ایچ ای سی کی جانب سے آن لائن کلاسز کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ۔ طلباء تنظیمں

پشتونخوا ایس او ,بی ایس او، پشتون ایس ایف، بی ایس او پجار، ایس ایس ایف اور بی سیک کا مشترکہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس میں ایچ ای سی کی جانب سے آن لائن کلاسز کے اجراء پر تمام طلبہ تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کرونا وائرس کی وجہ سے دیگر امور زندگی کی طرح تعلیمی لاک ڈاؤن بھی اگر چہ ایک لازمی امر ہے مگر حکومت اور تعلیمی ادارے اس کے نتیجے میں طلباء کو درپیش مسائل کو زیر غور لاکر مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں. ان سنگین حالات سے نمٹنے کیلئے دنیا کی تمام تر


ریاستیں کوئی ٹھوس، واضح اور موثر طریقہ کار مرتب کرنے میں ناکام ہی نظر آرہی ہیں. اور ایک ایسا ملک جہاں ایک چوتھائی لوگ انٹرنیٹ تک پہنچ رکھتے ہیں وہاں مغرب کی طرز پر پالیسیاں مرتب کرنا خطرناک نتائج دے سکتی ہیں. جبکہ ملک کے سب سے غریب صوبے میں جہاں دو تہائی آبادی خط غربت سے نیچھے زندگی گزار رہی ہے وہاں یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسز کا اہتمام کرنا ایک ناممکن سی کاوش ہے. صوبے کی آبادی کی تناسب سے بہتر فیصدی لوگ دیہاتوں میں رہتے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات تو درکنار، زندگی گزارنے کے بنیادی سہولیات ہی سے لوگ محروم ہیں. گزشتہ کئی عرصہ سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی کے نام پہ انٹرنیٹ کی سہولت بندش کی شکار ہے اور کئی اضلاع میں انٹرنیٹ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں. ایک جانب صوبے کا تباہ حال اور جنگ زدہ انفراسٹکچر آن لائن کلاسیں منعقد کرنے کی سقط نہیں رکھتا تو دوسری جانب موجودہ عالمی وبا کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں کی جانب سے یہ قدم اٹھانا غریب طلباء کو تعلیم سے مزید دور کردے گی. اس سنگین صورتحال میں ملک کے تعلیمی نظام کے کرتا دھرتا خواب خرگوش کی نیند سوتے رہے جبکہ اب ایک ہفتے کی مہلت میں یونیورسٹیوں سے زمینی حقائق جانے بغیر پالیسی مرتب کروانے کی ڈیمانڈ کی جارہی ہے. ان حالات میں طلباء کے مسائل کو سمجھے بغیر فیصلے کرنا قطعی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہے. لاک ڈاؤن کے مشکل انتظامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جس سے طلباء کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے.