احتساب کرو نا

احتساب کرو نا
اے حق – لندن
اہل عرب کا خالق کا تصور اس قدر غلط اور دھندلا تھا کہ لوگ پتھر، درخت، مٹی، سورج، چاند اور ستاروں ہی کی پرستش نہیں کرتے تھے بلکہ کھانے پینے کی چیزوں مثلاً مٹھائی اور پنیر وغیرہ سے بھی اپنے ہاتھ سے بت بناتے، ان کی پوجا کرتے اور جب بھوک لگتی تو انہیں کھا لیتے۔ ہمارے ہاں یہی سب کچھ احتساب کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ سیاست دان اقتدار حاصل کرنے کے مرحلے میں ہوتے ہیں تو درخت، مٹی، سورج، چاند، ستاروں، مٹھائی اور پنیر ہر چیز سے احتساب کے چھوٹے بڑے بت بنا لیتے ہیں۔ احتساب کا اتنا ذکر کرتے ہیں اتنا ذکرکرتے ہیں کہ بولنا پڑتا ہے
بولے وہ بوسہ ہائے پیہم پر
ارے کم بخت کچھ حساب بھی ہے
لیکن اقتدار میں آتے ہیں تو ان بتوں کو توڑنے اور مٹھائی اور پنیر کی طرح کھانے میں ذرا پس وپیش سے کام نہیں لیتے۔ پاکستان کے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد احتساب کے نعرے لگنے شروع ہوگئے تھے۔ احتساب کے عمل کی جو خدمت نیب نے کی اور احتساب کے حوالے سے جو شہرت نیب کو حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ نیب کا تصور جنرل پرویز مشرف نے اقبال سے لیا تھا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال صرف پاکستان کے تصور کے خالق نہیں تھے نیب کا تصور بھی ان کی دین ہے۔ اقبال کے بعض شارحین کے مطابق اقبال نے درج ذیل شعر میں نیب کے قیام کا مشورہ دیا ہے:
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب
ایک ویڈیو سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ چیئرمین نیب احتساب دل وجان سے کرتے ہیں۔ حکومت وقت سے چونکہ ان کا دل وجان کا تعلق ہے لہٰذا وہ احتساب کے ڈنڈے کا رخ اس طرف نہیں کرتے۔ میرتقی میر نے لکھنؤ کے سفر میں ہم سفر سے اس لیے بات نہیں کی تھی کہ زبان بگڑتی ہے۔ حکومت وقت کے معاملے میں چیئرمین نیب کے احتساب کی بھی زبان بگڑنے لگتی ہے۔ چیئرمین صاحب نے ایک موقع پر کہا تھا کہ انہوں نے مگر مچھوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا وہ کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ انہوں نے شیروں کے منہ سے نوالہ چھین لیا۔ مگر مچھوں کے منہ سے چھینے ہوں یا شیروں کے منہ سے بہرحال حرام خوری کے نوالے چھیننے پر ان کی تعریف تو بنتی ہے لیکن اس بات کی تعریف نہیں کی جاسکتی کہ انہیں سارے مگر مچھ اور شیر اپوزیشن ہی میں نظر آتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے ایک مرتبہ رسالہ منادی میں یہ معافی نامہ شائع کروایا تھا کہ میں مولوی اشرف علی تھانوی سے اس بات کی معافی مانگتا ہوں کہ میں نے بہشتی زیور پر فحش نگاری کی تہمت رکھی تھی مگر میں اپنی اس رائے کے لیے معافی نہیں مانگ سکتا کہ انہیں اردو لکھنی نہیں آتی۔
بات شروع ہوئی تھی احتساب کا بت بنا کر اسے کھا جانے سے۔ چینی اور آٹا مافیا کی کرپشن کا بڑا سا بت بنا کر اب جس طرح اسے ہضم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں یہ بات اس حوالے سے یاد آئی تھی۔ ایک وقت تھا وزیراعظم عمران خان احتساب اور انصاف کے سب سے بڑے علم بردار تھے۔ اس زمانے کا ان کا جوش اور ولولہ دیکھیں تو امید بندھتی تھی کہ اقتدار میں آتے ہی وہ چوروں اور ڈاکوئوں کے ساتھ وہی کچھ کریں گے ’’گربہ کشتن روزاول‘‘ میں جس کی تلقین کی گئی ہے۔ یعنی پہلے دن ہی بلی مار دینا۔ یہ تلقین نو بیاہتا جوڑوں کو پہلی رات کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم نے آتے ہی بلی تو ماری لیکن سلیکٹ کرکے۔ چن چن کے۔ اپوزیشن خصوصاً ن لیگ کی۔ اور وہ بھی اس خام طریقے سے ایک مقدمہ بھی ثابت نہ کرسکے۔ یکے بعد دیگرے سب ہی باہر آگئے۔
