پاکستان میں جلد کاروباری سرگرمیاں بحال ہوجائیں گی : زبیر طفیل

پاکستان کے ممتاز صنعت کار طفیل کیمیکلز کے سی ای او اوربزنس کمیونٹی کے ہردلعزیز رہنما زبیر طفیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں جلد کاروباری سرگرمیاں بحال ہوجائیگی ۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس نے بہت زیادہ اثر ڈالا ہے بعض شعبوں میں کام بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے کچھ انڈسٹریوں میں کام بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے مثال کے طور پر آٹو موبائل انڈسٹری ہے جہاں پچھلے مہینے ایک بھی گاڑی نہیں بکیں اپریل کے مہینے میں سیلز بالکل زیرو رہی ہے ایک بھی کار سیل نہیں ہوئی اسی طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری پر بہت منفی اثر پڑا ہے ٹیکسٹائل جو پاکستان کی مین ایکسپورٹ انڈسٹری ہے اور ڈینم کی ایکسپورٹ پر بہت برا اثر پڑا ہے ایکسپورٹ کم ہوکر رہ گئی ہے بڑی بڑی ایکسپورٹس ہماری امریکا میں جاتی تھی امریکہ کے بڑے بڑے سٹورز میں جاتی تھی اسی طرح یورپ میں ایکسپورٹ ہوتی تھی تو یہ انڈسٹری بہت بری طرح ہٹ ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ 13 ارب ڈالر کی تھی اور میں سمجھتا ہوں کے آنے والے دنوں میں یہ بہت بری طرح متاثر ہوگی صرف اپریل کے مہینے میں ہماری ایکسپورٹ 60 فیصد کم ہو چکی ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہورہی ہیں کیونکہ اگر انڈسٹری میں کوئی چیز بن بھی رہی ہے تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ باہر نہیں جا سکتی تھی سارا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا تھا لیکن ہم توقع کر رہے ہیں کہ رمضان کے مہینے کے بعد اور کورونا وائرس کے اثر میں کمی آنے کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اگر کوئی بہت زیادہ برے حالات نہ ہوئے تو ہماری ڈومیسٹک انوی چل پڑے گی لیکن جہاں تک ایکسپورٹ کا تعلق ہے جب تک امریکہ اور یورپ کی مارکیٹ بحال نہیں ہوگی ہماری مصنوعات وہاں تک نہیں پہنچ سکے گی آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 36 فیصد تھی وہ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے ہماری گارمنٹس کی اتنی زیادہ ایکسپورٹ نہیں ہے اللہ کا شکر ہے کہ ہماری ہوم ٹیکسٹائل اور دیگر انڈسٹری ٹھیک چل رہی ہے لیکن ہماری ڈومیسٹک مارکیٹ اس وقت تھوڑی سی سلو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو باہر سے آنے والے زرِمبادلہ کے ذخائر میں واضح کمی ہوگی صرف سعودی عرب سے 65 ہزار پاکستانیوں نے واپس آنے کے لیے رجسٹریشن کرا رکھی ہے اگر یہ لوگ واپس آگئے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں واضح کمی آئے گی کو سعودی عرب کی معاشی صورتحال خراب ہوئی ہے 70 ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر بیس ڈالر فی بیرل پر قیمت آچکی ہے کروڈ آئل کی مارکیٹ میں یہ سب کچھ صرف چار مہینے میں ہوا ہے سعودی عرب میں ویٹ ٹیکس پانچ فیصد تھا اسے انہوں نے بڑھا کر 15 فیصد کردیا ہے اس کا بہت منفی اثر آئے گا وہاں پر جو لوگ کما رہے ہیں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اگر وہاں کما رہی ہے تو ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکس کی نظر ہو جائے گا ہر چیز انہیں مہنگی ملے گی ۔بولو زیادہ پیسے اپنے ملک میں نہیں بھیج سکیں گے