سندھ ہائیکورٹ نے حکومت سندھ کو صحافیوں کی ڈبل سواری سے متعلق پابندی پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کردی

سندھ ہائیکورٹ میں صحافیوں کی ڈبل سواری سے متعلق پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،
دوران سماعت ایڈیشل ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیے کہ میڈیکل ایمرجنسی میں ڈبل سواری کی اجازت ہے پنجاب اور کے پی کے میں بھی ڈبل سواری پر پابندی ہے،حکومت نے صحافیوں اور خاتوں فیملی ممبر کے ساتھ ڈبل سواری پر اجازت دی تھی مگر عوام کی جانب سے اجازت کا غلط استعمال کیا گیا جس پر دوبارہ پابندی عائد کردی، جس پر درخواستگزار سینئرصحافی عمیرعلی انجم نے موقف اختیار کیا کے ڈبل سواری پر پابندی سے صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے میڈیا کے حالات ایسے ہیں، اسائنمنٹس موٹر سائیکل پر کور کرنے جانا پڑتا ہے ملکی قوانین اور ایس او پیز عملدرآمد صحافیوں سے زیادہ کوئی بھی نہیں کرتا سندھ حکومت صحافیوں کی ڈبل سواری پر پابندی ہٹا دیں، صحافی تمام ایس او پیز پر عمل کریں گے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے اداروں پر ڈبل سواری کی پابندی کے بعد کراچی میں جرائم میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جن تنگ گلیوں میں پولیس کی گاڑی نہیں جا سکتی وہاں موٹر سائیکل پر پولیس اہلکار پیٹرولنگ کرتے تھے جس پر فوکل پرسن اے آئی جی لیگل نے عدالت کو بتایا کے پولیس کو بھی ڈبل سواری پر پابندی کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کورونا وائرس کی وجہ سے محکمہ داخلہ سندھ نے پابندی عائد کی ہے مجبورا عملدرآمد کررہے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کے جب پبلک ٹرانسپورٹ، رکشہ ٹیکسی بند ہے تو لوگ سفر کس طرح کریں گے ۔ صحافی ایک اہم طبقہ ہے سندھ حکومت کو پابندی لگانے سے پہلے سوچنا چاہئے تھامارکٹیں کھول دی گئیں ہیں، لاک ڈاؤن میں نرمی کردی گئی تو پھر ڈبل سواری پر پابندی کے معاملے پر بھی نظر ثانی کرنی چاہئے،جس پر عدالت نے سندھ حکومت کو اپنے نوٹیفکیشن کا جائز لیکر فیصلے میں نظر ثانی کرے کی ہدایت کردی