شاہد آفریدی۔ ہوپ ناٹ آؤٹ

میرا سارا بچپن سعودی عرب میں گزرا ہے۔ وہاں تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ کرکٹ میچ دیکھنا ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کیسے ابو سارے کام نبٹا کر میچ دیکھنے کے لیے گھر آ جاتے تھے۔


میچ شروع ہو جاتا اور جب پاکستانی وکٹیں تیزی سے گرنا شروع ہوتیں تو ہماری امیدوں کا محور ایک ہی کھلاڑی ہوتا تھا اور وہ ہے بوم بوم آفریدی۔ ابو ہمیں حوصلہ دیتے کہ دیکھنا ابھی آفریدی آئے گا اور چوکوں چھکوں کے ساتھ تیزی سے سکور پورا ہو جائے گا۔ بھائی شرطیہ بیان جاری کرتے کہ میچ جتوانا ہی آفریدی نے ہے۔ میچ ختم ہونے پر بھی بات ختم نہیں ہوتی تھی بعد میں آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے کے لیے میچ دوبارہ دیکھتے تھے۔ اس طرح دیار غیر میں وقت کو یادگار بنانے کا موقع ملتا تھا۔

اب کچھ سال پہلے پاکستان شفٹ ہوئے ہیں، یہاں کے حالات بہتر نہیں ہیں۔ لوگ مشکلات کا شکار ہیں، اور پھر میڈیا میں جاب شروع ہو گئی تو آئے روز غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر خودکشی کرنے والوں کی خبریں پریشان کیے رکھتی ہیں۔ سیاست کی غرض سے آنے والے آتے جاتے رہتے ہیں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لیے آنے والے مرتے دم تک ساتھ رہتے ہیں۔ جیسے عبدالستار ایدھی تھے۔ سڑک کے کنارے بیٹھ کر چندہ اکٹھا کرنے سے جنازے کے پروٹوکول سے پہلے تک ان کی ساری زندگی انسانیت کے ساتھ وابستہ رہی۔ اسی طرح بہت سی شخصیات اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے دل و جان سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔

ان میں ایک بہترین اضافہ میرے پسندیدہ کھلاڑی بوم بوم آفریدی کا ہے۔ انکے کرکٹ کیرئیر کے دوران مختلف ویب سائٹ سے معلومات اکٹھی کرنا میرا مشغلہ ہوتا تھا، کس میچ میں انہوں نے سنچری کی، کس میچ میں وہ مین آف دی میچ رہے، کون سے کرکٹ ایونٹ میں انہوں نے آ کر پاکستانی ٹیم کو ہارنے سے بچایا۔ ان کے متعلق باخبر رہنے کے لیے ان کے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ کو بھی فالو کیا ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں وہ کسی ویران جگہ پہ راشن کا تھیلا اٹھائے جا رہے ہیں اور کچھ دیر بعد ایک گھر نظر آتا ہے جس کے مکین خوشی سے بھاگتے ہوئے شاہد آفریدی کی طرف آ رہے ہوتے ہیں۔

میں نے تو ان ہاتھوں کو کرکٹ کی ٹرافی اٹھائے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے اس کرکٹ گراؤنڈ کا نام بھی یاد ہوتا تھا جہاں کی وہ تصویر یا ویڈیو ہوتی تھی۔ مگر اس جگہ کے متعلق علم نہیں تھا۔ میں نے فیس بک پر سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ بلوچستان میں کسی دور دراز دیہی علاقے کی ویڈیو ہے۔ ان کے کرکٹ کیرئیر کو فالو کیا مگر اب وہ کرکٹ سے زیادہ اہمیت کے حامل کام سے وابستہ ہیں تو ان کے کام سے متعلق باخبر رہنا زیادہ ضروری ہے۔

ٹویٹر پہ جب دیکھا تو کسی تصویر میں وہ راشن تقسیم کر رہے ہیں اور کسی تصویر میں رقم بانٹ رہے ہیں۔ کرونا کی وبا نے ہمیں گھروں تک محدود کر دیا ہے۔ یہ بڑے حوصلے کی بات ہے کہ ان دنوں سفر کرنا اور لوگوں کے پاس جا کر ان کی مشکلات کو حل کرنا۔ کسی کی مدد کرنا اور مدد کے اس عمل میں اس مجبور کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچانا ایک آرٹ ہے اور بہت بڑی نیکی ہے۔ آفریدی فاؤنڈیشن کے ہر کام میں یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ امداد وصول کرنے والوں کے چہرے چھپائے ہوئے تھے۔ امداد کے عمل میں یہ ایسا ہوتے کم دیکھا وگرنہ ہمارے ہاں جس کی مدد کی جائے اس کے چہرے کو دکھایا جاتا ہے کہ ہم نے اس کی مدد کی ہے۔

ہمارے ہاں اکثر یہ ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں امدادی سامان تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ اس کی تشہیر میں آسانی ہو سکے مگر شاید آفریدی فاؤنڈیشن شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے پتہ چلا کہ بلوچستان میں وہ زیارت، پشین، مستونگ اور خضدار کے علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے گئے جو یقیناً ایک مشکل کام تھا مگر شاہد آفریدی اور ان کی ٹیم نے بڑے خوبصورت انداز میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ!
علامہ اقبال

شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا موٹو ہوپ ناٹ آؤٹ اس شعر کی تشریح ہے جو مایوسی کے اس دور میں امید کی کی ایک کرن ہے۔ ویسے بھی ایک کھلاڑی کا جذبہ عام شہری سے مختلف ہوتا ہے، اس میں نظم و ضبط ہوتا ہے جو کام کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس مشکل کی اس گھڑی میں شاہد آفریدی بہت سے چہروں پہ مسکراہٹ لانے میں کامیاب ہوں گے۔ اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر جگہ جائیں گے اور خدمت خلق کے اس ایونٹ میں مین آف دی میچ بنیں گے۔

Maham-Aslam-