انہوں نے امریکی اور اپنی حکومت کے دباؤ میں آنے کے بجائے استعفیٰ دے دیا تھا

جناب مخدوم شاہ محمود قریشی گدی نشین ہونے کے باوجود بڑے دھیمے مزاج کے آدمی ہیں۔ وہ میرے لئے اس وجہ سے بھی قابلِ احترام ہیں کہ انہوں نے امریکی اور اپنی حکومت کے دباؤ میں آنے کے بجائے وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور بعدازاں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔ ان کا دیرینہ خواب پنجاب کا وزیراعلیٰ بن جانا تھا، مگر وہ 2018کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست کھو بیٹھے تھے اور ان کو وزارتِ خارجہ پر قناعت کرنا پڑی۔ زبانی طیور کی یہ خبر گردش میں ہے کہ وہ آج کل وزیراعظم بن جانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ گیارہ مئی کو قومی اسمبلی اور بارہ مئی کو سینیٹ میں جس ہیبت ناک انداز میں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پر گرجے برسے ہیں اور سندھ کارڈ کی مالا جپتے رہے ہیں جس کا اب کہیں نام و نشان دکھائی نہیں دیتا، اس نے ان کی شخصیت پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں اور محب وطن حلقوں کو شدت سے محسوس ہوا ہے کہ بےوقت کی گھن گرج ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
کورونا وائرس کے حملے کے بعد وزیراعظم میدان میں سرگرم دکھائی دینے کے بجائے اعداد و شمار میں الجھ کر رہ گئے ہیں اور قیادت کے منصب سے غائب دکھائی دیتے ہیں۔ کورونا وائرس پر مفصل بحث کرنے کے لیے اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن دی تو قانون کے مطابق حکومت کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلانا پڑا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جناب شہباز شریف پہلے اجلاس میں اس لیے شریک نہیں ہوئے کہ ڈاکٹروں نے اجازت نہیں دی تھی مگر وزیراعظم عمران خان جو حسن اتفاق سے وزیر صحت بھی ہیں، ان کی عدم شرکت پر کڑی نکتہ چینی ہو رہی ہے کہ وہ پارلیمان کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ دوسرے روز سینیٹ کے اجلاس میں بھی نہیں آئے جس پر پیپلزپارٹی کی ممتاز لیڈر محترمہ شیری رحمٰن نے تشویش بھرے لہجےمیں پوچھا کہ ہمارے وزیراعظم غائب ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں پاکستان کے حکومتی امور کون چلا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح وہ کہیں گم ہیں اسی طرح کورونا وائرس سے نمٹنے کی ان کی کوئی حکمت عملی بھی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ وہ صحافت، سیاست اور سفارت کے میدانوں کی شہ سوار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عظیم الشان تعلیمی شخصیت پروفیسر جناب حسن علی عبدالرحمٰن کی صاحبزادی بھی ہیں جو سندھ یونیورسٹی کے سالہا سال وائس چانسلر رہے اور ان کے عہد میں درخشاں روایات قائم ہوئی تھیں۔

قومی اسمبلی میں جناب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اعداد و شمار کے ذریعے یہ ثابت کرتے رہے کہ کورونا ٹیسٹنگ کا پاکستان میں جو نظام قائم ہے وہ پورے جنوبی ایشیا میں سب سے بہتر ہے اور مرکزی حکومت تمام صوبوں کو معیاری آلات اور امدادی پیکیج فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے سندھ کی حکومت پر سندھ کارڈ استعمال کرنے اور وفاق کے منصوبوں میں روڑے اٹکانے کا الزام لگایا اور یہ بھی دھمکی دی کہ ہم نے جس طرح پنجاب میں اپنی سیاست کا لوہا منوایا ہے اسی طرح سندھ میں بھی اپنی طاقت کا لوہا منوانے آرہے ہیں۔ وہ ایک طرف اٹھارہویں آئینی ترمیم کا حوالہ دے رہے تھے اور دوسری طرف قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی بات کر رہے تھے کہ انہوں نے وفاق کو آئینی اختیارات اور مالی وسائل سے محروم کر دیا ہے اور اب ان تمام مسائل پر نظرثانی کا وقت آگیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین جناب بلاول زرداری نے وزیر خارجہ کی تقریر کے بعد قومی اسمبلی سے جو خطاب کیا، وہ سیاسی پختگی اور کمال جرأت کا شاہکار تھا۔ الفاظ جچے تلے اور اہداف بھی گنے چنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قریشی صاحب کی تمام تر اشتعال انگیزیوں کے باوجود اپنا وہی مؤقف دہراتا ہوں جو میں نے کورونا وائرس کے ظہور کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بیان کیا تھا کہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر ہماری قیادت فرمائیں اور ہم ان کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں گے۔ میری آج بھی یہی پیشکش ہے کہ یہ وقت محاذ آرائی اور سیاسی الزام تراشی کا نہیں بلکہ پوری قوت کے ساتھ کورونا وائرس کو شکست دینے، اپنے عوام کی جانیں بچانے اور انہیں روزگار فراہم کرنے کا ہے مگر ہم تعاون کی پیشکش کرتے ہیں تو وفاق ہمارے منہ پر طمانچہ رسید کر دیتا ہے۔ ہمیں سندھ کے ساتھ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا بھی شدید احساس ہے کہ وہ بھی وفاقی حکومت کی امداد سے محروم ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ سیاسی عمل کے جاری رہنے اور پُرامن انتقالِ اقتدار کی صحت مند روایت قائم ہو جانے سے سندھ کارڈ اپنی موت آپ مر چکا ہے اور سندھ کے عوام قومی دھارے میں شامل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی خوشگوار تبدیلی آ رہی ہے اور اقتدار میں عام لوگوں کی شمولیت سے علیحدگی اور عسکریت پسندی کی تحریکیں دم توڑتی جارہی ہیں۔ اس وقت اہم ترین ضرورت اس امر کی ہے کہ جن معاملات میں قومی اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے، اس کا پورا پورا تحفظ کیا جائے۔ 2010کے اوائل میں سیاسی جماعتوں نے 1973کے دستور کو اصل شکل میں لانے اور صوبائی خودمختاری کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کا فیصلہ کیا اور انتہائی رازداری سے ترامیم پر غور و خوض شروع ہوا۔ اس کاوش میں سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر اسحاق ڈار پیش پیش تھے۔ جب اٹھارہویں ترمیم قومی اتفاق رائے سے منظور ہو گئی اور صوبائی خودمختاری کا مسئلہ حسن و خوبی سے طے پایا گیا ہے، اس کااحترام اب ہماری قومی ذمہ داری ہے۔سندھ میں گورنر راج لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں مگر یہ اقدام قومی وحدت کے لیے سخت خطرناک ثابت ہوگا۔ یہی معاملہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا بھی ہے۔ وفاقی محاصل میں صوبوں کا 57.5فیصد حصہ طے پا چکا ہے اس میں فوری طور پر کسی نوع کا ردوبدل ایک بڑے طوفان کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔
پاکستان کو بدقسمتی سے اس وقت گوناگوں چیلنجوں کا سامنا ہے اور کورونا وائرس نے اس کا پورا نظام زندگی تلپٹ کر ڈالا ہے۔ آج کے غیریقینی حالات میں تنازعات پیدا کرنے کے بجائے اتحاد اور یگانگت کی فضا قائم رکھنا ازبس ضروری ہے۔ ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ بلاول زرداری جیسے ذی شعور نوجوان قومی سیاست میں اپنا مقام پیدا کر رہے ہیں۔ جو سیاسی گھن گرج کا جواب متانت، دلیل اور قومی شعور کے ساتھ دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔
Altaf Hassan Qureshy jang