یادوں کے جھروکوں سے

یادوں کے جھروکوں سے

عابد حسین قریشی

(5)

پہلا پڑاؤ اوکاڑہ

یہ نیا شہر یہ روشن راہیں
اپنا آغازِ سفر یاد آیا

اوکاڑہ میں پوسٹنگ کا آرڈر جولائی کے پہلے ہفتہ میں عدالت عالیہ کے ایک نہایت باوقار، با اُصول اور ایک اچھے منتظم رجسٹرار مرحوم شیخ عبدالوحید کے دستخطوں سے جاری ہوا۔ وہ بعد ازاں عدالت عالیہ کے جسٹس کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ اُس وقت لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مرحوم شمیم حسین قادری تھے۔

6 جولائی 1982 سیالکوٹ سے اوکاڑہ کا سفر شدید گرمی مگر نئی سروس کا اشتیاق، ایک نئی اُمنگ، ترنگ، جذبہ اور لگن دیدنی۔ بڑے حسین خواب اور سروس سٹرکچر کا نہایت دلکش نقشہ۔ کشاں کشاں منزل کی طرف گامزن۔ بلآخر اوکاڑہ پہنچ گیا۔ اوکاڑہ ابھی چھ یوم کا نوزائیدہ ضلع تھا۔ اُس وقت کے کلرک آف کورٹ اور موجودہ دور کے سپرنڈنڈنٹ یا سٹاف آفیسر سیشن کورٹ کے کمرہ میں چارج رپورٹ تیار کر رہا تھا کہ اوکاڑہ کے اُس وقت کے سول سائڈ پر معروف وکیل چوہدری عبدالشکور سلیمی کوئی نئی سول اپیل دائر کرنے کے لیے COC کے کمرہ میں آئے۔ میرا اُن سے تعارف ہوا۔ اُنہوں نے مجھے کہا کہ جج صاحب آپ شکر کریں کہ اوکاڑہ کی دو سرکردہ برادریوں سے آپکا تعلق نہ ہے۔ اسلیے آپ یہاں اچھی نوکری کر جائیں گے۔ اُن دو برادریوں میں سے ایک سے اُنکا اپنا تعلق بھی تھا۔ مجھے یہ بات عجیب لگی کہ کیا جج اور بار بھی برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں۔

بہرحال چارج رپورٹ کی تیاری کے بعد اُس وقت کے فاضل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک احمد نواز مرحوم جو بعد ازاں عدالت عالیہ کے جج بھی رہے سے ملاقات کا مرحلہ آگیا۔ ملک صاحب ایک سادہ اور درویش صفت انسان تھے۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ سیشن جج کا چیمبر دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی اور دلکش سروس سٹرکچر کا ذہن میں بنا بنایا سارا نقشہ دھڑام سے نیچے آ گرا۔ سیشن جج کے چیمبر میں ایک خستہ سی بغیر کسی بریزر یا کپڑا کے میز، چند سادہ کرسیاں، بغیر پردوں کے کھڑکیاں اور قالین کے بغیر فرش۔ نہ اے۔سی۔ نہ کولر۔ غالباً نیا ضلع ہونے کی وجہ سے یہ عدالت کسی سول جج کے زیر استعمال تھی جو اب سیشن کورٹ میں تبدیل کر دی گئی۔ یہ کسمپرسی کا دور بھی ہماری ضلعی عدلیہ نے دیکھا ہے۔

موجودہ دور کے سیشن جج کے چیمبر کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے ایگزیکٹو سوئٹ نظر آتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ میرے بطور سیشن جج لاہور کے زمانہ میں ایک مرتبہ عزت مآب سیّد منصور علی شاہ صاحب بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ہمراہ چند فاضل ججز کے پاکستان کی پہلی GBV کورٹ کا افتتاح کرنے سیشن کورٹ لاہور تشریف لائے۔ جناب سیّد منصور علی شاہ صاحب اپنی