خیر سے چینی اور آٹا مافیا کا اسکینڈل سامنے آیا۔ وزیراعظم نے اس پر جس سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا اس سے امید بندھی کہ اس مرتبہ تو وہ بلی مارکر ہی دم لیں گے۔ وزیراعظم کی پہلی خوبی یہ بیان کی گئی کہ رپورٹ انہوں نے خود پبلک کی ہے۔ دوسری یہ کہ اپنے قریب ترین رفقا کے خلاف کاروائی کرنے میں بھی تساہل سے کام نہیں لیا۔ جہانگیر ترین فارغ، عبدالرزاق دائود کی دو عہدوں سے چھٹی، وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ مستعفی۔ تین سرکاری افسر ہٹادیے گئے، مشیر اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب بھی فارغ۔ خسرو بختیار کو نیشنل فوڈ سیکورٹی کی وزارت سے فارغ کرکے اقتصادی امور کا وزیر بناکر نشانہ عبرت بنادیا گیا۔ ایک شیخ نے گھر کی چاردیواری میں پلے کبوتروں پر پلٹنے جھپٹنے کی ٹریننگ دے کر ایک باز کو شکار کے لیے تیار کیا۔ جب ٹریننگ مکمل ہوگئی تو شیخ باز کو صحرا میں لے گیا اور تلوروں پر چھوڑ دیا۔ مگر باز تلوروں پر جھپٹنے کے بجائے سیدھا گھر گیا۔ ایک کبوتر پر جھپٹا اور لاکر شیخ کی خدمت میں پیش کردیا۔ باز تو ایک کبوتر پر ہی جھپٹا تھا عمران خان نے گھر کے پلے کبوتروں کا ڈھیر لگا دیا۔ دیگر وزیر مشیر بھی اسکینڈل میں ملوث اپنے ہی رفقا کے خلاف میدان میں آگئے۔ شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ اب سب اندر جائیں گے۔ خان کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی تو اسے فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب خبرآئی ہے کہ آٹا چینی اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں شامل ایف آئی اے کے دو افسران کو کورونا ہو گیا۔ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔
ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین، وفاقی وزیرخسرو بختیار کے بھائی اور حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے اٹھایا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ رپورٹ کی فرانزک سامنے آنے کے بعد ذمے داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انکوائری کمیشن کو 25اپریل کو فرانزک رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنی تھی۔ 25اپریل کو کمیشن نے مزید دو ہفتوں کی مہلت مانگ لی، جو اسے بخوشی دے دی گئی۔ 9مئی کو یہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جانی تھی لیکن پتا چلا کہ کمیشن کے دو افراد کو کورونا ہو گیا۔ وہ یقینا قرنطینہ میں چلے گئے ہوں گے۔ اب تحقیقات کون کرے گا۔ وہ کب قرنطینہ سے باہر آئیں گے۔ کب رپورٹ پر ازسر نو غورکریں گے۔ کب وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ کب وزیراعظم اس پر ایکشن لیں گے۔ یہ غیب کے معاملات ہیں جن کے بارے میںکچھ نہیں کہا جاسکتا۔
چینی کے ساتھ ساتھ آٹے کے اسکینڈل کا بھی ذکر تھا جو اتنا واضح تھا کہ اس میں ملوث لوگوں کے خلاف تو اب تک کاروائی ہو جانی چاہیے تھی۔ آئی پی پیز اسکینڈل کے بارے میں صدر صاحب نے جس زبان میں سنگینی کا احساس دلایا تھا وہ ان کی تربیت کی تو عکاس تھی ہی لیکن سنگینی کا بھی برملا اعتراف تھا۔ اس کا کیا ہوا۔ کہا گیا کہ آئی پی پیز کے معاملے میں بین الاقوامی گارنٹیاں دی گئی ہیں معاملہ عالمی عدالت انصاف تک پہنچ جائے گا۔ ان سے ازسرنو بات چیت تو کی جاسکتی ہے لیکن کوئی کاروائی۔ توبہ کیجیے۔ چینی اسکینڈل کی جو تحقیقات لیک ہوئی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں مثلاً جہانگیر ترین کو ملوث قراردیا جارہا تھا ان کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے۔ سوال یہ ہے کہ پھر دو مہینے سے برپا اس طوفان کو کس کھاتے میں ڈالا جائے کہ ایک مرتبہ کمیٹی نے وزیراعظم کو رپورٹ دی، مزید تحقیق کے لیے رپورٹ واپس کی گئی۔ رپورٹ پھر پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے اسے پریس میں لیک کیا۔ کرپشن میں ملوث افراد کو ٹارگٹ کیا گیا۔ پھر اپنے بندوں کے ذریعے انہیں بدنام کرایا۔ منسٹرز نے ٹوئٹس شروع کردیے کہ جہانگیر ترین کو ہم نے نکال دیا یہ کردیا وہ کردیا۔ باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ چینی اور آٹے سے ایک بت بنایا گیا۔ اب اس بت کو کھانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