صدر ایوب خان نے انھیں ایک مزیدار قصہ سنایا

کرونا کی وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت نے ڈیڑھ ماہ قبل جو لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا اس میں نرمی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ حکومت کا استدلال یہ ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے آغاز سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوگا۔ لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی نام کی کسی شے کا وجود شاید ہے ہی نہیں۔ دوسرے صوبوں کو تو چھوڑیئے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جہاں تحریک انصاف کی براہ راست حکومت ہے وہاں بھی وفاق اور صوبوں کے مابین اتفاق رائے ناپید ہے۔

حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ ہفتے میں صرف ایک دن میں نئے کنفرم کیسز کی تعداد 2300 کے قریب اور ہلاکتیں 37 تھیں۔ معاشی ابتری اور سماجی صورتحال اب اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ جہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کیے بغیر کوئی دوسرا حل موجود نہیں۔ اب اس وبا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر عوام اور دکاندار حضرات کو اختیار کرنی ہوں گی ں۔

لیکن بازاروں میں بے احتیاطی کی جو روش عوام نے اختیار کررکھی ہے وہ تشویش ناک ہے۔ لیکن ابھی تک یہ ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومتیں اور انتظامیہ ہنگامی صورتحال میں بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم رہے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا حال یہ ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ لوگ معاشی طور پر مر جائیں گے اور اگر حکومت لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کرتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ لو گ کرونا کا شکار ہوجائیں گے۔

حکومت نے جو قرنطینہ سینڑ قائم کیے ہیں وہاں ”مقید“ لوگوں کی حالت زار کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھی جاسکتی ہیں اور ان قرنطینہ سینٹر ”تزئین و آرائیش“ پر جو بھاری رقم خرچ ہوئی اس پر بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ حسرت ؔنے تو اپنی طبیعت کے بارے کہا تھا کہ طرفہ تماشا ہے، مگر یہاں تو سارا کا سارا نظام ہی طرفہ تماشا ہے۔

عام طور پر یہ گمان ہے کیا جا تا ہے کہ اقتدار اور اختیار کے سنگھاسن پر براجمان افراد بے پناہ فہم اور بصیرت کے حامل ہوتے ہیں، لیکن اب تک کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عملی طور پر صورت حال بالکل مختلف ہے۔ میں یہاں ائر مارشل اصغر خان مرحوم کی کتاب ”یہ باتیں حاکم لوگوں کی“ اور الطاف گوہر صاحب کی کتاب ”تحریریں چند“ میں درج چند ایک واقعات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، جو ہمارے حکمرانوں کے فہم و فراست کے معیار کو سمجھنے کے لیے کافی ہوں گے ۔

ائر مارشل اصغر خان بتاتے ہیں کہ صدر ایوب خان نے انھیں گورنر جنرل غلام محمد کے بارے میں ایک مزیدار قصہ سنایا، بات 1950 ء کے وسط کی ہے جب ایوب خان کمانڈر انچیف تھے اور گورنر جنرل قوت گویائی بیماری سے متاثر ہوچکی تھی اور وہ لندن میں تھے۔ انہوں نے ایک روز ایوب خان کو لندن سے ٹیلی فون کیا اور پندرہ منٹ پرجوش انداز میں گفتگو کی۔ ایوب خان کے پلے ایک لفظ بھی نہ پڑا۔ انہوں نے مدد کے لیے کراچی میں اپنے دوست اور سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا کو فون کیا اور بتایا کہ پندرہ منٹ بات ہوئی مگر کوئی بات سمجھ نہ آئی۔ اسکندر مرزا نے کہا فکر نہ کرو گورنر جنرل نے ابھی مجھ سے بات کی ہے، وہ بتا رہے تھے کہ ایوب خان سے بڑی ہی تسلی بخش بات چیت ہوئی ہے۔