وضع داری، رکھ رکھاؤ اور اعلیٰ حُسن ذوق میں بے مثال ہیں۔ اور اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی اور تعریف و توصیف کا بڑا دلرُبا انداز رکھتے ہیں۔ وہ سیشن جج لاہور کے چیمبر میں بھی تھوڑی دیر رکے اور سیشن جج لاہور کا نو تزئین شدہ چیمبر دیکھنے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوئے کہ “ عابد اپنا چیمبر میرے ساتھ تبدیل کر لو”۔ یہ ایک بڑے آدمی کا اپنے ما تحت کے لیے بھر پور ستایش اور تحسین کا اظہار تھا۔ لیکن وہ جنہوں نے میری طرح سروس کا آغاز تین چار دہائیاں قبل کیا تھا انہوں نے بخوبی یہ سارا دور دیکھا ہے جس میں وسائل کے لحاظ سے ضلعی عدلیہ بڑی کسمپرسی کے عالم میں تھی۔ قلیل تنخواہیں، نا مناسب بجٹ، وسائل مفقود۔ نہ گاڑیاں۔ نہ گھر۔ نہ ڈھنگ کی عدالتیں۔نہ چیمبر۔ لیکن اسکے باوجود عدلیہ کی کارکردگی مثالی تھی۔ اُس دور میں ہم نے بڑے نامور جج پیدا کیے۔ بڑے بڑے قدآور اور سخت منتظم سیشن جج بھگتائے جن کا موجودہ دور کے جوڈیشل افسران شاید تصوّر بھی نہ کر سکیں۔


ذرا چشم تصوّر سے دیکھیں کہ 1980 کی دہائی میں پنجاب میں کس پایہ کے ڈسٹرکٹ جج کام کر رہے تھے۔ لیجنڈ چوہدری فضل کریم، ملک اختر حسن، شیخ عبدالوحید، خواجہ احسان الحق، نفیس احمد باجوہ، عبدالمجید ٹوانہ، میاں غلام احمد، چوہدری محمّد نسیم، احسان الحق سیٹھی، عبدالحفیظ چیمہ، ملک محمّد امیر، ملک خضر حیات، میڈم جزیلہ اسلم کے والد گرامی چوہدری محمّد اسلم اور شیخ سعید احمد جن کا ذکر سیالکوٹ بار کے حوالہ سے کر چکا ہوں۔ یہ لوگ اپنی ذات میں پورا ادارہ تھے۔ یہ سبھی بڑے قد کاٹھ کے لوگ تھے۔ حفظِ مراتب کا واضح خیال، قانون پر مکمل دسترس، نظم و ضبط میں بے مثال، فقر و غنا کے پیکر۔ کسی بھی طرح ہمارا مقابلہ ان لوگوں سے نہ ہے۔ سول جج اور سیشن جج میں واضح فاصلہ۔ بعض اوقات تو اپنے سیشن جج صاحب سے ملاقات بھی مہینوں بعد ہوتی۔ بے تکلفّانہ ماحول اور چائے وغیرہ سرو کرنا معمول نہ تھا۔ یہ عیاشی کبھی کبھار ہی میسّر آتی۔ لیکن سیشن جج صاحب کا نارمل عرصہ تعیناتی تقریباً تین سال ہوتا۔ اور اکثر سینئر سیشن جج صاحبان سے پونے تین سال بعد یہ پوچھا جاتا کہ اب کس طرف کوچ کرنا ہے۔ اور حتی الوسع انکے چائس کے مدّنظر نئے ضلع میں تعیناتی کر دی جاتی۔ جہاں پنجاب میں اضلاع صرف 20/22 تھے وہاں سیشن جج بھی تقریباً 40/45 کے قریب ہی ہوتے تھے۔اسلیے ضلع حاصل کرنے کے لیے بہت ساری رسّہ کشی نہ ہوتی تھی۔

