صوبائی وزیر اطلاعات ، بلدیات ، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، مذہبی امور ، جنگلات اور وائلڈ لائف سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ترجمانوں نے بے معنی اور بیکار باتیں کرنی شروع کی ہوئی ہیں

صوبائی وزیر اطلاعات ، بلدیات ، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، مذہبی امور ، جنگلات اور وائلڈ لائف سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ترجمانوں نے بے معنی اور بیکار باتیں کرنی شروع کی ہوئی ہیں جب وہ سامنے ہو تے ہیں تو کچھ اور بات کرتے ہیں لیکن جب بعد میں بیان دیتے ہیں تو کچھ اور بات کرتے ہیں ان کا مقصد صرف اور صرف انتشار پھیلا نا ہے۔ انہوں نے یہ بات میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں ٹائگر فورس کے نام پر اعتراض اب بھی ہے لیکن پھر بھی چیف سیکریٹری سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ اس کو سہولت فراہم کریں ہم چاہتے ہیں کہ وہ آ ئیں اور اپنا کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ ہم وزیر اعظم کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ان سے سندھ حکومت کی تعریف ہضم نہیں ہوئی اور تمام وفاقی وزراء اور مشیروں نے ایک الزام تراشی اور کردار کشی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ان میں فرق صرف اور صرف شعور اور شور کا ہے ان کا کام صرف شور مچانا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ عوام اس بات کا فیصلہ کرے کہ ہم کس طرح شروع سے ان کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں اور یہ فضول الزام تراشیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کا روزانہ عوام کو اعتماد میں لینا بھی ان کو پسند نہیں آ یا اور یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعلی سندھ روز خبریں پڑہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ملک کے دیگر صوبوں بشمول کے پی اور پنجاب میں کچھ یو سیز سیل کی گئیں لیکن جب سندھ میں اس طرح ہوا تو ہر طرف سے سندھ حکومت پر تنقید شروع کردی گئی۔ ایک وزیر موصوف نے کہا کہ ہمارے پاس بالائی سندھ میں کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ حالانکہ بالائی سندھ میں چار اسپتال اور چار لیبارٹریز کام کر رہی تھیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پھر صحت کے شعبے پر تنقید شروع کر دی گئی حالانکہ صحت کی وزیر عذرا پیچوہو بہت کام کررہی ہیں اور ان کے بعد سے اس شعبہ میں بہت بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چھ ہزار سے زائد ٹیسٹ کررہے ہیں اور اس وقت ہمارے پاس کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے بارہ ہزار بیڈ کی سہولت مختلف اسپتالوں میں مجموعی طور پر موجود ہے۔ جو کہ چند دن میں بیس ہزار تک پہنچ جائے گی۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے تقریباً 280سے زائد وینٹیلیٹر بھی مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 200 وینٹیلیٹر امپورٹ بھی کررہے ہیں جن میں سے 100 پہنچے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے NDMA کے ذریعے کچھ سپورٹ فراہم کی تھی جس کا بڑا ڈھنڈھورا پیٹا گیا۔ اور جس طرح وہ دعویٰ کررہے ہیں ایسا نہیں کہ جیساکہ کہا گیا کہ ہم نے لیبارٹری بناکر دی ایسا نہیں ہے۔ وینٹیلیٹر ابھی تک ایک بھی نہیں ملا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سپورٹ کی جائے گی لیکن یہ جو تناؤ کی کیفیت بنا دی جاتی ہے یہ مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم صاحب لیڈ کریں اور اونر شپ لیں لیکن کبھی وہ لاک ڈاؤن کی تعریف کرتے ہیں تو کبھی بلا سوچے سمجھے اس کو کھولنے کی بات کرتے ہیں۔کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ صوبے اپنی پالیسی خود بنائیں حالانکہ چیف جسٹس کے واضح احکامات ہیں کہ پورے ملک میں ایک پالیسی بنائی جائے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب اتفاق رائے سے 31 مئی تک لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہوگیا تھا تو بعد مختلف چیزیں کھولنے کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے جو کہ بلا سوچے سمجھے بغیر منصوبے اور اتفاق رائے کے کردیا گیا۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعظم صاحب اونرشپ لیں اور لیڈ کریں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں ہم ان کے ساتھ مل کر چلیں گے