ایوب خان کو خوش گمانی تھی کہ ان کی اصلاحات سے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جن میں سے ایک اصلاح بکری کو ختم کرنا تھا اور انہوں نے ایک حکم کے ذریعے بکریاں پالنے کی ممانعت کردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں بکریوں اور اونٹوں نے سر سبز علاقوں کو ریگستان میں تبدیل کر دی ہے۔ بکر ی جس جھاڑ یا درخت پر منہ مارتی ہے اس کے لعاب کے ذریعے زہر سارے درخت میں سرایت کرجاتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اسپین عربوں کے حملے سے پہلے سرسبز و شاداب تھا لیکن عرب اونٹ اور بکریاں بھی ساتھ لائے جس سے ساری سرسبز و شادابی ختم ہوگئی جسے بعد میں فرانکو نے اقتدار سنبھالنے کے بعد زیتون کی کاشت کو وسعت دے کر بحال کیا۔ ایوب خان کے حکم سے فوجی میسوں میں بڑے گوشت اور بھیڑوں کی بجائے بکری کا گوشت بنایا جانے لگا تاکہ بکریوں کا خاتمہ ہوسکے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بکری کی طلب میں اضافہ ہوگیا اور لوگوں نے زیادہ بکریاں پالنا شروع کردیں۔

الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد وزیر مالیات غلام محمد نے کہا کہ ادائیگی کے وعدہ کو پاکستانی نوٹوں پر اردو میں درج کیا جائے۔ جس کی ذمہ داری الطاف گوہر صاحب کو سونپی گئی۔ عبدالقادر جو بعد میں وزیر خزانہ بھی بنے وہ الطاف گوہر صاحب کے افسر تھے جو اتنے احتیاط پسند تھے کہ جو فائل الطاف گوہر ان کے پاس لاتے وہ اسے بھی ان سے چھپا لیتے تھے۔ فیصلہ ہوا کہ نوٹ پر چاند کی تصویر ہونی چاہیے ۔ چاند کے مختلف ڈیزائین عبدالقادر وزیر خزانہ کے پاس لے جاتے لیکن یہ نہ بتاتے کہ انہوں نے کون سا ڈیزائن منظور یا پسند کیا ہے۔ برطانیہ کی فرم BRAN DBURY WILKINSON کو نوٹ چھاپنے کا ٹھیکہ دیا گیا۔ جب نوٹ چھپ کر آگئے تو الطاف گوہر کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ نوٹوں کے بکسے کراچی بندرگاہ سے لے کر ڈرگ روڈ میں آرمی آرڈیننس ڈپو کے تہہ خانے تک پہنچادیں۔ صبح جب سر بمہر لفافہ جس میں مختلف قیمت کے نوٹ رکھے ہوئے تھے عبدالقادر کو دیا تو لفافہ کھولتے ہیں عبدالقادر برس پڑے ”نوٹوں پر چاند غلط چھپ گیا ہے۔“ نوٹوں پر چاند ہلال کی طرح دمکنے کی بجائے بدر کی طرح لرز رہا تھا۔ اتنی احتیاط اور منصوبہ بندی کے باوجود پاکستان کے پہلے کرنسی نوٹوں پر چاند بدر کی حالت میں تھا اور نوٹوں کو دوبارہ چھپوانا پڑا۔

سہروردی صاحب کے بعد ملک فیروز خان نون آئے تو انہوں نے الطاف گوہر کو اپنا ڈپٹی سیکرٹری رکھ لیا۔ الطاف گوہر ایک میٹنگ کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک روز ملک صاحب نے مجھے بلایا، ان کے پاس کسی یورپین کپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر بیٹھا تھا اور ملک صاحب مزدروں کے قانونی حقوق کے بارے میں کسی نکتے کی وضاحت فرما رہے تھے، بیچ میں دو ایک دفعہ انہوں نے میری طرف دیکھا مگر میں خاموش کھڑا رہا۔ مہمان چلا گیا تو ملک صاحب نے ذرا خفگی سے مجھے کہا ”تم نے تو کوئی بات ہی نہ کی۔

“ میں نے عرض کیا کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے وہ متعلقہ قانون کے بالکل برعکس تھا، بولے ”میں تمھیں ترکیب بتاؤں، ایسے موقع پر اپنے کان کو مروڑا کرو، اس سے مجھے غلطی کا اندازہ ہوجائے گا“ ۔ میں نے عرض کیا ”حضور اس ترکیب سے تو یہ صورت بھی پیدا ہوسکتی ہے کہ میں دونوں کان پکڑے ہوئے پایا جاؤں اور دیکھنے والا سمجھے کہ میں معافی مانگ رہا ہوں۔“

یہ ہے انداز فکر ہمارے حکمرانوں کا جنھیں ہر دور میں یہ زعم رہا کہ ”ہم نہیں تو کون“ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا اہل ہے۔

محمد یاسر عرفات مسلم