یہاں ایک نہایت نفیس، شفیق اور وضع داری اور اعلیٰ اقدار کی پہچان میری مراد جناب اعجاز نثار صاحب کی ذات گرامی سے ہے کا ذکر کرنا نہایت اھم ہے۔ اُن دنوں وہ لاء سیکرٹری پنجاب کے عہدہ جلیلہ پر کام رہے تھے۔ ہمارے سروس جوائن کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے جو سب سے پہلے غالباً 1983 میں تین سیشن جج صاحبان عدالت عالیہ لاہور کے جج بنائے گئے اُن میں رجسٹرار ہائی کورٹ شیخ عبدالوحید مرحوم، سیشن جج لاہور ملک اختر حسن اور صوبائی سیکرٹری لاء شیخ اعجاز نثار صاحب شامل تھے۔ جناب اعجاز نثار بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ کیا بھلے وقت تھے کہ رجسٹرار، سیشن جج لاہور اور لاء سیکرٹری تینوں سینئر ترین لوگ ہوتے تھے۔ اور اُنکی پوسٹنگ اس بات کی غمازّی ہوتی تھی کہ یہ جلد ہائی کورٹ کے جج بنا دیے جائیں گے۔ نہ کھینچا تانی تھی۔ نہ سازشیں۔ نظام یقیناً قواعد و ضوابط کے مطابق چل رہا تھا۔ پھر یہ سب باتیں خواب و خیال ہو کر رہ گئیں۔ سسٹم قصور وار ہے یا ہم خود یا ہم دونوں تعیّن کرنا مشکل نہ ہے۔

میں نے جس دن اوکاڑہ جوائن کیا تو میری طرح وہاں نئے تعینات ہونے والے سینئر سول جج منصور علی خاں رخصت پر تھے۔ لہذا ٹریننگ کے لیے سول جج درجہ اول خالد میاں کے ساتھ بٹھا دیا گیا۔ خالد میاں نہایت محنتی اور competent جج تھے۔ زبان کے نرم مگر مزاج کے سخت تھے۔ کیا خوبصورت نستعلیق اردو میں انٹیرم آرڈر لکھتے، درمیان میں فارسی کی آمیزش۔ انگلش ثقیل اور اعلی معیار کی لکھتے۔ پندرہ یوم انکے ساتھ ٹریننگ کو بھرپور انجوائے کیا۔ اُنہوں نے مزید شفقت یہ بھی کی کہ وہاں کوئی سرکاری گھر یا ریسٹ ہاؤس خالی نہ تھا کہ وہاں قیام ہوتا۔ لہٰذا بابا فرید شوگر مل کا ایک ریسٹ ہاؤس جو عدالتوں کے قریب ہی تھا وہاں اپنے ساتھ میری رہائش کا بھی بندوبست کر دیا۔ بلکہ ہم دونوں ایک کمرا میں ہی کچھ عرصہ رہے۔ پندرہ یوم بعد نئی عدالتیں شروع کرنے کا مرحلہ آیا تو سب سے جونیئر ہونے کی وجہ سے اور اوکاڑہ ایک دم ضلع بن جانے کے باعث پرانی تحصیل کی عدالتیں کم پڑ گئیں۔ کئی روز تک میرے لیے کمرے کی تلاش جاری رہی۔ ایک دن تحصیل کے اندر واصل باقی نویس کا کمرا مجھے دے دیا گیا۔ نہ ڈائس، نہ فرنیچر۔ ایک جوان لڑکا سائیکل پر اندر آیا۔ میری میز سے ٹائر مارا اور مجھ سے پوچھا کے واصل باقی نویس کہاں ہے۔ میں بڑا دلبرداشتہ ہوا۔ فوری اُٹھا اور سینئر سول جج منصور علی خان جو کہ بہت ہی وضع دار اور فہم و فراست کے پیکر ہیں انہیں ماجرا سنایا۔خوب ہنسے۔ اُسی وقت سیشن جج صاحب سے بات کی اور صدر بار جو اُس وقت سیّد کوثر علی شاہ ایڈوکیٹ تھے اُنکی وساطت سے بار روم کی لائبریری میں میری عدالت لگائی گئی۔ واش روم بار روم کا استعمال ہوتا رہا۔ اور کرکٹ میچ بھی بار روم میں دیکھنے میں کوئی ممانعت نہ تھی۔

