارے ہم وطن مسلمان گیلی پولی (درۂ دانیال) میں ،برطانیہ، فرانس، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی اتحادی افواج میں شامل ہو کر حملہ آور ہوئے تھے جن کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی اور جنہوں نے مصر میں ترکی کے خلاف جنگ کے لیے تربیت حاصل کی تھی، ان کی قبریں گیلی پولی کے میدانِ جنگ میں موجود ہیں۔ پھر تمہارے ہی سپاہیوں نے 1915ءمیں جنگ الکوت (عراق) میں عثمانی فوجوں کے گھیرے میں آئی برطانوی افواج کو پسپائی سے بچایا اور عرب خطوں میں تمہارے سپاہیوں نے سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تم ویانا کی فصیلوں تک پہنچنے کے دعوے دار کیسے ہو رہے ہو۔ ہاں دوست محمد یہ بھی تو کہو کہ تم نے بھارت کے ہاتھوں 1971ءمیں ایک تاریخی شکست حاصل کی اور بہ حیثیت قوم تم لوگ اپنے وطن کے ایک بازو کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں ناکام رہے۔“
محمت اب بولے چلا جا رہا تھا اور میرا ہم وطن ساتھی سکتے کے عالم میں تھا۔ مغرب کی دنیا سے تعلق رکھنے والے سمپوزیم کے دیگر ساتھی اس بحث کو خاموشی سے سنے جا رہے تھے۔ محمت نے کہا کہ ”ہم ترک ہیں، ہمیں قبرص کا مسئلہ حل کرنا آتا ہے۔ جاﺅ تاریخ کا مطالعہ کرو ، ہم نے قبرص کو کشمیر بننے نہیں دیا۔ 1974ءمیں ہم نے یورپ کے ایک اہم ملک اور اپنے پڑوسی (یونان) کو باور کروا دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ یاد رکھو کہ ہم تاریخ میں ہی محو نہیں رہے بلکہ ہمیں حال میں زندہ رہنا بھی آتا ہے۔“
بحث ایک دلچسپ رخ اختیار کر چکی تھی۔ ولیدعمار (عرب دوست) مسکراتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا، ”مسٹر فرخ اگر تم اس پس منظر کے بارے میں کوئی بات کرنا چاہتے ہو تو بولو۔“ لیکن میں ان تاریخی حقائق کے بعد کیا بول سکتا تھا۔ وہ تو خیر ہو ہمارے ایک دوسرے ساتھی جمال نکرومہ کی (معروف افریقی رہنما نکرومہ کا بیٹا) کہ اس نے کہا کہ ”ہم پاکستان کے بڑے ممنون ہیں کہ اس نے افریقی آزادی کی تحریکوں میں شان دار کردار ادا کیا ہے۔“ ابھی بات ختم ہونے کو تھی کہ حنان الوزیر (معروف فلسطینی مجاہد ابو جہاد کی بیٹی) بول اٹھی، ”مسٹر دوست محمد، کیا میں آپ کو یاد دلاﺅں کہ اسی شہر(عمان) کی گلیوں میں بیس ہزار فلسطینیوں کا قتل عام کس کی سربراہی میں ہوا، کس فوجی دستے نے کامیاب فلسطینی بغاوت کو کچل ڈالا جو کہ اسرائیل کے خلاف ایک حتمی جنگ میں تقریباً کامیابی حاصل کر چکی تھی، تاریخ میں جسے “Black September” کا نام دیا گیا ہے۔“ حنان الوزیر ایک خوب صورت اور خوش گفتار فلسطینی ساتھی تھیں، انہوں نے کہا کہ میرے پاکستانی دوست اگر آپ کو یاد نہیں تو میں یاد دہانی کروا دوں کہ اس کامیاب فلسطینی بغاوت کو پاکستان کے بریگیڈئیر ضیاالحق (بعد میں جنرل ضیاالحق) کی قیادت میں کچلا گیا اور پھر فلسطینیوں کو کبھی کوئی ملٹری بیس ہی میسر نہ ہو سکی۔ عمان کی گلیاں فلسطینی خون سے رنگ گئیں اور فلسطینی، لبنان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ پھر 1982ءمیں اسرائیلیوں نے یاسر عرفات اور جارج حباش سمیت فلسطینیوں کو لبنان بھی چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور یوں جدوجہد آزادیٔ فلسطین کو برباد کر دیا گیا۔ ان فلسطینیوں کے لیے زمین تنگ کر دی تھی جو اردن سے بچ کر لبنان پہنچے، اور جب ان چودہ ہزار فلسطینیوں کو لبنان سے نکالا گیا تو اس کے بعد جنگ آزادی فلسطین ویسی اٹھان حاصل ہی نہ کر پائی جس کی بربادی کا آغاز “Black September” سے کیا گیا تھا۔
مجھے عالمی فورم پر لاتعداد مرتبہ اپنے وطن کا مقدمہ لڑتے ہوئے لاجواب ہونا پڑا ہے اور کبھی کبھی تو دل چاہا کہ میرے سامنے جو حقائق رکھے جا رہے ہیں، کاش انہیں سننے سے پہلے مجھے زمین ہی نگل جاتی تو بہتر تھا۔ ایک مرتبہ سان فرانسسکو ، امریکہ کے ایک عظیم الشان ہوٹل میں سٹیٹ آف دی ورلڈ فورم جیسے عالمی سطح پر معتبر سمپوزیم میں، میں کشمیر میں بھارت کی فوج کشی کے خلاف بول رہا تھا کہ ہماری ایک بنگلہ دیشی بہن نسرین میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور اس نے کہا، ”شٹ اپ، اب یہ بھی بتاﺅ کہ تم نے بنگال میں کیا کیا۔“ اس کے بعد نسرین نے میرے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے کہا کہ کاش میں پورا بدلہ لینے کے قابل ہوتی، لیکن ابھی یہی کافی ہے۔
میرے پاس جواب میں نہ الفاظ تھے نہ ہی دلائل۔میں نے سب کے سامنے کہا کہ ”مجھے اس برتاﺅ پر شرمندگی ہے جس کی وجہ سے میری بنگالی بہن نسرین کے اندر جائز انتقام کا جذبہ بھڑک رہا ہے۔ اور اپنی بہن نسرین کی وساطت سے میں اپنی قوم کی طرف سے اس المناک کردار کے حوالے سے معافی کا خواستگار ہوں۔“ اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا سر ندامت کے ساتھ جھکا دیا۔ تب میرا احساس یقین میں بدل گیا کہ ہم (پاکستانی) اپنی تاریخ کے اسی طرح وارث ہیں جیسے ہم اپنے وطن کے مالک ہیں، ہمارا دعویٰ اپنے اعمال، کرتوت، تاریخ، حال اور مستقبل پر ہونا چاہیے۔دوسروں کے کریڈٹ کو اپنا کریڈٹ نہ بنائیں اور اپنے ڈس کریڈٹ کو تسلیم کریں۔

With thanks of Farouq sohil goindi