اوکاڑہ پوسٹنگ کے دوران لان ٹینس سیکھنی شروع کی۔ اپنی سپورٹس مین بیک گراؤنڈ کی وجہ سے جلد ہی ٹینس میں کافی مہارت حاصل کر لی۔ ہمارے سیشن جج ملک احمد نواز مرحوم خود تو کم ہی کلب آتے البتہ ساتھ والے ضلع ساہیوال کے سیشن جج چوہدری عبدالسعید صابر مرحوم کے ساتھ اُنکے بڑے دوستانہ مراسم تھے۔ سعید صابر صاحب بڑے سپورٹس loving اور ٹینس کے بڑے شوقین تھے۔ انکے دو بیٹے شازب سعید موجودہ سیشن جج اور انکے چھوٹے بھائی دونوں ٹین ایجرر اور ٹینس کے اچھے کھلاڑی تھے۔ سعید صابر صاحب نے دو مرتبہ ہمیں ساہیوال جمخانہ کلب بلا کر میچ کھلوائے۔ ایک دفعہ تو ہمارا مقابلہ مرحوم اسلم کھوکھر صاحب جو اُس وقت ایڈیشنل سیشن جج ساہیوال تھے اُنکی ٹیم کے ساتھ بھی ہوا اور ہم جیت گئے۔ مرحوم اسلم کھوکھر صاحب بڑے نیک نام مگر غصیلی طبیعت کے جج مشہور تھے۔ میچ ہارنے کے بعد Reaction بڑا مزیدار تھا جو اب بھی نہیں بھولا۔ کیا اچھے وقت تھے۔ شام کو کلب میں گیم کے بعد ہلکی پھلکی گپ شپ سارے دن کی تھکاوٹ دور، صحت بھی ٹھیک اور دماغ بھی چُست۔ پھر آہستہ آہستہ یہ سب کچھ خواب و خیال بن کر رہ گیا۔ اوکاڑہ کلب سے جُڑی ہوئی کچھ یادیں انشاءاللہ آئندہ قسط میں۔

پورے ضلع میں کسی ایک آدھ سول جج کے پاس گاڑی ہوتی جو عموماً چھپا کر رکھی جاتی۔ اُس زمانے میں گاڑی، ٹیلی فون اور وی۔سی۔آر کی وجہ سے جوڈیشل افسران کافی خراب ہوتے۔ لوگوں کے زیر بار آنا پڑتا۔ ٹیلی فون کرنے اور سننے کے لیے COC کے کمرا میں جانا پڑتا یا انتظامیہ کے افسران سے راہ و رسم رکھنے پڑتے۔ تنخوائیں اتنی قلیل کے بتاتے ہوئے حجاب آتا۔ مگر جذبے جوان تھے۔ لگن اور محنت میں کوئی فرق نہ پڑتا۔ سول جج کلاس سوئم ہونے کی بنا پر سٹینو گرافر کی عیاشی میسّر نہ تھی۔ ہاتھ سے رات کو بیٹھ کر فیصلے لکھے جاتے۔ کبھی کبھار میرے سینئر ساتھی میرے ساتھ شفقت کرتے ہوئے اپنا سٹینو بھی عنایت کر دیتے۔

ماضی کی یہ ساری خوشگوار یادیں اب بھی ذہن کے نہاں خانوں میں اُسی طرح جلوہ فگن ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ اوکاڑہ میں اپنے پہلے سینئر سول جج منصور علی خان کی مخلصانہ اور بصیرت افروز رہنمائی، خالد میاں کی جلالی و جمالی شخصیّت، افضال حسین کاظمی کی بے لوث اور شفقت بھری رفاقت، مرحوم غلام رسول رانجھا کی معصومانہ مگر دیہاتی بصیرت افروز گفتگو اور ظفر سلطان کے زندگی سے بھرپور قہقہے اور خوش گپیاں بھلا کیسے فراموش کی جاسکتی ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔۔